عیدالاضحی پر اتحاد و اتفاق کی دعائیں

Updated: July 21, 2021, 2:28 AM IST | Mumbai

مشرق وسطیٰ، یورپ اورامریکہ سمیت متعدد ممالک میں کورونا کے سبب سادگی سے عید منائی گئی اور جانور قربان کئے گئے

Eid prayers were arranged in Masjid-ul-Haram keeping in view all precautionary measures. (Photo: Agency)
مسجد الحرام میں نماز عید کا اہتمام تمام احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھ کر کیا گیا۔(تصویر: ایجنسی )

: سعودی عرب، فلسطین، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں سمیت یوروپ، امریکہ، کینیڈا، انڈونیشیا، جاپان اور افغانستان کے علاوہ دنیا کے دیگر خطوں میں عیدالاضحی کا تہوار  مذہبی جوش و جذبے سے مناگیا ۔مسجدالحرام اور مسجد نبوی میں نماز عید کے روح پرور اجتماعات ہوئے، جہاں نماز عید میں دنیا بھر میں کورونا وائرس کے خاتمہ اور مسلمانوں کے مابین اتحاد و یکجہتی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس مرتبہ کی عید بھی عالمی وباء کورونا کی وجہ سے سادگی سے ہی منائی گئی  اور اسی جذبے کے تحت جانور قربان کئے گئے۔گزشتہ برس کی مانند اس سال بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کئی اہم مسلم ممالک بشمول پاکستان، متحدہ عرب امارات اور الجزائر نے عید کے اجتماعات کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔
  اسی طرح رواں برس بھی محدود پیمانے پر حج کا انعقاد کیا گیا جس میں سعودی عرب میں مقیم ۶۰؍ ہزار افراد کو حج ادا کرنے کی اجازت دی گئی جنہوں نے نہ صرف کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی  بلکہ اور کسی دائمی بیماری کا شکار نہ تھے۔سعودی عرب میں حجاج  آج شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد واپس مکہ جائیں گے ۔ حجاج کرام کو سعودی حکومت نے کورونا  کے پیش نظر سینی ٹائزڈ کنکریاں فراہم کی ہیں۔حجاج کرام مزدلفہ میں کچھ دیر قیام کے بعد وسط شب کو منیٰ کی طرف روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے جمرہ عقبہ میں رمی جمرات کے دوران سات سات کنکریاں ماریں ۔ گزشتہ روز یعنی پیر کو میدان عرفات میں رکن اعظم کی ادائیگی کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کی جانب روانہ ہوئے تھے۔حجاج کرام کی ایک سے دوسرے مقدس مقام کی طرف نقل وحرکت کے لیے ایک مربوط پلان تیار کیا گیا  ہے جس پر عمل کرتے ہوئے تمام حجاج کرام نے نظم وضبط کے ساتھ مناسک حج ادا کئے۔سعودی وزارت حج کی طرف سے حجاج کے لیے کنکریوں کا خصوصی طور پر انتظام کیا گیا ہے۔ انہیں پلاسٹک کی تھیلیوں میں پیک کنکریاں پیش کی گئی ہیں   ۔جمرہ عقبہ جسے جمرہ کبریٰ بھی کہا جاتا ہے، میں حجاج کرام احرام کی حالت میں رمی کرتے ہیں۔ اس کے بعد قربانی کرتے ہیں اور احرام اتارتے ہیں ۔ رمی جمرات کا عمل طلوع آفتاب سے عیدالاضحی کے پہلے دن دس ذی الحجہ کو سنت رسولؐ کے مطابق سورج کے زوال تک جاری رہتا ہے۔ حجاج کرام ایام تشریق کے دن یعنی  ۱۱؍ ،۱۲؍ اور ۱۳؍ ذی الحجہ تک منیٰ میں قیام کرتے ہیں۔ اس دوران وہ تین بار رمی جمرات کرتے ہیں۔ 
  ادھر دنیا کے بیشتر ممالک  میں عید الاضحی کا آغاز دو رکعت نماز عید کی ادائیگی کے ساتھ ہوا جبکہ افغانستان کے صدارتی محل میں نماز عید کی ادائیگی کے دوران قریبی مقام پر راکٹ داغے گئے۔سعودی عرب سمیت متعددملکوں میں نماز عید میں دنیا بھر میں کورونا وائرس کے خاتمہ اور مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ فلسطین میں مسجد اقصیٰ میں نماز عید کا اجتماع ہوا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز عید کے بعد لوگوں نے سنت ابراہیمی ادا کرتے ہوئے قربانی کی۔
 ترکی میں آیا صوفیا میں نماز عید ادا کی گئی، ترک صدر نے عید کی مبارکباد دی، اسی طرح متحدہ عرب امارات،انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی نماز عید کے اجتماعات ہوئے جس میں مسلم اُمت کی سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔انڈونیشیا میں کورونا وبا کے بدترین پھیلاؤ کے باعث بڑے اجتماعات پر پابندی ہونے کے باوجود مساجد کے باہر نمازِ عید ادا کی گئی اور جانور قربان  کئے گئے۔واضح رہے کہ سب سے زیادہ مسلم آبادی والا یہ ملک کورونا وائرس کی بدترین زد میں ہے اور گزشتہ روز یہاں وبا کے باعث ایک ہزار۳۳۸؍افراد لقمہ اجل بنے  چنانچہ عید کے موقع پر عوام کو سفر سے روکنے کے  لئے سڑکوں پر ناکہ بندی کردی گئی تھی  ۔دوسری جانب بنگلہ دیش نے کورونا کیسز میں اضافے کے باوجود وبا کا پھیلاؤ روکنے کے  لئے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں عید کی وجہ سے ۸؍ روز کا وقفہ دیا گیا تھا تا کہ لوگ خریداری اور اہلِ خانہ کے ساتھ عید منانے کیلئے سفر کرسکیں۔ہمسا یہ ملک چین میں بھی  منگل کو ہی عید الاضحی  منائی گئی ۔واضح رہے کہ پاکستان اور ہندوستان سمیت چند ممالک میں عید الاضحی آج  منائی جائے گی۔

hajj 2021 Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK