Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبرا میں بھی مساجد سے لاؤڈاسپیکر اتروانے کیلئے پولیس کی سختی

Updated: August 28, 2025, 11:16 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ممبرا جامع مسجد سمیت کئی مساجدکے ٹرسٹیان نےلاؤڈاسپیکر اتارکرچھوٹے اسپیکر لگادیئے۔ سینئر انسپکٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ ممبرا کی آدھی مساجد سے لاؤڈاسپیکراتاردیئے گئے ہیں۔ ڈیسبیل کے مطابق آوازکی سطح رکھنے پر پولیس کازور ۔ آج جمعہ کی نمازکےبعد تھانے پولیس کمشنر کے ہمراہ میٹنگ

Following strict instructions from the police, the loudspeaker of the Mubarak Jama Masjid has also been removed.
پولیس کی سخت ہدایت کے بعدممبراجامع مسجد کا لاؤڈاسپیکر بھی اتاردیا گیا ہے۔(تصویر: انقلاب)

:ممبئی کے بعد ممبرا کی  مساجد سے لاؤڈاسپیکر اتروانے کے لئے پولیس کی جانب سے سختی کی جارہی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہےکہ ممبرا جامع مسجد سمیت کئی دیگر مساجدکے ٹرسٹیان نے لاؤڈاسپیکر اتارکر چھوٹے اسپیکر لگادیئے ہیں۔ جمعرات کو ڈائے گھرپولیس اسٹیشن میںاسی تعلق سے پولیس کے ہمراہ میٹنگ تھی،  اختصار سے بات چیت کی گئی مگرآج بعد نمازجمعہ تھانے پولیس کمشنر کے ہمراہ ذمہ داران کی تفصیل سے میٹنگ ہوگی ۔ پولیس کی جانب سے ہائی کورٹ کی ہدایت کے ساتھ ممبئی کی مساجد کا بھی حوالہ دیا جارہا ہے کہ وہاںکی مساجد کے ٹرسٹیان نے اِن ہدایات پرعمل کیا ہے توآپ لوگ بھی اس پرعمل کیجئے اور لاؤڈاسپیکر اتار کر چھوٹے اسپیکر لگائیے تاکہ ڈیسبیل کے مطابق آواز کی سطح رکھی جاسکے۔پولیس کی یہ بھی دلیل ہے کہ لاؤڈ اسپیکر(بھونگے) کے ذریعے ڈیسیبل کے مطابق آواز کی سطح برقراررکھنا ممکن نہیں ہے۔
  اس کے برخلاف ذمہ دار اشخاص کاکہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی ہدایت میںکہیں یہ درج نہیںہے کہ لاؤڈاسپیکر اتارے جائیں، صرف آواز کی سطح اور اوقات کے تعین کو واضح کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن بتائی گئی ہے۔ کچھ ذمہ داران ڈیسبیل کے مطابق آواز رکھنے کی تائید کررہے ہیں مگر وہ لاؤڈاسپیکر اتارنے پررضامند نہیں ہیں۔
’’ مجبوراًہم نےلاؤڈاسپیکراتارا ہے‘‘
 ممبرا جامع مسجد کے ٹرسٹی محمدسلیم سے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پرانہوں نے بتایا کہ ’’  پولیس کی جانب سےبار بار انتباہ دیا گیا، تین چار مرتبہ پولیس اسٹیشن بلایا گیااورسخت ہدایت دی گئی اسی لئے مجبوراًہم لوگوں نےلاؤڈاسپیکر اتار دیا ہےاور ممبئی (دوٹانکی ) کی بلال مسجد کی طرح چھوٹا اسپیکر لگادیا ہے۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’ ’صرف ممبرا جامع مسجدہی نہیں،کئی اور مساجد سے لاؤڈاسپیکر اتار دیئے گئے ہیں،سبھی کوپولیس کی جانب سے کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔‘‘
 مولانا عبدالوہاب قاسمی (جمعیۃ علماء ممبرا) نے بتایا کہ ’’پولیس اسٹیشن میںسینئرانسپکٹر اورپہلے پولیس کمشنر سے بھی ملاقات کی جاچکی ہے۔دورانِ ملاقات ہم لوگوں نے یہ حوالہ بھی دیا کہ ہائی کورٹ نے کہیں یہ نہیںکہا ہے کہ لاؤڈاسپیکراتارے جائیں، صرف آواز ڈیسبیل کے مطابق رکھنے کی ہدایت دی گئی ہےمگر پولیس کچھ سننے کوتیار نہیںہے۔ ‘‘ مولانا کے مطابق ’’پولیس ممبئی میں کی گئی کارروائی کا بھی حوالہ دے رہی ہے ، یہ بھی سچ ہےکہ ممبرا میںبھی بہت سی مساجدمیں ٹرسٹیان نے لاؤڈاسپیکر اتار دیئے ہیں۔ انتظار کیا جارہا ہے کہ ہائی کورٹ سے جلد کوئی مثبت فیصلہ آئے تاکہ پولیس کی سختی اورکی جارہی کارروائی پرروک لگ سکے ۔‘‘
ذمہ داران کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے 
 حافظ محمدایوب (جمعیۃ علماء)نے بتایاکہ’’ملّی تنظیموں کے نمائندوں، ٹرسٹیان مساجد اورسماجی خدمت گاروں پرمشتمل ۱۸؍ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس معاملے میںتنہا جانے کے بجائے لاؤڈاسپیکر نکالنے کے تعلق سے پولیس کی جانب سے کی جانے والی سختی پر اِس کمیٹی کے اہلکار پولیس سے رابطہ قائم کریںتاکہ بات چیت کی جاسکے۔ جمعرات کوڈائے گھر پولیس اسٹیشن میںمیٹنگ ہوئی مگرکوئی خاص بات نہ ہوسکی، البتہ آج بعدنماز جمعہ پولیس کمشنر سے ملاقات کی جائے گی اورتفصیلی بات چیت ہوگی ۔‘‘ 
سینئرانسپکٹر کا ممبرا کی آدھی مساجد سے لاؤڈاسپیکر نکالنے کا دعویٰ 
 ممبرا پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر انل شندے کا کہنا ہے کہ’’ ضابطہ سب کے لئے ایک ہے،  پولیس کا کام عدالت کے حکم کی تعمیل کرنا اور تعمیل کرانا ہے۔ اسی لئے لاؤڈاسپیکر اترواکر اسپیکر لگانے کیلئے کہا جارہاہے اور لوگ تعاون کررہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’ممبرا میں آدھی مساجد سے لاؤڈاسپیکر اتارے جاچکے ہیں ۔یہ کارروائی کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہے مگر دیکھنے میںآرہا ہے کہ اس تعلق سے سیاست زیادہ کی جارہی ہے۔‘‘ واضح ہوکہ ممبئی میں اس تعلق سےمسلسل کی جانے والی کارروائی کے تعلق سے پہلے ہی پولیس اور وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کی جانب سے کہا جاچکا ہے کہ ممبئی کو لاؤڈاسپیکرمُکت کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK