الزامات کے بعددونوں پارٹیوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپوں کے بھی واقعات۔
امباداس دانوے۔ تصویر: آئی این این
اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کیلئے پولنگ سے قبل شہر کا سیاسی ماحول خاصا کشیدہ ہوگیا ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں ووٹروں میں پیسے تقسیم کیے جانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں جس پر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔شیوسینا (ادھو ) کے لیڈروں نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کے کارکنان کی جانب سے ووٹ کے بدلے رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔ان الزامات کے بعد شیوسینا کارکنان اور بی جے پی کارکنان کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے شیوسینا (ادھو)کے لیڈرامباداس دانوے نے بی جے پی پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ منگل کی رات شہر کے مختلف مقامات سے فون کال موصول ہوئے جن میں بتایا گیا کہ کچھ علاقوں میں ووٹروں کو پیسے دیے جا رہے ہیں۔ایک مقام پر شیوسینا کارکنان نے ایک شخص کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑا جو ووٹروں میں رقم تقسیم کر رہا تھا۔امباداس دانوے کے مطابق، پکڑے گئے لفافوں پر یہ بھی درج تھا کہ کس ووٹر کو کتنی رقم دینی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان لفافوں کی تصاویر اور ویڈیوز ان کے پاس موجود ہیں۔اس واقعے کے بعد علاقے میں سخت تناؤ پیدا ہوگیا۔ شیوسینا کارکنان نے اس پورے معاملے کی غیر جانبدار اور گہرائی سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس جھڑپ کے دوران بی جے پی کے کچھ کارکن موقع سے فرار ہوگئے۔امباداس دانوے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو پارٹی ملک اور ریاست میں ترقی کے بڑے دعوے کرتی ہے، وہی اب گھر گھر پیسے تقسیم کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، شہر کے گارکھیڑا علاقے سے بھی ایک مشتبہ ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں چند افراد ایک شخص سے یہ سوال کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ پیسے کیوں بانٹ رہا ہے۔ ویڈیو میں اس شخص کی جیب میں۵۰۰؍ روپے کے نوٹوں کا بڑا بنڈل نظر آ رہا ہے۔