ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے اعلان پر سیاست شروع

Updated: May 24, 2022, 12:11 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

کانگریس کا کہنا ہے کہ مرکز کی کٹوتی سے ریاست کے خزانہ پر بوجھ پڑےگا جبکہ بی جے پی نے کہا کہ ریاستی حکومت عوام کو بےوقوف بنا رہی ہے

Reducing fuel prices will bring some relief to consumers. (File photo)
ایندھن کے دام میں کی جانے والی کمی سے صارفین کو کچھ راحت ہوگی۔(فائل فوٹو)

 پیٹرول اور ڈیزل کے ٹیکس کم کرنے پر سیاست تیز ہو گئی ہے۔کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے واضح کیا ہے کہ مرکز نے جو کٹوتی کی ہے وہ ریاست کےحصہ سے کٹوتی کی ہے اس لئے یہ ٹیکس کم کرنے کا بوجھ مرکز ی حکومت کے خزانے پر نہیں بلکہ ریاستی حکومت کے خزانے پر پڑے گا ۔دوسری جانب  مہاراشٹر کے اپوزیشن لیڈر دیویندر فرنویس کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت نے ایندھن پر عائد کسی ٹیکس میں کمی نہیں کی ہے بلکہ مہاراشٹر حکومت اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے ۔
 مہاراشٹر حکومت کے حصہ سے راحت دی گئی! 
 نانا پٹولے نے کہاکہ’’بی جے پی لیڈران ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ مرکز کی مودی سرکار نے پیٹرول پر۹ء۵؍ روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر ۷؍ روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے عوام کو بڑی راحت دی ہے لیکن حقیقت میں بی جے پی لیڈر اس فیصلے کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول میں۹ء۵؍ روپے فی لیٹر کی کٹوتی میں۴؍روپے اور ڈیژل کی فی لیٹر ۷ روپے کی کٹوتی میں ۳؍ روپے مہاراشٹر حکومت کا حصہ ہے۔ گویا یہ کمی ریاستی حکومت کے حصے سے کی جارہی ہے اور اس کا ریاستی خزانے پر ۲۵۰۰؍کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔اگر مرکز کی مودی حکومت واقعی ایماندار ہے اور عوام کو راحت دینا چاہتی ہے تو اسے۲۰۱۴ءسے ایندھن کی قیمتوں پر بڑھائے گئے غیر منصفانہ ٹیکسوں کو ختم کرنا چاہئے تاکہ ایندھن کی قیمتوں کی حقیقی قیمت وصول کی جا سکے اور مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے۔  پٹولے نے کہا کہ مرکز کی طرف سے کٹوتی کے ہر روپے میں ۴۱؍  پیسے ریاست کے ہیں۔ یعنی نئی کٹوتی کے تحت  پیٹرول کے۹ء۵؍ روپے  میں تقریباً ۴؍ روپے  اور ڈیژل کے ۷ ؍روپے میں فی لیٹر کی کٹوتی میں تقریباً ۳؍ روپے ریاستی حکومت کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت سڑکوں کی تعمیر اور زرعی ترقی کے نام پر مختلف سیس لگا کر ایندھن کی قیمتوں سے عوام کو لوٹ رہی ہے  اسے فوراً  روکنا چاہئے۔
ریاست نے ایندھن کے ٹیکس میں کوئی کمی نہیں کی
  اپوزیشن لیڈر  دیویندر فرنویس نے  ٹویٹ کر کے مہاراشٹر حکومت پر تنقید کی ہے ۔’شرمناک ‘ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مرکزی حکومت کےاعلان کےبعد ریاستی حکومت نے اتوار کو ویٹ کم کرنے کا اعلان کیا اس کا کوئی سرکیولر جاری نہیں کیا جو شرمناک ہے اور عوام سے دھوکہ ہے۔مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے ویٹ میں تخفیف کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ریاستی حکومت ایندھن کی بنیادی قیمت پر ایندھن فروخت کرنے والوں کو ادا کئے جانے والے کمیشن، سڑک اور انفرااسٹرکچر سیس کے ساتھ ساتھ زراعت اور انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس پر ٹیکس لگاتی ہے۔اگر مرکز کی طرف سے ان میں سے کسی بھی یونٹ میں ٹیکس کم کیا جاتا ہے تو ریاست کا ٹیکس خود بخود کم ہو جاتا ہے۔اس کے نتیجے میں مرکزی حکومت نے مہاراشٹر میں سڑک اور انفرااسٹرکچر سیس کو کم کر دیا ہے جس میں پیٹرول پر۲ء۰۸؍ روپے اور ڈیزل پر۱ء۴۴؍ روپے روپے کی کمی کی گئی تھی۔گویا  ریاست کچھ نہ کر کے مرکز کا کریڈٹ لے رہی ہے جو بہت سنگین ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK