’بلومبرگ نیو اکنامی فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس کا مطلب اس طاقت سے ہے جو نہ صرف اپنے لیے ہو بلکہ جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بااختیار بناتی ہو۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 12:58 PM IST | Agency | New Delhi
’بلومبرگ نیو اکنامی فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس کا مطلب اس طاقت سے ہے جو نہ صرف اپنے لیے ہو بلکہ جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بااختیار بناتی ہو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ’پاور ٹو امپاور‘ کو ترقی کے تئیں ملک کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دوسروں کی قیمت پر نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے یہاں ’بلومبرگ نیو اکنامی فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’پاور ٹو امپاور‘ کا مطلب اس طاقت سے ہے جو نہ صرف اپنے لیے ہو بلکہ جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بااختیار بناتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات، ادائیگی کے نظام اور ٹیکنالوجی جیسی جن چیزوں نے کبھی دنیا کو جوڑا تھا، آج انہی کا استعمال ہتھیار کے طور پر کیا جا رہا ہے، اور انہیں دباؤ و دبدبے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ۲۱؍ویں صدی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ہے۔ چاہے کورونا کے وقت ویکسین کی ضرورت ہو، ڈیجیٹل ادائیگی کے مضبوط ماڈل کی یا پھر صلاحیتوں کی، ضرورت کے وقت دنیا نے ہندوستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب بھی دنیا کو ایک مستحکم سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، ہندوستان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے۔ ہم دوسروں کی قیمت پر آگے نہیں بڑھتے، ہم دنیا کیلئے آگے بڑھتے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال اعتماد کا ہے، سپلائی چین جاری رہے گی یا نہیں، شراکت دار ملک ساتھ کھڑا رہے گا یا نہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہندستان ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں پہلے بھی کئی عالمی شراکت داریاں قائم کی گئیں جن کا مقصد صرف اپنے اپنے مفادات کا تحفظ تھا۔ دوسری طرف، ہندوستان نے انٹرنیشنل سولر الائنس، بگ کیٹ الائنس اور کوئلیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر جیسے پلیٹ فارم دیئے ہیں جن میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان جوڑنے اور جڑنے پر زور دیتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:جنتر منتر کو ’’ڈی نوٹیفائی‘‘ کرنے کیخلاف عرضیوں پرکل سپریم کورٹ میں سماعت
وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس کے باوجود ہندوستان جو کچھ بھی کرتا ہے، اس کا کریڈٹ کبھی نہیں چاہتا۔ شاید پہلی بار کسی وزیر اعظم کی طرف سے ’صفر‘ کیلئے رائلٹی کے ذکر کی مثال قائم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان جو کرتا ہے اس کا کریڈٹ کبھی نہیں چاہتا۔ ہندوستان نے دنیا کو’صفر‘ دیا لیکن کبھی اس کیلئے رائلٹی نہیں مانگتا۔‘‘
ہندوستان کی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ملک کی معیشت میں آنے والی مضبوطی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ۱۳۔۱۲؍ سال پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے ۴؍ فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ اب یہ گھٹ کر۰ء۶۱؍ فیصد رہ گیا ہے۔ ملک کے پاس۷۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور بینکنگ کا نظام کافی مضبوط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ریٹنگ ایجنسیاں ہندستان کی سوورین ریٹنگ اپ گریڈ کر رہی ہیں۔
گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)، دیوالیہ کوڈ اور لیبر کوڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریفارم ایکسپریس آج تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دنیا کے تمام ممالک کو مل کر چلنے، ایک آواز میں بولنے اور مل کر سوچنے کی اپیل کی۔
’’ہندوستان جمہوریت کی ماں ہے‘‘
ایک جانب نئی دہلی میں ’جمہوریت کو بچانے‘ کی تحریک چل رہی ہے، وہیں دوسری جانب’ بلومبرگ نیو اکانومی فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے جمہوریت پر خوب باتیں کیں اور وطن عزیز کو جمہوریت کی ماں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں۱۰۰؍ سے زیادہ زبانیں ہیں، تقریباً۸۰؍ ہزار رجسٹرڈ اخبارات اور ایک ہزار سےزیادہ سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز ہیں۔ اتنا ہی نہیں سوشل میڈیا کے دور میں، ہندوستان میں یوٹیوب کے۵۰؍کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ ہمارے یہاں الگ الگ پلیٹ فارموں پر گروپ ڈسکشن ہوتے ہیں جہاں مختلف فرقوں اور طبقوں کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس میں ڈیجیٹل پاور نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔‘‘