’’سرسوتی مندر‘‘ قرار دیکر بھگوا عناصر کے حوالے کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چیلنج کردیاگیا
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 12:47 AM IST | New Delhi
’’سرسوتی مندر‘‘ قرار دیکر بھگوا عناصر کے حوالے کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چیلنج کردیاگیا
مدھیہ پردیش کے دھار میں کمال مولیٰ مسجد کو ’’سرسوتی مندر‘‘ قرار دے کر اسے بھگوا عناصر کے حوالے کردینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو مسلم فریق نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کردی۔ مسلمانوں کی جانب سے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے متنازع فیصلے کے خلاف مسلم فریق کی جانب سے یہ پہلی عرضی ہے جو مسجد کے متولی قاضی معین الدین نے داخل کی ہے۔ قاضی معین الدین مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں مقدمہ میں مداخلت کار کے طور پر شریک تھے۔ مسلمانوں کی جانب سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور کمال مولیٰ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی بھی مقدمہ میں فریق تھے۔ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے روک لگانے کی استدعا کی گئی ہے تاہم اس میں فوری راحت کی امید کم ہے۔فیصلے کو چیلنج کئے جانے کے امکان کے پیش نظر ہندو فریق پہلے ہی سپریم کورٹ میں کیویٹ عرضی داخل کر چکا ہے تاکہ اس کا مؤقف سنے بغیر کوئی یکطرفہ حکم جاری نہ کیا جائے۔
فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مسلم فریق نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ محکمہ آثارِ قدیمہ(اے ایس آئی) کے شواہد کے برخلاف ہے اور عبادتگاہوں کے تحفظ سے متعلق ۱۹۹۱ء کے قانون (پلیسز آف ورشپ ایکٹ) کی روح کے منافی ہے۔ ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کے ۲۰۰۳ء کے اُس نظم کو بھی منسوخ کر دیا جس کے تحت کمال مولیٰ مسجد کے احاطہ میں منگل کو ہندوؤں کو پوجا کی اور جمعہ کو مسجد میں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے یہ بھی تجویز دی کہ اگر مسلم فریق درخواست دے تو مدھیہ پردیش حکومت ضلع دھار میں مسجد کی تعمیر کیلئے مناسب زمین مختص کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
مسلمانوں نے مقدمہ کی شنوائی کے دوران دلائل کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ محکمۂ آثار قدیمہ کا حال ہی میں سائنسی طریق تفتیش ناقص تھا اور فریق مخالف کے دعوے کو تقویت عطا کرنے والا تھا۔ مسلم فریق نے ۱۹۳۵ء کے گزٹ پر زیادہ انحصار کیا جو اُس وقت کے صوبہ دھار انتظامیہ نے جاری کیا تھا۔ اس گزٹ نے عمارت کو مسجد تسلیم کیا اور مسلمانوں کے نماز ادا کرنے کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی اور دیگر نے یہ دلیل بھی دی کہ کمال مولیٰ مسجد میں ۴۰۰؍ سال سے زائد عرصہ تک نماز ادا کی گئی اور اس کی حیثیت کو تبدیل کرنا مذہبی استعمال کی خلاف ورزی ہوگی۔ یہ بھی کہا کہ احاطے میں پانی کا جو ٹینک ہے وہ مصلیان کے وضو کیلئے بنایا گیا تھا۔
آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے بھی اس ضمن میں جلد ہی پٹیشن داخل کئے جانے کی امید ہے۔ بورڈ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ’’تاریخی حقائق، شواہد اور خود محکمہ آثار قدیمہ کے سابقہ موقف کے خلاف‘‘ قرار دیا ہے جبکہ جمعیۃ علمائے ہند نے اسے ’’اکثریتی سیاست کو عدالتی جواز‘‘ کے رجحان سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کےاندیشے صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے کمال مولیٰ مسجد کے بارے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کوغلط، غیر منصفانہ، تاریخی شواہد اور سرکاری ریکارڈز کے خلاف نیز خود محکمہ آثارِ قدیمہ کے سابقہ موقف سے متصادم قرار دیا۔بورڈ نے ۱۶؍ مئی کو جاری کئے گئے بیان میں اس قانونی لڑائی میں کمال مولیٰ مسجد کمیٹی کے سپریم کورٹ سے رجوع کے فیصلے کی تائید کی ہے۔