Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیل کے بحران سے نپٹنے کیلئے عالمی توانائی ایجنسی متحرک

Updated: March 13, 2026, 11:23 AM IST | Paris

ایران امریکہ جنگ کے سبب تیل کی قیمتوں میں اضافے کو قابو میں کرنے کیلئے ۴۰؍ کروڑ بیرل خام تیل فراہم کرنے پر رضامند۔

The IEA is taking this step to prevent prices from rising, a file photo of an oil storage center. Photo: INN
آئی ای اے قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کیلئے یہ قدم اٹھارہا ہے، ایک آئل اسٹوریج مرکز کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) عالمی توانائی بحران کے پیش نظر ۴۰؍ کروڑ بیرل خام تیل فراہم کرنے پر رضامند ہو گئی۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں میں آنے والے اضافے سے نپٹنے کیلئے  اسٹریٹیجک ذخائر سے ریکارڈ ۴۰؍ کروڑ بیرل تیل جاری کیا جائے گا، جس میں زیادہ تر حصہ امریکہ فراہم کرے گا۔

رپورٹ کےمطابق آئی ای اے رکن ممالک یہ خام تیل اسٹریٹیجک ذخائر سے جاری کریں گے، ایجنسی نے کہا کہ اس اقدام کی اس کے تمام ۳۲؍ رکن ممالک نے حمایت کی ہے۔ یہ۱۹۷۰ءکی دہائی میں ایجنسی کے قیام کے بعد ذخائر کے مشترکہ اجرا کا چھٹا موقع ہے۔ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ کے مطابق امریکہ اس میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور ۱۷۲؍ملین بیرل تیل فراہم کرے گا۔آئی ای اے کے مطابق یہ تیل اس لیے جاری کیا جا رہا ہے تاکہ تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کو قابو کیا جا سکے جو۲۸؍ فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی سپلائی میں خلل پڑنے سے پیدا ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مسلسل ۱۳؍ویں دن مسجد اقصیٰ میں نماز نہ ہوسکی

قابل ذکر ہے کہ بدھ کو ایران نے کہا کہ دنیا کو۲۰۰؍ ڈالر فی بیرل تک تیل کی قیمت کے لئے  تیار رہنا چاہیے۔اس اعلان کے باوجود بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً ۵؍ فیصد اضافہ ہوا کیونکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر مزید حملوں نے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ذخائر کا اجرا ان خدشات کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ۴۰؍ کروڑ بیرل تیل کی یہ مقدار آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کی وجہ سے ضائع ہونے والی سپلائی کے صرف تقریباً ۲۰؍ دن کے برابر ہے، اور اسے عالمی منڈی تک پہنچنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔بلیک گولڈ انویسٹر کے سی ای او اور تیل کی منڈی کے ماہر گرے راس نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ مجھے حیرت نہیں کہ مارکیٹ اس طرح ردِعمل دے رہی ہے کیونکہ اس اعلان کا اثر پہلے ہی قیمتوں میں شامل ہو چکا تھا، جب تک یہ جنگ ختم نہیں ہوتی، اس صورت حال کو سنبھالنا ممکن نہیں، سوائے اس کے کہ طلب کم ہو جائے یا قیمتیں بہت زیادہ بڑھ جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: تیل کے بحران کا اثر، جنوب مشرقی ایشیا میں دفاتر بند اور سفر محدود

واضح ہو کہ ۲۰۲۲ء میں یوکرین جنگ کے بعد آئی ای اے کے ارکان نے ۱۸؍ کروڑ بیرل تیل جاری کیا تھا۔ وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ امریکی حصے کی فراہمی میں۱۲۰؍ دن لگیں گے اور محکمہ توانائی بعد میں اسٹریٹیجک ذخائر کو جلد دوبارہ بھرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ایک یوروپی یونین کے سفارت کار نے کہا کہ آئی ای اے کے تازہ فیصلے کے پیچھے واشنگٹن کا اہم کردار ہے، دباؤ زیادہ تر امریکی حکومت کی طرف سے آیا جو یہ ذخائر جاری کروانا چاہتی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK