• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’انسانی بنیاد پر ایئرپورٹ پر نماز کے لیے عارضی جگہ فراہم کرنے پر غور کیا جائے‘‘

Updated: February 22, 2026, 11:29 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

رکشا۔ ٹیکسی اولا اوبر کے ڈرائیوروں کی یونین کی عرضداشت پر ہائی کورٹ کا ایم ایم آر ڈی اے کو مشورہ۔ عرضی گزار نے پرانے شیڈ کو منہدم کرنے کو غیرقانونی قرار دیا۔

Bombay High Court. Photo: INN.
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ کو ’ایم ایم آر ڈی اے‘ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں غور کرکے جواب دے کہ کیا وہ صرف انسانی بنیادوں پر رکشا، ٹیکسی، اولا اور اوبر ڈرائیوروں اور مسافروں کو بھی ممبئی کے ڈومیسٹک ٹرمینل کے قریب عارضی شیڈ میں نماز ادا کرنے کی اجازت دے گا۔ 
جسٹس بی پی قلابہ والا اور جسٹس فردوس پونی والا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ’ٹیکسی-رکشا اولا اوبر مینس یونین‘ کے ذریعہ داخل کی گئی پٹیشن پر یہ مشورہ دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایئرپورٹ کا کام کاج سنبھالنے کی ذمہ داری ۲۰۲۰ء میں ’جی وی کے گروپ‘ نے لے لی تھی اور ایئر پورٹ پر نماز کیلئے دستیاب جگہ کو منتقل کردیا تھا تب سے یہ مسئلہ چل رہا ہے البتہ پٹیشن اسی سال داخل کی گئی ہے جس میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ عدالت ایئر پورٹ میں عارضی عبادت گاہ سے محروم ہونے والے ہزاروں افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ایئر پورٹ کی حدود میں مسلمانوں کیلئے عبادت کی جگہ دستیاب تھی جہاں گزشتہ ۳۰؍ برسوں سے عبادت کی اجازت تھی۔ یہ نیم پکا شیڈ تھا جسے یومیہ تقریباً ۲؍ ہزار افراد استعمال کرتے تھے اور رمضان المبارک میں اس جگہ کو سحری اور افطار کیلئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ جب ۱۸؍ اگست ۲۰۲۰ء کو جی وی کے گروپ نے ممبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ لمیٹڈ (ایم آئی اے ایل) سے ایئر پورٹ کی ذمہ داری لے لی تو یہاں کے ٹیکسی والوں کو اطلاع دی گئی تھی کہ عبادت کے اس کمرے کو ایئر پورٹ کے دیگر حصہ میں منتقل کردیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مسلم کوٹہ ختم کرنےکے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج

اس کے بعد اکتوبر ۲۰۲۰ء میں یونین نے ڈپٹی پولیس کمشنر اور جی وی کے گروپ کے سی ای او کو تحریری اطلاع دی کہ نئی جگہ پر عبادت کیلئے مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور یہاں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب نہیں کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ۲۰۲۴ء میں اس شیڈ کو پارکنگ کی جگہ پیٹرول پمپ کے پاس منتقل کردیا گیا تھا۔ اس تعلق سے بھی یونین نے انتظامیہ کو مطلع کیا کہ اس جگہ پر وضو خانہ میں کچھ مسائل ہیں اور یہاں بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کئے گئے ہیں۔ یونین نے جنوری سے مارچ کے درمیان ایئر پورٹ انتظامیہ اور ایئر پورٹ پولیس اسٹیشن کے سینئر کو کئی خطوط لکھے لیکن سدھار آنے کے بجائے ۵؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو ایم ایم آر ڈی اے نے مذکورہ عارضی شیڈ بھی منہدم کردیا۔ 
یونین نے آر ٹی آئی سے پتہ کیا کہ سنتوش مشرا نامی شخص کی شکایت پر مذکورہ شیڈ منہدم کیا گیا تھا۔ سنتوش نے شیڈ کو غیرقانونی بتایا تھا۔ عرضی گزار نے ایم ایم آر ڈی اے، سینئر انسپکٹر اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو کئی خطوط لکھے کہ انہدام من مانی طریقہ سے کیا گیا اور اس تعلق سے یونین کو کوئی پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا تھا لیکن کہیں سے کوئی جواب نہیں  آیا تو یونین نے ۱۹؍ جنوری کو بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کردی جس میں کہا گیا ہے کہ یہ شیڈ غیرقانونی نہیں تھا۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ عرضی گزار تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں لیکن ایم ایم آر ڈی اےنے امتیازی برتائو کیا ہے کیونکہ ایئر پورٹ کی حدود میں ۲؍ مندر ہیں جن کی اچھے سے دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ ایئر پورٹ چلانے کے ذمہ دار اڈانی ایئر پورٹ ہولڈنگس لمیٹڈ، ایم آئی اے ایل اور ریاستی محکموں کو ہدایت دی جائے کہ یاتو اسی جگہ شیڈ تعمیر کیا جائے یا متبادل جگہ فراہم کی جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK