• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگاؤں کے حافظ مولانا محمد اطہرمحمد سعید ۴۱؍برس سےتراویح پڑھا رہے ہیں

Updated: February 22, 2026, 11:18 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

حافظ مولانا محمد اطہر نے معروف دینی درسگاہ معہد ملت سے۱۹۷۶ء میں حفظ مکمل کیا، ان کے تین بیٹے بھی حافظ قرآن ہیں اور تراویح پڑھا رہے ہیں جبکہ ایک بیٹی استاذِحدیث وتفسیر اوردوسری بیٹی بھی عالمہ وحافظہ ہے۔

Hafiz Maulana Muhammad Athar Muhammad Saeed, Hafiz Iftikhar Asjad Milli Shatashi, Hafiz Ehtesham Ansar Arqami. Photo: INN
حافظ مولانا محمد اطہر محمد سعید، حافظ افتخار اسجد ملی اشاعتی، حافظ احتشام انصر ارقمی، حافظ ارتکاز اشہر ملی ندوی۔ تصویر: آئی این این

حافظ محمد اطہر محمد سعید ملّی امسال۴۱؍ ویں محراب سنا رہے ہیں۔ انہوں نے حفظ مکمل کرنے کے بعد پہلی تراویح ۱۹۷۶ء میں مالیگاؤں کی اہل حدیث مسجد نیا پورہ میں پڑھائی تھی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور اب تک بلا ناغہ جاری ہے۔ 
جن مقامات پر تراویح پڑھانے کا اہتمام کیا وہ کچھ اس طرح ہیں :ناندگاؤں میں ایک سال، منماڑ مرکز نگینہ مسجدمیں ۷؍سال، سلوڑ تعلقہ امبھئی گاؤں میں ایک سال، چاندوڑ کے قریب وڈنیر بھیرو میں ایک سال، ممبئی میں متحدہ عرب امارات کے دفتر میں ملازمت کے دوران ۸؍ سال ممبئی میں الگ الگ جگہوں پر آگری پاڑہ میں بے نظیر ہاؤس اور گھاس بازار کی مسجد میں، چمبور میں جماعت اصلاح المسلمین مسجد میں نائب امام اور مؤذن بھی رہے اور تراویح بھی پڑھائی۔ اسی طرح اطلس ٹورس اینڈ ٹراویلس کے ذمہ دار کی رہائش گاہ ایورسٹ بلڈنگ میں پڑھانے کے علاوہ مالیگاؤں کی مینارہ مسجد اور زکریا مسجد میں بھی تراویح کی امامت کی۔ 
حافظ مولانا محمد اطہر نے معروف دینی درسگاہ معہد ملت میں ۱۹۷۴ء میں داخلہ لیا اور دو سال میں ۱۹۷۶ء میں حفظ مکمل کیا اور معہد ہی سے عالمیت بھی کیا۔ شعبۂ حفظ میں پہلے سال سلیمانی مسجد کے امام حافظ ریاض احمد نے پڑھایا، دوسرے سال حافظ عبدالقادر ہنگولوی کے پاس مکمل کیا اور حافظ بشیراحمد کے پاس دَورکیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بغرض معاش ۴؍ سال بھٹکل اور ہنگولی میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ اس کےعلاوہ اپنے مادرِعلمی معہد ملت میں بھی ۱۱؍برس تک شعبہ ٔحفظ میں تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ 

یہ بھی پڑھئے: سائن اسپتال میں فلم کی کمی سے مریض موبائل فون پر ایکسرے کی تصویر لینےپر مجبور

ممبئی سے مالیگاؤں لوٹنے کے بعد سے حافظ مولانا محمد اطہر انوار مدینہ مسجد نور باغ میں ۲۱؍ برس سے امامت وخطابت کے ساتھ ندوۃ العلماء کی شاخ جامعہ ابوالحسن علی ندویؒ میں تدریسی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔ اُن کا آبائی وطن پرتاپ گڑھ (یوپی ) ہے، ان کے آباء واجداد مالیگاؤں آئے تھے۔ انہوں نے اپنےتمام ۷؍ بچوں کودینی اورعصری علوم سے آراستہ کیا۔ ان کے تین بیٹے حافظ اور ان میں سے دو عالم بھی ہیں جبکہ دو بیٹیاں عالمہ اوران میں سے ایک حافظہ بھی ہے۔ سب سے چھوٹا بیٹا بھی ۱۰؍پارے حفظ کرچکا ہے۔ موصوف کے ایک صاحبزادے حافظ احتشام اَنصر نے بی کام کرلیا ہے اور سی اے کی تیاری کررہے ہیں۔ حافظ صاحب کے صاحبزادے ارتکاز اشہر مالیگاؤں سے قریب مہسدی نام کے ایک دیہات میں امسال ۱۳؍ ویں محراب سنارہے ہیں اور دوسرے صاحبزادے حافظ افتخار اسجد مالیگاؤں کی جامعۃ الہدیٰ مسجد میں تراویح پڑھا رہے ہیں۔ 
حافظ محمد اطہر محمدسعید کی بڑی صاحبزادی رمیزہ ابتسام فی الوقت ہزار کھولی علاقے میں واقع لڑکیوں کے مدرسہ جنت الفردوس میں جلالین شریف، بخاری شریف اور ترمذی شریف کے علاوہ فقہ کی مشہور کتاب ھدایہ پڑھا رہی ہیں اوردیگر دو عالمہ بیٹیاں کلیۃ الطاہرات اورجامعۃ الصالحات میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ 
حافظ محمد اطہر کا پورے سال سننے سنانے کا معمول رہتا ہے اس لئے رمضان المبارک میں زیادہ محنت نہیں کرنی ہوتی۔ البتہ ایک پرانا معمول یہ ہے کہ رمضان میں مغرب بعد گھر پر سناکر تراویح پڑھانے کے لئے جاتے ہیں۔ 
نئے حفاظ کو انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں یہ مشورہ دیا کہ تین پارہ دیکھ کر پڑھیں اور ایک دوسرے کو سنانے کا معمول بنائیں ، اس سے حفظ میں پختگی آتی ہے، محض رمضان المبارک کی محنت کافی نہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK