Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرو کے لانچ مراکز کی نجکاری ایک بڑی غلطی ہوگی: سابق اسرو سربراہ جی مادھون نائر

Updated: August 23, 2026, 6:10 PM IST | New Delhi

سابق چیئرمین اسرو ڈاکٹر جی مادھون نائر نے ہندوستان کے خلائی شعبے میں ضرورت سے زیادہ نجکاری کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی کمپنیاں ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کا متبادل نہیں بن سکتیں۔

Isro And Madhavan.Photo:INN
اسرو اور جی مادھون۔ تصویر:آئی این این

سابق چیئرمین اسرو ڈاکٹر جی مادھون نائر نے ہندوستان کے خلائی شعبے میں ضرورت سے زیادہ نجکاری کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی کمپنیاں ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ انہوں نے لانچ مراکز کے انتظام اور آپریشن کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی کسی بھی کوشش کو  احمقانہ فیصلہ قرار دیا۔ ایک نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں نائر نے لانچ مراکز کے انتظام اور آپریشن کی ذمہ داری نجی کمپنیوں کو سونپنے کی تجاویز کی سخت مخالفت کی اور ملک کے خلائی پروگرام میں نجی شعبے کی شرکت کو بڑھانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔
نائر نے کہاکہ  نجی شعبہ کبھی بھی اسرو کا متبادل نہیں بن سکتا۔  انہوں نے خبردار کیا کہ کسی لانچ مرکز کو نجی کمپنی کے حوالے کرنا ایسا ہی ہوگا جیسے  سمندر کی گہرائی جانے بغیر اس میں چھلانگ لگا دینا۔ ان کا کہنا تھا کہ لانچ مراکز کا انتظام اور آپریشن سرکاری خلائی ادارے کے پاس ہی رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘ کے بعد سنی دیول اور راج کمار سنتوشی’’گھاتک ۲‘‘ میں کام کریں گے

اسرو کو ایک بے حد قیمتی قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے سابق چیئرمین نے کہا کہ ادارہ پہلے ہی غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اسرو کی حالیہ دو لانچ ناکامیوں کو اجاگر کرکے خلائی ادارے کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ نائر نے کہا کہ کسی بھی پیچیدہ سائنسی پروگرام میں ناکامیاں فطری عمل کا حصہ ہوتی ہیں اور اس طرح کی ناکامیوں سے شفافیت اور اصلاحی اقدامات کے ذریعے نمٹا جانا چاہیے، نہ کہ انہیں ادارے کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ  اسرو کو جو کام کرنا ہے، وہ اسرو ہی کے سپرد رہنا چاہیے۔  انہوں نے خلائی ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں، مہارت اور تکنیکی صلاحیتوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ نائر نے نجی طور پر تیار کیے گئے راکٹوں کا اسرو کی لانچ گاڑیوں سے موازنہ کرنے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ دونوں کی صلاحیتوں اور تکنیکی پختگی میں بہت بڑا فرق ہے۔ انہوں نے اس فرق کو  ہاتھی اور بکری  کے درمیان فرق سے تشبیہ دی۔
نائر نے نجی شعبے کی خلائی شعبے میں زیادہ شرکت کو آسان بنانے کے لیے قائم کیے گئے ریگولیٹری اور فروغی ادارے اِن اسپیس (IN-SPACe) کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ ادارہ وہ کردار ادا نہیں کر رہا جو اس سے توقع کی جاتی ہے۔سابق اسرو سربراہ نے کہا کہ ہندوستان کو اپنے خلائی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے اسرو میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے اور افرادی قوت کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے:ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل:بنگلہ دیش کی شکست سے ہندوستانی ٹیم کو فائدہ

نائر کے یہ تبصرے ایسے دن سامنے آئے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے خلائی پروگرام میں نجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور نوجوان اختراع کاروں کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ ملک کا خلائی شعبہ  عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مقناطیس  بن گیا ہے۔ قومی یومِ خلائی کے اپنے پیغام میں مودی نے کہا کہ خلائی شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں اور مضبوط نجی شعبے کا ابھرنا ملک کو عالمی خلائی صنعت میں اپنی موجودگی وسیع کرنے اور دنیا بھر سے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK