اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا طنز’’جیسا میں نے کہا، پی ایم مودی پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں اور سچائی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 11:00 PM IST | New Delhi
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا طنز’’جیسا میں نے کہا، پی ایم مودی پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں اور سچائی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘
پارلیمنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران زبردست ہنگامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خاص طور سے لوک سبھا میں گزشتہ دو دنوں میں احتجاج کے سبب کئی بار کارروائی ملتوی ہوئی اور بدھ کو تو وزیر اعظم مودی کی مقرر کردہ ۵؍بجے کی تقریر بھی نہیں ہو پائی۔ ایوانِ زیریں میں شدید احتجاج کے سبب تیسرے دن بھی صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تحریک پر ٹھیک طرح سے بحث نہیں ہو سکی۔ وزیر اعظم مودی شام ۵؍ بجے لوک سبھا میں ’شکریہ کی تحریک‘ پر بحث کا جواب دینے والے تھے، جو کہ ہنگامہ کی نذر ہو گیا اور ان کا خطاب ٹل گیا۔ لوک سبھا کی کارروائی جب ۵؍بجے شام میں شروع ہوئی تو اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پوسٹر لے کر چیئر کے قریب پہنچ گئے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے کچھ اراکین تیزی سے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کے پاس بھی پہنچ گئے۔ یہ ناراض تھے کیونکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو کچھ بھی بولنے کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا۔ کچھ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، انوراگ ٹھاکر اور اشونی ویشنو سے بات چیت کرنی چاہی لیکن برسراقتدار طبقہ ہنگامہ آرائی پر آمادہ دکھائی دیا۔ ہنگامہ دھیرے دھیرے بڑھتا گیا اور ایوان کو چلا رہی سندھیا رائے نے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ایم مودی ’شکریہ کی تحریک‘ پر بحث کا جواب دینے ایوان میں داخل بھی نہیں ہو پائے۔
اس معاملے پر راہل گاندھی نے طنز کیا کہ ’’جیسا میں نے کہا، پی ایم مودی پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں اور سچائی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ اس پوسٹ کے ساتھ راہل گاندھی نے وہ ویڈیو بھی ٹیگ کیا جس میں انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ’’مجھے نہیں لگتا وزیر اعظم میں آج ایوان میں آنے کی ہمت ہوگی، کیونکہ اگر وہ آتے ہیں تو میں خود ان کے پاس جا کر جنرل منوج نرونے کی کتاب پیش کروں گا تاکہ ملک کے سامنے سچائی آ سکے۔لیکن وہ شاید نہیں آئیں گے۔‘‘