ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو باہمی مفاد کے امتحان سے گزرنا چاہیے، جبکہ ڈھاکہ نے طارق رحمان کے ہندوستان دورے کو شیخ حسینہ کی حوالگی سے جوڑ دیا۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 6:09 PM IST | New Delhi
ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو باہمی مفاد کے امتحان سے گزرنا چاہیے، جبکہ ڈھاکہ نے طارق رحمان کے ہندوستان دورے کو شیخ حسینہ کی حوالگی سے جوڑ دیا۔
ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو باہمی مفاد کے امتحان سے گزرنا چاہیے، جبکہ ڈھاکہ نے وزیر اعظم طارق رحمان کے ہندوستان دورے کو شیخ حسینہ کی حوالگی سے جوڑ دیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے استعمال، مکہ دفاعی معاہدے پر بھی گفتگو کی اور مستحکم تعلقات کے لیے ہندوستان -چین سرحد پر امن پر زور دیا۔ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نےسنیچر ۲۲؍اگست کو کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تب تک کام کر سکتے ہیں جب تک وہ ’’باہمی مفاد کے امتحان‘‘ پر پورا اترتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ڈھاکہ نے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کے نئی دہلی کے ممکنہ دورے کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی سے منسلک کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: پونے میں راہل کی دھوم، ’چھاتروں کی گونج‘ کو غیر معمولی کامیابی
اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم کے ایک سیشن میں، جے شنکر نے طارق رحمان حکومت کی جانب سے حسینہ کی حوالگی کے مطالبے پر ایک سوال کے جواب میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اس معاملے پر ہونے والی گفتگو میں جانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنے پڑوسیوں سے یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ صرف نئی دہلی کے مفاد میں کام کریں، حالانکہ دو طرفہ تعلقات اس وقت بہتر کام کرتے ہیں جب دونوں فریق مشترکہ بنیاد تلاش کر لیں۔ انہوں نے کہا، میں آپ کو اتنا بتا سکتا ہوں کہ کسی بھی تعلق کے کام کرنے کے لیے اسے باہمی مفاد کے امتحان پر پورا اترنا ہوگا۔ اسے ان کے لیے کام کرنا ہوگا، اسے ہمارے لیے بھی کام کرنا ہوگا۔‘‘مزید برآںانہوں نے کہا، ’’میں حقیقت پسند بھی ہوں، میں اپنے پڑوسیوں سے یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ صرف میری دلچسپی میں کام کریں۔ میرے لیے ضروری ہے کہ میں ان کے مفادات کو معقول حد تک پہچانوں اور ان کا احترام کروں، جس طرح میں توقع کرتا ہوں کہ وہ بھی ایسا کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کا یکم ستمبر سے بین الاقوامی مسافروں کے بورڈنگ پاس پرمہر لگانے کا خاتمہ
واضح رہے کہ ہندوستان نے رحمان کو دو طرفہ دورے اور BIMSTEC گروپنگ کے چیئر کی حیثیت سے آنے والے ’’ برکس‘‘سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے، ڈھاکہ میں ہندوستان کے نئے تعینات ہائی کمشنر دنیش ترویدی کی طرف سے وزیر اعظم کے دفتر (تیجگاؤں) میں وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر ہمایوں کبیر کو تعارفی ملاقات کے دوران یہ معاملہ اٹھایا گیا۔ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، مشیر نے ہائی کمشنر کو بتایا کہ ’’بنگلہ دیش ہندوستان سے تعاون کی توقع رکھتا ہے،جس میں شیخ حسینہ بھی شامل ہیں جو ہندوستانی سرزمین کو سیاسی تقاریر کرنے یا بنگلہ دیش میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کسی بھی سرگرمی کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی سرگرمیاں دو طرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بائی چنگ بھوٹیا کا ہندوستانی شائقین سے برازیل کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ
ذہن نشین رہے کہ حسینہ، جو اگست۲۰۲۴ء میں اپنی حکومت کی معزولی کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہو گئی تھیں، ۵؍اگست کو فارن کوریسپانڈنٹس کلب میں ایک تقریب سے خطاب کرنے والی ہیں۔ حالانکہ ڈھاکہ انہیں مفرور تصور کرتا ہے اور اس سے قبل ہندوستان پر دباؤ ڈال چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ان کی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دے۔ ہندوستانی ہائی کمشنر نے جواب دیا کہ وہ ’’اس معاملے پر مناسب غور کریں گے، ضروری تحقیقات کریں گے اور اس مسئلے پر چوکنا رہیں گے۔‘‘ یہ بات بنگلہ دیش کے بیان میں کہی گئی۔