بھانڈوپ، مانخورد، کرلا، جوگیشوری، بوریولی اور دہیسر جیسے علاقوں میں کلینک چلا رہے تھے۔ ایکسپائری دوائیں بھی ضبط کی گئیں۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 12:03 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
بھانڈوپ، مانخورد، کرلا، جوگیشوری، بوریولی اور دہیسر جیسے علاقوں میں کلینک چلا رہے تھے۔ ایکسپائری دوائیں بھی ضبط کی گئیں۔
کرائم برانچ نے جعلی ڈگریوں یا مہاراشٹر میڈیکل کونسل میں رجسٹریشن کے بغیر میڈیکل پریکٹس کرنے کے الزام میں ۱۰؍ ڈاکٹروںپر کیس درج کیاہے۔ یہ کارروائی فرضی ڈاکٹروں کے خلاف چلائی جانے والی خصوصی مہم کے دوران کی گئی۔ ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق یہ فرضی ڈاکٹر بھانڈوپ، مانخورد، کرلا، جوگیشوری، بوریولی اور دہیسر جیسے علاقوں میں کلینک چلا رہے تھے۔
اس بارے میںپولیس نے بتایا کہ انہیں ان کے دواخانوں سے یونانی اور آیورویدک ادویات بھی ملیں جن کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ وہ بنیادی طور پر جنسی امراض میں مبتلا لوگوں کا علاج کرتے تھے اور بھاری فیس وصول کرتے تھے۔ ایک پولیس افسر کے مطابق کرائم برانچ کے یونٹ۷؍ کو ان جعلی ڈاکٹروں کے بارے میں اطلاع ملی تھی جس کے بعد کئی کلینک پر چھاپے مارے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر کلینک گنجان جھوپڑپٹیوں میں واقع تھے۔
یہ بھی پڑھئے:جین زی پھر ساتھ! آئیسا اور سی جے پی سمیت مختلف تنظیموں کا مشترکہ احتجاج کااعلان
جن دواخانوں پر چھاپے مارے گئے ، ان میں بھانڈوپ میں واقع ’سنتوش ہیلتھ کلینک جسے شیخ محمد انور محمد اسلم اور محمد نبی حسین محمد فرید شیخ چلا رہے تھے، بھانڈوپ ہی میں ’ونایک ہیلتھ کلینک‘ جسےعمران عبدالجبار خان چلارہے تھے، جوگیشوری میں ’ہمدم اسپتال ‘ جسے دیا شنکر سنگھ اور جنید صدیقی چلارہے تھے، جوگیشوری ہی میں ’کوہِ نور اسپتال جسے شہاب الدین شیخ چلا رہے تھے، بوریولی میں ’انکش آیورویدک اسپتال‘ جسے ڈاکٹر نوید خان اور ڈاکٹر راشد بیگ چلا رہے تھے، دہیسر میں ’دیپک ہربل ہیلتھ کیئر کلینک ‘ جسے راشد شیخ چلارہے تھے اور مانخورد میں ’سمرتھ آیورویدک اسپتال جسے نہال شیخ چلارہے تھے ، شامل ہیں۔
پولیس افسر نے کہاکہ یہ ڈاکٹر ہمیں کوئی بھی درست ڈگری فراہم کرنے سے قاصر رہے اور نہ ہی وہ مہاراشٹر میڈیکل کونسل میں رجسٹرڈ تھے۔ وہ اپنے مریضوں کو ایلوپیتھک، یونانی اور آیورویدک ادویات تجویز کرتے اور دیتے تھے اور بھاری فیس وصول کرتے تھے ۔ وہ خود کو جنسی امراض، احتلام اور دیگر جنسی بیماریوں کے ماہر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ ہمیں ان کے کلینک سے ایکسپائرڈ ادویات ملی ہیں اور ہم نے وہ ذخیرہ ضبط کر لیا ہے۔ یہ کارروائی میونسپل ہیلتھ افسران کے اشتراک سے عمل میں لائی گئی۔ پولیس نے متعلقہ دفعات کے تحت فرضی ڈاکٹروں کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔