• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ووٹ چوری کے ساتھ ہی کانگریس نے حکومت کو مہنگائی پر بھی گھیرا

Updated: October 14, 2026, 1:05 PM IST | Agency | New Delhi

کانگریس ترجمان جے رام رمیش نے کہا کہ ’ووٹ چوری سچائی ہے، کمر توڑ مہنگائی ہے‘، اعداد وشمار کے حوالے سے مزید کہا کہ خردہ مہنگائی ۲۳؍ماہ کی اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

Congress leader Jairam Ramesh frequently corners the government with his questions. Photo: INN
کانگریس لیڈر جے رام رمیش اپنے سوالات سے حکومت کو اکثر گھیرتے رہتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ان دنوں ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس، مرکزی حکومت کو گھیرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ ایک طرف کانگریس ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف زوردار تحریک چلا ہی رہی ہے، وہیں دوسری طرف مودی حکومت کو مہنگائی کے محاذ پر بھی گھیرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے پیر کو ان دونوں محاذ پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ کی شروعات ہی ایک دلچسپ سلوگن کے ساتھ کی ہے ’’ووٹ چوری سچائی ہے، کمر توڑ مہنگائی ہے۔‘‘

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں مستقل بڑھ رہی مہنگائی پر خاص توجہ دی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی ایک اخبار کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’’سرخی بتاتی ہے ستمبر ماہ میں مہنگائی۵۴ء۵؍ فیصد پہنچ گئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خردہ مہنگائی۷۴ء۷؍ فیصد ہو گئی ہے۔ یعنی کھانے کی تقریباً ہر چیز کی قیمت حد پار کر چکی ہے۔ مثلاً پیاز۱۰۸؍ فیصد مہنگا، لہسن۵۵؍ فیصد، ادرک۶۳؍ فیصد اور لیموں۳۶؍ فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔‘‘ اس میں آگے لکھا گیا ہے کہ ’’سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خردہ مہنگائی مارچ میں۴۰ء۳؍ فیصد سے لگاتار بڑھتے ہوئے ستمبر میں۵۴ء۵؍ فیصد پر پہنچ گئی، جو۲۳؍ ماہ کی اعلیٰ سطح ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: طویل احتجاج کا خدشہ، دہلی پولیس کا ۲۷؍ ہزار سی اے پی ایف جوانوں کی تعیناتی میں توسیع کا مطالبہ

کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا اثر صرف تھالی تک محدود نہیں ہے۔ ٹرانسپورٹیشن، تعلیم، کپڑے و جوتے اور گھریلو سامان سمیت سبھی ضروری سامان مہنگے ہو رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’غریب کی تھالی سے نوالہ، متوسط طبقہ کی جیب سے بچت غائب ہو رہی ہے اور قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، لیکن وزیر اعظم جی تکبر میں ڈوبے ہیں، عوام کی پریشانیوں پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اچھے دن کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والی حکومت ووٹ چوری کے ساتھ بچت چوری بھی کر رہی ہے۔‘‘

مودی حکومت کے خلاف جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے جے رام رمیش نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جب ووٹ چور حکومت کو عوام کی ناراضگی اور ووٹ کی کمی کا خوف ہی نہیں ہے تو وہ عوام کی پروا کیوں کرے گی؟ اب یہی ہو رہا ہے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، ووٹ چوری پر عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے، لیکن وزیر اعظم جی ’مونی بابا‘ (خاموش بابا) بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’اب ان کیلئے جھولا اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ملک میں جمہوریت کی بحالی تک ہماری لڑائی جاری رہے گی: راہل گاندھی

’وی بی-جی رام جی‘ میں بھی گھوٹالا، کانگریس  نے فرضی حاضری کا سنگین الزام لگایا

کانگریس نے ’وی بی-جی رام جی‘ منصوبے میں بھی سرکاری لوٹ کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک ہندی روزنامہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ بی جے پی کی سیاست میں نہ بھگوان شری رام کے تئیں سچا عقیدہ دکھائی دیتا ہے، نہ  ہی غریبوں کے تئیں ہمدردی دیکھنے کو ملتی ہے۔

معاصر ہندی اخبار کی رپورٹ کا عنوان ہے ’وی بی-جی رام جی منصوبہ میں کلون ایپ سے فرضی حاضری لگانے کا کھیل‘۔ اس کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نےایک پوسٹ کیا کہ’’چندہ چوری کے بعد منریگا میں۱۰۰؍ دنوں کے روزگار کے حق پر بھی چوٹ، اور اب وی بی-جی رام جی میں فرضی حاضری کے ذریعہ غریبوں پر سرکاری لوٹ کا کھیل۔‘‘  انہوں نے مزید لکھا کہ ’’یہ محض بدعنوانی نہیں، عقیدے کے نام پر بھروسہ اور روزگار کے نام پر غریبوں کے حقوق کی لوٹ ہے۔‘‘ جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’’بھگوان شری رام کا نام لے کر اقتدار کی سیاست اور غریبوں کے حقوق پر حملہ، یہی بی جے پی کا اصل کردار اور چہرہ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK