• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ای مدرا کے سیکوریٹی معاملے کی تحقیقات کا حکم، تین دن میں حصص ۳۵؍ فیصد تک گر گئے

Updated: October 22, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi

ڈجیٹل دستخط اور ویب سائٹس کی شناخت کی تصدیق کے لیے حفاظتی سرٹیفکیٹ فراہم کرنے والی کمپنی ای مدرا (eMudhra) کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کمپنی سے متعلق سیکوریٹی واقعہ کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کے بعد اس کے حصص میں بھاری گراوٹ درج کی گئی۔

E Mudhra.Photo;INN
ای مدرا۔ تصویر:آئی این این

ڈجیٹل دستخط اور ویب سائٹس کی شناخت کی تصدیق کے لیے حفاظتی سرٹیفکیٹ فراہم کرنے والی کمپنی ای مدرا (eMudhra) کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کمپنی سے متعلق  سیکوریٹی  واقعہ کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کے بعد اس کے حصص میں بھاری گراوٹ درج کی گئی۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) میں جمعرات کو دوپہر دو بجے کمپنی کا حصص ۶۶ء۱۸؍ فیصد کی کمی کے ساتھ۴۰ء۳۵۱؍ روپے پر کاروبار کر رہا تھا۔ گزشتہ تین کاروباری دنوں میں حصص کی قیمت تقریباً ۳۵؍ فیصد تک گر گئی، جبکہ پیر کو یہ۱۵ء۵۴۰؍ روپے پر تھی۔ کمپنی کے حصص گزشتہ چھ ماہ میں تقریباً ۳۰؍فیصد اور ایک سال کے دوران۴۶؍ فیصد سے زیادہ نیچے آچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیائی فاسٹ بولر میگن شٹ پر دو میچوں کی پابندی عائد

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے بدھ کو بتایا کہ ای مدرا میں پیش آنے والے سیکوریٹی  واقعہ کی جانچ کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ کمپنی ڈجیٹل سرٹیفکیٹ فراہم کرتی ہے، جن کی مدد سے ویب براؤزر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کوئی ویب سائٹ حقیقی ہے یا نہیں۔ ایسے سرٹیفکیٹ انٹرنیٹ پر محفوظ رابطے اور صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزارت کے بیان کے مطابقسیکوریٹی سے متعلق واقعہ بنیادی طور پر کمپنی کے عالمی سرٹیفکیٹ کاروبار سے جڑا ہوا ہے، جبکہ ہندوستانی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز پر اس کے اثرات کو ’’بہت محدود‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے تحقیقات کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھی اور حصص پر دباؤ مزید نمایاں ہوا۔
 اس سیکوریٹی واقعہ کا انکشاف ہندوستان کی سائبرسیکوریٹی نگرانی کرنے والی ایجنسی سی ای آر ٹی اِن (CERT-In) کی جانب سے جاری کردہ ہدایت کے بعد ہوا۔ ایجنسی کے مطابق، ای-مدرا کے عالمی ویب سیکوریٹی کاروبار سے وابستہ آٹھ درمیانی ڈجیٹل سرٹیفکیٹس کی نجی کلیدیں مناسب کرپٹوگرافک بے ترتیبی کے ساتھ تیار نہیں کی گئی تھیں۔ اس کمزوری کے باعث ان کلیدوں کا اندازہ لگانا یا انہیں بازیافت کرنا ممکن ہوسکتا تھا، جس سے جعلی سرٹیفکیٹ تیار کرنے کا خطرہ پیدا ہوا۔ 
ڈجیٹل سرٹیفکیٹ کسی ویب سائٹ یا سافٹ ویئر کی شناخت کی تصدیق میں مدد دیتے ہیں۔ ان سے وابستہ نجی کلیدیں اگر غیر محفوظ ہوجائیں تو ممکنہ طور پر حملہ آور کسی حقیقی ویب سائٹ کی نقالی کرسکتے ہیں، صارفین کے ساتھ ہونے والی محفوظ آن لائن گفتگو میں مداخلت کرسکتے ہیں یا نقصان دہ سافٹ ویئر کو قابل اعتماد ادارے کی جانب سے جاری کردہ ظاہر کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ نے عالمی انٹرنیٹ سیکوریٹی کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:دلجیت دوسانجھ کے دہلی کنسرٹ کو پولیس کی اجازت دینے سے انکار

ای مدرا نے وضاحت کی ہے کہ سیکوریٹی کا مسئلہ اس کے عالمی ٹرانسپورٹ لیئر سیکوریٹی  سرٹیفکیٹ کاروبار کے ایک محدود حصے سے متعلق ہے۔ کمپنی کے مطابق، سرٹیفکیٹ تیار کرنے کے عمل میں ایک تکنیکی خامی کے باعث اصل مضبوط نجی کلیدوں کے ساتھ کچھ کمزور کلیدیں بھی بن گئیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ متاثرہ درمیانی سرٹیفکیٹس کے ذریعے صارفین کی ویب سائٹس کے لیے کوئی آخری سطح کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اس کے بقول صارفین کی ویب سائٹس متاثر نہیں ہوئیں۔ 
 کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہندوستان میں ضابطہ جاتی نگرانی کے تحت فراہم کی جانے والی ڈجیٹل دستخط اور ای سائن خدمات اس واقعہ سے متاثر نہیں ہوئیں۔ سی ای آر ٹی اِن نے بھی اپنے مشورے میں ملکی ڈجیٹل دستخط کے نظام کو عالمی سرٹیفکیٹ کاروبار سے الگ قرار دیا ہے۔ تاہم، واقعہ کی مکمل وجوہات اور اس کے ممکنہ اثرات کی جانچ جاری ہے۔  متاثرہ سرٹیفکیٹس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے پیش نظر گوگل اور موزیلا سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے انہیں بلاک کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ سی ای آر ٹی اِن نے متعلقہ اداروں، ویب سائٹ منتظمین اور صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے براؤزرز، ایپلی کیشنز اور آپریٹنگ سسٹمز کو تازہ ترین حفاظتی تبدیلیوں کے مطابق اپ ڈیٹ رکھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK