اندور میں آلودہ پانی کے سبب جان گنوانے والوں میں ۶؍ماہ کا اویان ساہو بھی شامل ، اس کے اہل خانہ نے ریاستی حکومت کی جانب سےدیا جانے والا معاوضہ (۲؍لاکھ روپے)لینے سے انکار کردیاہے
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 11:53 PM IST | Indore
اندور میں آلودہ پانی کے سبب جان گنوانے والوں میں ۶؍ماہ کا اویان ساہو بھی شامل ، اس کے اہل خانہ نے ریاستی حکومت کی جانب سےدیا جانے والا معاوضہ (۲؍لاکھ روپے)لینے سے انکار کردیاہے
شہرکے بھاگیرتھ پورہ علاقے کے مراٹھی محلے کی ایک تنگ گلی میں تقریباً ۶؍ ماہ کے اویان ساہو کی موت کے بعد گہری خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ بچے کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ اس کی موت آلودہ پینے کے پانی سے پھیلنے والی الٹی دست کی وبا کے سبب ہوئی ہے۔ خاندان کے غم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے دئیے جانے والے معاوضے کو لینے سے انکار کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ’’ کیا معاوضہ لے لیں گے تو ۱۰؍ سال کی منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہونے والا بچہ لوٹ آئے گا؟‘‘
دی ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق مقامی شہریوں کا دعویٰ ہے کہ بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی کے باعث الٹی دست کی وباء سے۱۵؍افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں، جن میں اویان سب سے کم عمر تھا۔ تاہم، محکمہ صحت نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے ۔ محکمہ کے مطابق اس وباء میں صرف ۴؍افراد کی موت ہوئی ہے۔
’’بیٹی کو اولاد نہیں ہورہی تھی،ہم نے حسین ٹیکڑی درگاہ پر منت مانگی تھی‘‘
اویان کی دادی کرشنا ساہو نے جمعہ کو پی ٹی آئی بھاشا سے بات چیت میں کہاکہ ’’ہمارا بچہ تو چلا گیا۔ اب اگر معاوضہ لے بھی لیں تو کیا وہ واپس آ جائے گا؟ بچے سے بڑھ کر پیسہ تو نہیں ہوتا ہے۔‘‘ رُندھی ہوئی آوازاور نم آنکھوں کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ ’’ میری بیٹی دس سال سے بے اولاد تھی، ہم نے اولاد کیلئے کیا نہیں کیا۔میں نے خود حسین ٹیکڑی درگاہ پرجاکر منت بھی مانگی تھی، اوپر والے نے ہماری دعائیں سنیں اور میری بیٹی کو اولاد کا سکھ دیا۔ لیکن افسوس ۶؍مہینے بعد ہی آلودہ پانی نے میری بیٹی سے منتوں مرادوں والی اولاد چھین لی۔‘‘
نواسہ ٹھیک ٹھاک تھا،سرکاری نل کے پانی کے سبب اسکی طبیعت بگڑی
کرشنا ساہو نے بتایا کہ ’’میرا نواسہ صحت مند تھا، اس کا وزن بڑھ کر پانچ کلو ہو گیا تھا اور وہ ماں کی گود میں کھیلتا رہتا تھا۔ ایک دن اچانک اسے دست لگے، ڈاکٹر کے مشورے پر اسے گھر پر دوا دی گئی، مگر حالت بگڑتی گئی اور اسپتال لے جانے پر اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ’’ ماں کے دودھ سے بچے کا پیٹ نہیں بھرتا تھا، اس لیے بازار کا دودھ اور دودھ پاؤڈر دیا جاتا تھا اور اسے پتلا کرنے کے لئے میونسپل کارپوریشن کے نل کے پانی کا استعمال ہوتا تھا۔ ساہو کے مطابق یہی آلودہ پانی بچے کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ اہل خانہ کے مطابق۲۹؍ دسمبر کو بچے کی موت ہوئی۔‘‘ بچے کی موت سے صرف اہل خانہ ہی نہیں بلکہ اہلِ محلہ بھی غمزدہ ہیں۔ قریب کے ہی مکان میں رہنے والی انیتا سین نے کہاکہ’’میرے گھر میں ایک ماہ کی بچی، چار سال کا بیٹا اور دس سال کی لڑکی ہے۔ حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ آلودہ پانی کی وجہ سے کسی اور ماں کی گود سُونی نہ ہو۔‘‘
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ۹؍ دنوں میں بھاگیرتھ پورہ میں الٹی اور دست کی وبا سے۱۴۰۰؍ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ صحت محکمہ کے مطابق جمعرات تک علاقے کے اسپتالوں میں۲۷۲؍ مریض داخل کیے گئے، جن میں سے۷۱؍ کی صحت بہتر ہونے پر انہیںڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ کم از کم۳۲؍ مریض اس وقت اسپتال میں داخل ہیں اور انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ(آئی سی یو)میں زیرعلاج رکھا گیا ہے۔