بی ایم سی کی کارروائی سے پھیری والوں کے مال نہ خریدنےسے سبزیوں اورپھلوں کی قیمتوں میں ۳۰۔ ۲۰؍ فیصد کمی آئی ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 11:28 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
بی ایم سی کی کارروائی سے پھیری والوں کے مال نہ خریدنےسے سبزیوں اورپھلوں کی قیمتوں میں ۳۰۔ ۲۰؍ فیصد کمی آئی ہے۔
جہاں ایک جانب اے پی ایم سی میں سبزیوں اورپھلوں کی اچھی خاصی آمد ہے، وہیں دوسری طرف ممبئی میں پھیری والوں کے خلاف جاری انہدامی کارروائی سے سبزیاں اور پھل خریدنےوالوں کی کمی سےواشی میں سبزیاں اورپھل بڑی مقدار میں جمع ہوگئی ہیں ۔ مال کے زیادہ جمع ہونے سے ان کی قیمتوں میں ۳۰۔ ۲۰؍ فیصد کمی آئی ہے۔
واضح رہےکہ فی الحال اے پی ایم سی سبزی منڈی میں سبزیوں کی اچھی خاصی آمد ہےلیکن شہر ومضافات میں جاری انہدامی کارروائیوں اور پھیری والوں کو دھندہ لگانےکی اجازت نہ دینے سےسیکڑوں خردہ تاجر واشی مارکیٹ مال خریدنے نہیں جارہےہیں جس سےیہاں سبزیوں اور پھلوں کاذخیرہ جمع ہوگیاہے۔ خیال رہےکہ سبزیوں کیلئے سازگار موسم کے باعث پیداوار میں اضافہ ہوا ہےجس کی وجہ سے مارکیٹ میں سبزیاں بڑی مقدار میں پہنچ رہی ہیں۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن گزشتہ کچھ دنوں سے شہر ومضافات میں ہر روز ہاکروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہےجس کی وجہ سے ہاکروں کے کاروبار بند ہیں۔ ایسے میں اے پی ایم سی سبزی منڈی میں سبزی خریدنے کیلئے آنے والے ہاکروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ جمعہ اور سنیچر کو بھی پھیری والے کم تعدادمیں واشی مارکیٹ پہنچے۔ ایسے میں سبزیوں اور پھلوں کی نقل و حرکت نہ ہونے سے مارکیٹ میں مال کافی جمع ہوگیاہے، مجبوراً تاجروں کو انہیں کم قیمت پر فروخت کرنا پڑرہاہے۔ اس کے بعد بھی مال کاباقی ذخیرہ ہو نے سے تاجروں کو نقصان ہورہا ہے۔ اس کا اثر براہ راست سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں پر پڑرہا ہے۔ ٹماٹر، گوبھی، بندگوبھی، بھنڈی اور گوار جیسی سبزیوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم کوٹہ ختم کرنےکے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج
مدنپورہ کی عائشہ انصاری کےمطابق ’’ تھوک بازار میں قیمتیں کم ہوئی ہوں گی لیکن خردہ بازار میں سبزیاں اورپھلوں کی قیمتوں میں کوئی خاص فرق نہیں دکھائی دیا۔ یہ ضرور ہےکہ بی ایم سی کی انہدامی کارروائیوں سے دکانیں کم لگ رہی ہیں لیکن جہاں تک قیمتوں کامعاملہ ہے اس میں کوئی واضح تبدیلی نہیں محسوس ہوئی۔ ‘‘
اے پی ایم سی مارکیٹ میں پھلوں کا کاروبار کرنےوالے عتیق احمد نے بتایاکہ’’ایک تومہنگائی کااثر ہے، دوسرے پھیری والوں کے خلاف ہونےوالی کارروائی سے کاروبار متاثر ہے۔ رمضان المبار ک میں جس طرح پھلوں کا کاروبار ہوتا ہے، اس میں ۲۰؍ فیصد کمی دکھائی دے رہی ہے۔ صرف تربوز، خربوزہ، انناس اور پپیتا معمول کےمطابق فروخت ہورہاہے دیگر پھل مثلاً سیب، موسمبی اورسنترہ کی فروخت کم ہوئی ہے۔ مجموعی طورپر پھلوں کاکاروبار ۵۰؍فیصد کم ہوا ہے جس سے پھلوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ ‘‘
اے پی ایم سی سبزی منڈی کے ڈائریکٹر شنکر پنگلے کےمطابق ’’فٹ پاتھوں پر کارروائی کے باعث ایک تو خردہ فروش مال خریدنے نہیں آ رہے ہیں ، دوسرےمال کی آمد زیادہ ہونے سے نہ فروخت ہوپانے والا مال مارکیٹ میں ادھر ادھر پڑا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں قیمتیں گر گئی ہیں۔ کم قیمتوں سے ایک طرف صارفین مستفید ہو رہے ہیں تو دوسری طرف کسان اور ہول سیلرز مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر ہاکروں کے خلاف کارروائی جاری رہی تو مندی کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ ‘‘
واشی مارکیٹ میں پتوں والی سبزیوں کے تھوک قیمت : ہری دھنیاکی جوڑی ۱۲۔ ۱۰؍اور پالک ۷۔ ۶؍روپے ہے۔ اسی طرح سبزیوں کی تھوک قیمت مٹر۲۸۔ ۲۲؍، گوار۸۰۔ ۵۰؍، کالی مرچ ۵۰۔ ۳۶؍، پھلی ۷۰۔ ۵۰؍، بھنڈی ۳۰۔ ۲۶؍، ٹماٹر ۱۴۔ ۱۰؍اور کالے بینگن ۲۲۔ ۱۶؍روپے کلو کے حساب سے دستیاب ہیں۔