Inquilab Logo Happiest Places to Work

بینکنگ شعبہ میں اصلاحات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا منصوبہ

Updated: August 18, 2026, 12:54 PM IST | Agency | New Delhi

’’وکست بھارت‘‘ کے ہدف کیلئے نرملا سیتارمن نے اہم اعلان کیا، بتایاکہ کمیٹی ترقی یافتہ ہندوستان کیلئے بینکوں میں ضروری تبدیلیوں کا جائزہ لے کر سفارشات کریگی۔

Finance Minister Nirmala Sitharaman addressing a two-day conclave of public sector banks in Delhi. Picture: PTI
وزیر مالیات نرملا سیتارمن دہلی میں سرکاری بینکوں کے ۲؍ روزہ کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

مودی سرکارنے ۲۰۴۷ء  تک’’وکست بھارت‘‘ کا ہدف   حاصل کرنے  کیلئےبینکنگ شعبہ میں مزید اصلاحات کا  منصوبہ بنایا ہے۔   وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے  سرکاری بینکوں کے ۲؍ روزہ کانکلیو  سے خطاب کرتے ہوئے  پیر کو بتایا کہ حکومت رواں ماہ کے اواخر میں بینکاری شعبے میں اصلاحات کیلئے اعلیٰ اختیارات والی مذکورہ کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے، جو ’’وکست بھارت ‘‘کے ہدف کی جانب بڑھنے کے دوران بینکاری شعبے کی ضروریات کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی میں منعقدہ ۲؍ روزہ  کانکلیو میں ہونے والی بات چیت مجوزہ کمیٹی کیلئے اہم معلومات اور تجاویز فراہم کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے:سنیل متل نے ایئر ٹیل پیمنٹس بینک کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

کمیٹی کا قیام اسی مہینے

بینکاری کے تعلق سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اعلان سیتارمن نے پہلی بار مرکزی بجٹ۲۷-۲۰۲۶ء میں کیا تھا۔ اس کمیٹی سے امید کی جارہی ہے کہ وہ بینکاری شعبے کا جامع جائزہ لے گی اور ملک کی معیشت کی اگلی مرحلے کی توسیع میں معاونت کیلئے  اصلاحات تجویز کرے گی۔اس دوران مالی استحکام، مالی شمولیت اور صارفین کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔حکومتی ذرائع کے مطابق کمیٹی اسی ماہ تشکیل دی جا سکتی ہے۔

۲؍ روزہ کانکلیو کیوں ہورہاہے

دہلی میں وزارت خزانہ کا محکمہ مالیاتی خدمات  جو ۲؍ روزہ کانکلیومنعقد کر رہا ہےاس میں سرکاری شعبے کے بینکوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کو ۷؍ اہم شعبوں پر غور و خوض کیلئے اکٹھا کیا گیا ہے۔ ان میں بینکوں میں ڈپازٹس میں اضافہ، نوجوان صارفین کیلئے بینکاری خدمات کی سہولت میں  بہتری، سرمایہ کاری کے چکر کیلئےمالی تعاون، گلوبل کیپبلیٹی سینٹرس (جی سی سی) کا تعاون، زراعت اور باغبانی کی پیداوار کو کھیت یا باغ سے صارف تک پہنچانے والے پورے نظام کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، کریڈٹ کارڈ شعبے میں جدت اور ترجیحی شعبے کو قرض کی فراہمی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کے ڈیپ ٹیک سیکٹر نے ۲۰۱۵ء سے اب تک ۴ء۱۱؍ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی

اس کانکلیوکا مقصد قابلِ عمل تجاویز سامنے لانا اور ان شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں  ہندوستانی معیشت کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بینکاری اور مالیاتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

طویل مدتی اصلاحات کا منصوبہ

مجوزہ کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ ۲؍ روزہ کانکلیو میں ہونےوالے مباحثہ سے حاصل شدہ تجاویز کو بنیاد بناتے ہوئے بینکاری شعبے کو درپیش وسیع تر ساختی اور پالیسی مسائل کا جائزہ لے گی اور ملک کی طویل مدتی اقتصادی ترقی میں بینکاری شعبے کے کردار کیلئےسفارشات مرتب کرے گی۔

سفارشات کا فوری نفاذ ہوگا

وزیر خزانہ نےیقین دلایا کہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد حکومت اس کی تجویز کردہ سفارشات پر عمل درآمد میں تاخیر نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے گی، ہم اس کی سفارشات پر تیزی سے کام شروع کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:قطر سے ڈاک کے ذریعے ہندوستان میں رقم بھیجنے کی یو پی آئی پر مبنی تیز، محفوظ سہولت کا آغاز

سرکاری بینکوں کو ریکارڈ منافع

ملک کے سرکاری بینکوں کی حالت میں بہتری آرہی ہے۔۲۶-۲۰۲۵ء میں سرکاری شعبے کے بینکوں نے مجموعی طور پر ریکارڈ ۹۸ء۱؍ لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا خالص منافع درج کیا ہے۔ اس مضبوط مالی حالت کے باعث ہی حکومت اب بینکاری شعبے میں بڑی اصلاحات  کافیصلہ کیا ہے۔  وزیراعلیٰ نے بینکوں کے کانکلیو میں اعلان کیا کہ ملک کے بینکوں میں نان پرفارمنگ اسیٹس(این پی اے) اس وقت سب سے نچلی سطح پر ہیں

  کانکلیو  میں۷؍ اہم نکات پر غور
دہلی میں ۲؍ روزہ کانکلیو  ان ۷؍ اہم نکات پر بطور خاص غور کریگا:
۱) ڈپازٹس میں اضافہ اور جمع شدہ رقوم کو متحرک کرنا۔
۲)نوجوانوں کیلئےبینکاری خدمات کو مزید بہتر امکانات کی تلاش
۳) مالیاتی سرمایہ کاری کیلئے تعاون 
۴)گلوبل کیپبلیٹی سینٹر(جی سی سی) کا تعاون 
۵) زرعی پیداوار صارف تک پہنچانے والے نظام کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا
 ۶) کریڈٹ کارڈ کے شعبے میں جدت
۷) ترجیحی شعبوں کو قرض کی فراہمی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK