Updated: June 22, 2026, 6:03 PM IST
| Gaza/Doha
الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اسرائیلی حملے کے دوران اپنے کیمرہ مین احمد وشاح کی شہادت کے بعد، عالمی برادری اور قانونی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے میں ملوث اسرائیلی حکام کو سزا دی جائے۔ نیٹ ورک نے ایک بیان میں وشاح کی شہادت کی شدید مذمت کی اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
محمد اور احمد وشاح۔ تصویر: ایکس
الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے وسطی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے دوران اپنے کیمرہ مین احمد وشاح کی شہادت کے بعد، عالمی برادری اور قانونی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے میں ملوث اسرائیلی حکام کو سزا دی جائے۔ نیٹ ورک نے ایک بیان میں احمد وشاح کی شہادت کی شدید مذمت کی اور بتایا کہ احمد وشاح کے بھائی، محمد، جو الجزیرہ مباشر کے رپورٹر تھے، بھی محض دو ماہ قبل ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ احمد وشاح کی شہادت کے بعد اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں شہید ہونے والے الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کے عملے کے ارکان کی کل تعداد ۱۲ ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے میں گھر گھر تلاشی ، متعدد فلسطینی گرفتار
الجزیرہ کا قانونی کارروائی کا عزم
الجزیرہ نے ”غزہ میں اپنے نامہ نگاروں اور عملے کے خلاف اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے کئے جانے والے جرائم کے تسلسل“ کی سخت مذمت کی۔ اس نے عالمی برادری اور متعلقہ قانونی اداروں کے سامنے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ ذمہ دار اسرائیلی حکام کو سزا دینے کیلئے فوری اور عملی اقدامات کئے جائیں اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو روکنے کیلئے عبرت ناک طریقے اپنائے جائیں۔ الجزیرہ نے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس نے زور دیا کہ وہ غزہ میں حقائق کی کوریج جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے، باوجود اس کے کہ اسرائیلی فوج صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو مسلسل نشانہ بنا کر سچائی کو دبانے کی کوششیں کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا اشارہ: غزہ وسیع تر علاقائی امن کوششوں کا حصہ بن سکتا ہے
غزہ میں صحافی شہدا کی بڑھتی ہوئی تعداد
سرکاری میڈیا آفس کے مطابق، غزہ میں ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیل کی فوجی جارحیت کے آغاز سے اب تک ۲۶۲ سے زائد صحافی اور میڈیا اہلکار شہید ہوچکے ہیں، جو دنیا بھر میں کسی بھی تنازع کے دوران صحافیوں کے جانی نقصان کی اب تک کی سب سے بڑی ریکارڈ کی گئی تعداد میں سے ایک ہے۔ ۳ مئی کو جاری کردہ ایک بیان میں، میڈیا آفس نے بتایا تھا کہ ان کے جائزے کے مطابق یہ تعداد ایک منظم پالیسی کی عکاس ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کی آواز کو دبانا اور حقائق کو باقی دنیا تک پہنچنے سے روکنا ہے۔