• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جین زی پھر ساتھ! آئیسا اور سی جے پی سمیت مختلف تنظیموں کا مشترکہ احتجاج کااعلان

Updated: October 08, 2026, 10:45 AM IST | Fazil Ahmed | New Delhi

تمام تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس،۱۰؍اکتوبر کو جنتر منتر پر بڑے احتجاج کا اعلان، نیہا بورا نے کہا کہ ’’گیانیش کمار کے استعفیٰ تک سڑکوں سے نہیں ہٹیں گے‘‘

Neha Bora addressing a joint press conference; Sourav Das is also present. Photo: INN.
مشترکہ پریس کانفرنس سے نیہا بورا خطاب کرتے ہوئے۔ ساتھ میں سورو داس۔ تصویر: آئی این این۔

الیکشن کمیشن کے خلاف جین زی  کی تنظیمیں پھر ایک مرتبہ ساتھ آرہی ہیں۔  ان تنظیموں نے ۱۰؍ اکتوبر کو دہلی میں زبردست احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان تنظیموں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں سی جے پی ، آئیسا ،ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف اور اے ایس اے پی  شامل ہیں۔ آئیسا کی قومی صدر اور اب تک اس آندولن کا چہرہ  نوجوان طلبہ لیڈر نیہا بورا نے بدھ کو پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ۱۰؍ اکتوبر کو جنتر منتر پر بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس احتجاج میں طلبہ، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر موجود ہوں گی اور ملک بھر سے لوگ اس میں شرکت کرینگے۔نیہا بورا نے ہاتھ میں ’’گیانیش، اِٹس ڈن، برو!‘‘ تحریر والا پوسٹر لے کر کہا کہ ۱۰؍ اکتوبر کا احتجاج بی جے پی اور آر ایس ایس کو یہ بتائے گا کہ ۲؍ اکتوبر کو جنتر منتر سے شروع ہونے والی گنتی اب بہت تیزی سے آگے بڑھ چکی ہے۔  نیہا بورا نے کہا کہ اب بی جے پی اور آر ایس ایس کو محتاط ہوجانا چاہئے کیوںکہ اگلا نمبر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کاآسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہماچل کے ”منی اسرائیل“ دھرم کوٹ میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث اسرائیلی سیاحوں کی آمد میں کمی

سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے فارم ۶؍ میں کی گئی ترمیم کو منظوری نہ ملنے کی وضاحت کا حوالہ دیتے ہوئے نیہا بورا نے دعویٰ کیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گیانیش کمار کو بھی اسی طرح ہٹانے کی تیاری کی جارہی ہے، جس طرح دھرمیندر پردھان کو ہٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب گیانیش کمار کی باری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ۱۰؍ اکتوبر تک گیانیش کمار کو خدا حافظ بول دیا جائے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو ہمارا احتجاج انہیں اس پر مجبور کردے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK