بحران زدہ سری لنکا میں صدر کی حلف برداری

Updated: July 22, 2022, 11:39 AM IST | Agency | Colombo

رانیل وکرما سنگھے نے مظاہروں کے درمیان سری لنکا کے نئے صدر کے طور پر حلف لیا ، اپنے سیاسی مخالفین سے بھی اتحاد کی اپیل کی ، کہا :ووٹنگ سے پہلے تک آپ میرے خلاف تھے، اب میرے ساتھی ہیں۔ضروری اشیاء کی قیمتوںمیں غیر معمولی اضافہ

A photo of the swearing-in ceremony of Ranil Wickremesinghe, the newly elected President of Sri Lanka..Picture:AP/PTI
سر ی لنکا کے نومنتخب صدر رانیل وکرماسنگھے کی حلف برداری کے موقع کی ایک تصویر۔ تصویر: اےپی /پی ٹی آئی

 رانیل وکرما سنگھے نے  تاریخ کے بد ترین معاشی بحران کے دوران سری لنکا کے نئے صدر کے طور پر حلف لیا۔ وہ سوا دو کروڑ  عوام کے صدار ایک ایسے  وقت پر بنے ہیں جب ملک میں خریداری کیلئے ڈالر کی شدید کمی ہے اور اشیائے خورونوش کے ساتھ ساتھ ایندھن اوردواؤں کی بھی شدید قلت ہے۔ مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے  ۔ ضروری اشیا ء کی قیمتوں میں ۵؍ گنا تک کا اضاہوا ہے۔  میڈیارپورٹس کے مطابق رانیل وکرما سنگھے نے جمعرات کو اپنی حلف برداری کی تقریب کے دوران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ ملک میں چند ماہ قبل جو صورتحال پیدا ہوئی تھی وہ دوبارہ نہیں ہونی چاہئے، اس لئے سب کو متحد ہو کر آگے بڑھنا چاہئے۔ ملک کے عوام ہم سے متحد ہو کر کام کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم دہائیوں کے بدترین معاشی بحران سے نکلنے کیلئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے  اپنی سیاسی مخالفین کو براہ راست مخاطب کرتے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے تک آپ میرے خلاف  تھے، اب  میرے ساتھی ہیں۔ ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے سب کی ضرورت ہے، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
 رانیل وکرماسنگھے۶؍ بار سری لنکا کے وزیر اعظم  رہ چکے ہیں، وہ گوٹابایا راجا پکشے کے جانشین بنے ہیں جو معیشت کو سنبھالنے میں ناکامی  کے بعد بڑے پیمانے پر  ملک گیر مظاہروں کے ددرمیان سری لنکا سے فرار ہو گئے تھے اور گزشتہ ہفتے اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ جمعرات کو حلف برداری کی تقریب پارلیمنٹ میں منعقد ہوئی اور ملک کے چیف جسٹس نے اس تقریب کی صدارت کی۔  اسی دوران وکرما سنگھے کے صدر منتخب ہونے کے بعد بھی مظاہرین نے اپنا احتجاج جاری رکھا  اور صدر دفترکو اپنے کنٹرول میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ ان کی تعداد اب پہلے سے  بہت کم ہوگئی ہے۔ مظاہرین میں شامل فادر جیونتا پیرس  کے مطابق آج کی پارلیمنٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ نہیں  ہے ،عوام دشمن حکمراں کے انتخاب کے باوجود  ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد معاشی، سیاسی اور سماجی بحران کو ختم کرنا ہے۔  جمعرات کو بھی مظاہرین صدارتی محل کے سامنے جمع ہوئے اور `گو بیک رانیل کے نعرے لگائے۔صدارتی سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کرنے والوں میں شامل ایک شہری نے کہا کہ ہم ہار نہیں مانیں گے، ملک کو نظام کی مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے، ہم ان کرپٹ سیاستدانوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اسی کیلئے ہم یہ کوشش اور احتجاج کر رہے ہیں۔  مظاہرین کا کہنا ہے کہ رانیل وکر ما سنگھے اورگوٹابایا راجا پکشے ایک ہی سکے کے دوپہلو ہیں۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔  اس دوران   رانیل وکر ما سنگھے کے صدر بننے پر ملک کے کچھ حصوں میں جشن بھی منا یاگیا۔   قبل ازیں پا رلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوران کامیابی کے  بعد نومنتخب صدر رانیل وکرما سنگھے طاقتور راجا پکشے خاندان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں گزشتہ روز مندر میں عبادت کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ میں سابق صدر گوٹابا یا راجا پکشے کا دوست نہیں ہوں، میں ملک کےعوام کا دوست ہوں۔ واضح رہےکہ رانیل وکرما سنگھے اس سے قبل گوٹایا راجا پکشے کی حکومت میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔   ادھر ملک میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آلو ۳۰۰؍ روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے ۔ قیمتیں زیادہ ہونے سے مارکیٹ میں سناٹا رہتا ہے۔ دکاندار دن بھر گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے رہتےہیں۔ 

sri lanka Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK