ممبئی میں گلوبل فن ٹیک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعدد چیلنجوں کے باوجود ملک کی شرح نمو(جی ڈی پی ) نے دنیا کو نئی امید دی ہے ،ٹیک کمپنیوں سے اے آئی اور نئی ٹیکنالوجی کے درست استعمال کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے کی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 9:07 AM IST | Agency | New Delhi
ممبئی میں گلوبل فن ٹیک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعدد چیلنجوں کے باوجود ملک کی شرح نمو(جی ڈی پی ) نے دنیا کو نئی امید دی ہے ،ٹیک کمپنیوں سے اے آئی اور نئی ٹیکنالوجی کے درست استعمال کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے کی اپیل کی۔
وزیر اعظم مودی نے ممبئی میں گلوبل فن ٹیک فیسٹ کا افتتاح کرتے ہوئے جو خطاب کیا اس میں انہوں نے ملک کی شرح نمو، جس پر کافی تنازع ہو گیا ہے، کے سلسلے میں اپنی پیٹھ تھپتھپائی اور کہاکہ سخت چیلنجوں اور مشکل حالات کے باوجود ہندوستان کی معیشت نے ۷ء۸؍ فیصد کی شرح نمو سے ترقی کی جو غیرمعمولی ہے۔ انہوں نے ممبئی کے جیو ورلڈ سینٹر میں منعقدہ اس تقریب میں کہا کہ اپریل سے جون کی سہ ماہی عالمی تنازعات، غیریقینی صورت حال، تجارتی کشیدگی اور توانائی و اشیائے ضروریہ کی سپلائی چین پر دباؤ کے باعث ’’سب سے زیادہ چیلنجنگ‘‘ رہی لیکن اس کے باوجود ہندوستان کی معیشت کی شرح نمو نے دنیا کو ’’ایک نئی امید‘‘ دی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی صورت حال گزشتہ کئی ماہ سے غیر یقینی بنی ہوئی ہے اور اپریل تا جون کی سہ ماہی خاص طور پر مشکل رہی۔ ایسے حالات میں ہندوستان کی معاشی ترقی نہ صرف ملکی معیشت بلکہ عالمی اعتماد کے لئے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان پر عالمی اعتماد میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے جاپان کی ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے ہندوستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ریٹنگ کو ’اے‘ زمرے میں اپ گریڈ کیا جانا اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ تقریباً تین دہائیوں کے بعد ایسا ہوا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ہندوستان کی ریٹنگ میں یہ بہتری ۳۰؍ سال بعد ہوئی ہے۔
گلوبل فن ٹیک کمپنیوں سے اپیل
وزیر اعظم نے نئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے مواقع پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایجنٹک اے آئی ، ٹوکنائزیشن اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی نئی ٹیکنالوجیز کو مستقبل کیلئے اہم قرار دیا۔ انہوں نے فن ٹیک کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ چار اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دیں۔ ان میں ڈیٹا کے تحفظ کیلئے اخلاقی معیارات،سائبر سیکوریٹی، فن ٹیک ریگولیٹر اور صارفین کے تحفظ کا اشاریہ شامل ہیں۔