بارش ہونے کے باوجود شہر ومضافات کے دینی اداروں میں جوش وخروش کے ساتھ پرچم کشائی اور دیگر تقریبات کا انعقادکیا گیا۔ آئین کےتحفظ اور نفرت کے خاتمے کا بھی عہد کیا گیا
مدارس نےآزادی ٔوطن کی تاریخ اوراسلاف کی عظیم قربانیوں سے نسلِ نو کو واقف کرانے کا عہدکیا۔ بارش ہونے کے باوجود ۸۰؍ ویں یوم آزادی پر شہر اورمضافات میں دینی اداروں میں جوش وخروش کے ساتھ پرچم کشائی اور دیگر تقریبات کا انعقادکیا گیا۔ اس دوران طلبہ نے تقاریر اورمکالمے کےذریعے آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔
آزادی رسم نہیںایک امانت ہے
دارالعلوم امدادیہ (چونا بھٹی )کے صدر مولانا بدرالدین قاسمی نےجشن ِ آزادی کی تقریب میں اپنے خطاب میں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کاتذکرہ کرتے ہوئے برطانوی دورِ حکومت کو ظلم وستم ،نا انصافی اور امتیازی سلوک کا دور قرار دیا ۔ ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لئے ہمارے اکابرین اورمجاہدین نے اپنی جانوں کا ندرانہ پیش کیا۔‘‘
جامعہ قادریہ اشرفیہ(دوٹانکی ) سےمتصل میدان میںپرچم کشائی کی گئی ۔ ادارہ کے سربراہ مولاناسید معین الدین اشرف عرف معین میاں نےکہاکہ’’یوم ِآزادی کے موقع پرپرچم کشائی کوئی رسم نہیںیہ وہ امانت ہے جو ہمارے اسلاف کی عظیم قربانیوں کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے،چنانچہ اسے نسلِ نو تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘ جامعہ معراج العلوم (چیتا کیمپ )کے ذمہ دار مولانا محمدزاہد خان قاسمی نے کہاکہ ’’ پرچم کشائی کے ذریعے جہاں ترنگا لہراکر ہم سب اس کی شان بڑھاتے ہیںا ورفخر محسوس کرتے ہیں وہیں اپنے اسلاف کی عظیم قربانیوں کویاد کرکے اس عہد کو بھی دہراتے ہیںکہ جس ہندوستان کا انہوں نے خواب دیکھا تھا اسے ہم سب شرمندۂ تعبیر کرنے کے لئے کوشاں رہیںگے۔‘‘
مسلمانو ں سے وفاداری کی سندمانگنے والے کون ہیں
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے عہدیدار قاری محمدیونس چودھری نے مدرسہ تعلیم الاسلا م ایجوکیشنل چیئریٹیبل ٹرسٹ (مالونی) میں اپنے خطا ب میں کہاکہ ’’ کس قدر افسوسناک ہے کہ انگریزوں سےمعافی مانگنے والے آج مسلمانوں سے وفاداری کی سند مانگتے ہیں؟ آئیے ہم اس موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم آئین پرآنچ نہیںآنے دیںگے اورنفرت کا خاتمہ کرکے دم لیںگے۔‘‘
جامعہ رحمانیہ (کاندیولی) میںادارہ کےسربراہ مولانا الطاف رحمانی نے کہاکہ’’ ۸۰؍ واں یومِ آزادی ہمیں بہت کچھ بتاتاا ور سکھاتا ہے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ملک کی تعمیر وترقی میںاپنا مزید نمایاں رول اداکریں اور اسلاف کی قربانی کو یاد رکھتے ہوئے سبق حاصل کریں۔‘‘
جامعہ اشرف العلوم (نالاسوپارہ) میںپرچم کشائی کے موقع پرادارہ کے سربراہ اورسابق ڈپٹی میئر صغیر ڈانگے نے کہاکہ’’ ملک میں بسنے والے تمام طبقات نے مل کر آزادی کی لڑائی لڑی اور انگریزوں کو بھاگنے پر مجبور کیا ۔اس میںعلماء کا نمایاں رول رہا ہے ۔‘‘
مدارس اورعلماء کا کلیدی رول رہا
رابطۂ مدارس ِاسلامیہ ممبئی وتھانے کے ترجمان مولانا عبدالقدوس شاکرحکیمی نےنمائندۂ انقلاب کے استفسارپربتایا کہ’’ شہر ومضافات کے مختلف علاقوں بھنڈی بازار، دوٹانکی، کرلا،جوگیشوری، میراروڈ، گوونڈی، چیتا کیمپ ، اندھیری ، باندرہ ، ماہم ، مالونی اور نالا سوپارہ وغیرہ میںمعلوما ت کرنے پر اندازہ ہوا کہ یاددہانی کے مطابق تمام دینی اداروں نے جشنِ آزادی کا اہتمام کیا اورکیوں نہ کریں کہ ملک کوآزاد کرانے کی پہلی آواز ان ہی دینی مدارس اورعلماء کے ذریعے بلند کی گئی تھی۔‘‘