Updated: January 08, 2026, 11:31 PM IST
| Indore
کانگریس نے اس معاملے کوریاست کی بی جے پی حکومت کی سنگین لاپروائی کا نتیجہ قرار دیا،دگ وِجئے سنگھ نے الزام لگایا کہ جبل پور میں نرمدا میں سیوریج کا پانی چھوڑا جارہا ہے،اندور معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیااورانتظامیہ سے سنجیدگی سے مسئلہ حل کرنےکی اپیل کی
اندور میںمیونسپل انتظامیہ کی جانب سے پانی کی پائپ لائن کا مرمتی کام جاری ہے
کانگریس نے مدھیہ پردیش کے اندور میں آلودہ پانی پینے سے لوگوں کی موت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی سنگین لاپرواہی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات خود وزیراعلیٰ کے دفتر سے ہو اور سپریم کورٹ کے جج سے علاحدہ ان کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ کرائی جانی چاہیے۔ کانگریس کے کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا کہ بی جے پی حکومت کی لاپرواہی کے سبب شہر کے پینے کے پانی میں سیوریج کے پانی کو داخل ہونے دیا گیا اور شہریوں کی بار بار وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بی جے پی حکومت کی لاپرواہی سے پیش آیا ہے، جبکہ اسے روکا جاسکتا تھا۔ اس لاپرواہی کی وجہ سے جب معصوم بچے اور شیر خوار مر رہے ہیں، توریاست کے وزیر اعلیٰ اور سینئر وزراء خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ المناک واقعہ بی جے پی حکومت کے تکبر، نااہلی اور انسانی جانوں کی مکمل بے توجہی کو بے نقاب کرتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے لوگ انصاف، جوابدہی اور فوری اصلاحات کے مستحق ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ بی جے پی اپنی ناکامی اور اپنی بڑی لاپرواہی کی وجہ سے جانی نقصان کے لیے جواب دے۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ اس واقعہ نے بی جے پی حکومت کا ظالمانہ، بے رحم اور مکمل طور پر لاتعلق چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ اندور میں، مدھیہ پردیش حکومت کی سنگین لاپرواہی اور نااہلی کی وجہ سے چھ ماہ کے بچے سمیت۱۸؍ معصوم جانیں چلی گئیں اور۴۰؍سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگ اب بھی انتہائی نگہداشت میں اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ وہی اندور شہر ہے جس نے مرکزی حکومت کے سوچھ سرویکشن میں لگاتار آٹھویں بار’’سب سے صاف شہر‘‘ کا خطاب جیتا ہے۔ پون کھیڑا نے کہا، ’’وزیراعظم کے دفتر کو فوری تحقیقات کا حکم دیا جانا چاہئے، نیزایشیائی ترقیاتی بینک اور سپریم کورٹ کی سطح کے جج کی نگرانی میں ایک آزادانہ تحقیقات ہو، تاکہ بی جے پی حکومت کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔ صرف اس طرح کی مداخلت اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ اس بڑی ناکامی کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ ایشین ترقیاتی بینک نے۲۰۰۳ء میں بھوپال، گوالیار اور جبل پور کیلئے ۲۰؍ کروڑ کا قرض دیاگیا تھا، آخر وہ قرض کہاں گیا؟‘‘
دریں اثناء مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دِگ وجے سنگھ نے جبل پور میں نَرمدا کے پانی میں سیوریج کا پانی شامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ذمہ داروں سے اس معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اندور میں پینے کےآلودہ پانی سے متعدد افراد کی موت کے معاملے میں عدالتی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ سنگھ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جبل پور کے گواری گھاٹ پر سیوریج کا پانی نَرمدا ندی میں شامل ہوتا ہے۔ سیوریج ٹینک گھاٹ پر ہی بنایا گیا ہے، جس میں کوئی فلٹر موجود نہیں ہے۔ وہی سیوریج کا پانی نَرمدا میں مل کر۵۰۰؍ میٹر دور واقع لل پور پینے کے پانی کے سپلائی پلانٹ کے ذریعے جبل پور کے لوگوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اسکے نتیجے میں آئندہ چند دنوں میں کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آسکتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، شہری انتظامیہ کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ سمیت دیگر متعلقہ افراد سے اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔