• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پران نے طویل عرصے تک بطور ویلن فلموں پر راج کیا

Updated: February 12, 2026, 11:02 AM IST | Agency | Mumbai

بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار پران سکند ہندوستانی سنیماکے تاریخ ساز فنکاروں میں شمارہوتے ہیں۔ وہ خاص طور پر ویلن کے کرداروں کے لیےمشہور تھے، لیکن بعد میں انہوں نے مثبت اور کردار نگاری والے رول بھی کیے۔بالی ووڈ میں پران ایک ایسےاداکار تھے جنہوں ۵۰ء اور۷۰ءی دہائی کے دوران فلم انڈسٹری میں ویلن کا (منفی) کردار ادا کرنے والے تنہا حکمراںکی حیثیت سے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔

The characters of Purana have become immortal and alive forever.Photo:INN
پران کے کردار ہمیشہ کیلئے زندہ جاوید بن گئے ہیں۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار پران سکند ہندوستانی سنیماکے تاریخ ساز فنکاروں میں شمارہوتے ہیں۔ وہ خاص طور پر ویلن کے کرداروں کے لیےمشہور تھے، لیکن بعد میں انہوں نے مثبت اور کردار نگاری والے رول بھی کیے۔بالی ووڈ میں پران ایک ایسےاداکار تھے جنہوں ۵۰ء اور۷۰ءی دہائی کے  دوران فلم انڈسٹری میں ویلن کا (منفی) کردار ادا کرنے والے تنہا حکمراںکی حیثیت سے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔ 
پران کا پورا نام پران کشن سکند تھا۔ زیادہ تر لوگ انہیںصرف پران کے نام سے جانتےہیں۔پران کی پیدائش ۱۲؍ فروری ۱۹۲۰ء  کو پرانی دہلی کے علاقےبلی ماران کے ایک خوشحال پنجابی گھرانے میں ہوئی تھی۔  ان کے والدکیول کرشن سکند ایک سول انجینئر تھے اور سرکاری ٹھیکےلیاکرتے تھے۔ ان کی ماں کا نام رامیشوری تھا۔

یہ بھی پڑھئے:اداکارہ سری لیلا نے ایم بی بی ایس مکمل کیا، تقسیم اسناد کی تقریب کا ویڈیو وائرل

۱۹۴۰ءکی فلم ’يملا جٹ‘سےپران نے اپنے فلمی کریئرکاآغاز کیا جبکہ وہ خاندان(۱۹۴۲ء)نامی فلم میں سب سے پہلے اہم کردار میں نظر آئے،  پران نے ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۶ءکے دوران لاہور میں لگ بھگ ۲۲؍فلموںمیں کام کیا تھاجن میں سے ۱۸؍فلمیں ۱۹۴۷ءتک ریلیز ہوگئیں۔ پران ۱۹۴۰ء تا ۱۹۴۷ء کے درمیان ایک فلمی ہیرو کے طور پر جلوہ گر ہوئے تھے۔اس دوران ہندوستان ۔ پاکستان کی تقسیم ہوگئی جس کے باعث پران کے کریر کو وقتی طور پر بریک لگا، پھر وہ لاہور سے بمبئی آ گئے جہاں انہوں نے حصول معاش کے لیے بھی کافی جدوجہد کی۔۱۹۴۸ ء میں انہیں سعادت حسن منٹو اور اداکار شیام کی مدد سے’ضدی‘فلم میں کام کرنےکاموقع مل گیا، جس میں دیوآنند اور کامنی کوشل  نےاہم کردار ادا کیے تھے۔ اس فلم کے ذریعے بمبئی میں پران کے کریئر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پہلے ان کی فلم ضدی اور پھر بڑی بہن نے بھی کامیابی حاصل کی۔  ویلن کے کردار میں کافی پسند کئے جانے کے سبب پران نےفلموں میں اپنا مخصوص مقام بنانے کیلئے ویلن کے کردار کو ہی ترجیح دی اور اس طرح انہوں نے دنیاپراپناسکہ ایسا جمایا کہ ساری دنیا میں دھوم مچادی۔

پران نے ویلن کے طور پر ایک خاص اسٹائل اختیار کیاتھا۔ وہ چبا-چباکرالفاظ اداکرنے کے ساتھ سگریٹ نوشی کرتے ہوئے منہ سے دھوئیں کے مرغولے نکالتے تھے۔ ان کا یہ انداز کافی مقبول ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایپسٹین فائلز: ہردیپ سنگھ پوری نے جیفری سے ملاقات تسلیم کی

اداکار پران نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد ایوارڈز وصول کیے۔انہوں نے ۱۹۶۷ء، ۱۹۶۹ء اور ۱۹۷۲ء میںفلم فیئرایوارڈز حاصل کیے۔ ۱۹۹۷ءمیںانہیں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ۲۰۰۰ء میںاداکار پران کو اسٹارڈسٹ نے ’ویلن آف دی ملینیم ‘ کے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا جو بلاشبہ ان کی فن کارانہ صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔ ۲۰۰۱ءمیں آرٹس کے لیے ان کی بے مثال خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں  پدم بھوشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ ۲۰۱۳ءمیں پران کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی دیا گیا جوفلموں کے لیے حکومت ہند کا سب سے بڑا قومی ایوارڈ ہے۔ ۲۰۱۰ء میں انہیں سی این این کی ۲۵؍ بہترین اور آل ٹائم ایشیائی اداکاروں کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔اداکار اور ویلن پران ۱۲؍ جولائی ۲۰۱۳ء کوطویل عرصہ تک نمونیہ کی جان لیوا بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد ۹۳؍سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK