ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار بلے بازوں وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے ۲۰۲۷ء کے ون ڈے عالمی کپ میں کھیلنے کے امکانات پر جاری بحث کے درمیان ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر متھن منہاس نے اہم بیان دیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 10:04 PM IST | Mumbai
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار بلے بازوں وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے ۲۰۲۷ء کے ون ڈے عالمی کپ میں کھیلنے کے امکانات پر جاری بحث کے درمیان ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر متھن منہاس نے اہم بیان دیا ہے۔
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار بلے بازوں وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے ۲۰۲۷ء کے ون ڈے عالمی کپ میں کھیلنے کے امکانات پر جاری بحث کے درمیان ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر متھن منہاس نے اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی کپ کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب میں عمر کے بجائے ان کی فٹنس اور میدان میں کارکردگی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کے بیان سے ان شائقین کو امید ملی ہے جو اگلے عالمی کپ میں کوہلی اور روہت کو ہندوستان کی نمائندگی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم دونوں کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مداح نے ۲۰۱۴ء میں ہی پیش گوئی کردی تھی کہ وہ ’’رامائن‘‘ میں موسیقی دیں گے:رحمان
متھن منہاس نے اسپورٹس اسٹار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کا حتمی فیصلہ سلیکٹرز اور کوچنگ اسٹاف کرتے ہیں، اس لیے بی سی سی آئی کی جانب سے کسی کھلاڑی کی شمولیت کے بارے میں حتمی اعلان کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم ان کے مطابق، اگر کوئی کھلاڑی مکمل طور پر فٹ ہے، اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے اور ملک کو میچ جتانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے تو صرف اس کی عمر کو انتخاب میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کوہلی اور روہت کے ۲۰۲۷ء کے عالمی کپ میں کھیلنے کا انحصار آنے والے مہینوں میں ان کی کارکردگی، فٹنس اور ٹیم کی ضرورت پر ہوگا۔
اکتوبر اور نومبر ۲۰۲۷ءمیں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ون ڈے عالمی کپ کے دوران روہت شرما کی عمر۴۰؍ سال کے قریب ہوگی، جبکہ وراٹ کوہلی ۳۹؍سال کے ہو جائیں گے۔ دونوں کھلاڑی ٹیسٹ اور ٹی ۲۰؍ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں، لیکن ون ڈے کرکٹ میں ہندوستان کی نمائندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عمر کے اس مرحلے پر ان کی فٹنس اور مستقل کارکردگی پر توجہ دی جا رہی ہے، لیکن بی سی سی آئی صدر کے بیان کے مطابق عمر بذاتِ خود انتخاب سے باہر کرنے کی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:بھونیشور کمار کی ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں واپسی، پہلے ہی میچ میں ۴۹؍ رنز دیئے
متھن منہاس نے ہندوستانی ون ڈے ٹیم کے کپتان شبھ من گل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں وراٹ کوہلی، روہت شرما اور ہاردک پانڈیا جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی کپتان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق، بڑے مقابلوں میں تجربہ کار کھلاڑی دباؤ کی صورت حال سے نمٹنے اور نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے جسپریت بمراہ جیسے سینئر کھلاڑیوں کی اہمیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ٹیم میں قیادت کی ذمہ داریاں مختلف کھلاڑیوں کے درمیان تقسیم کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح کپتان شبھ من گل کو عالمی کپ جیسے بڑے مقابلے میں ٹیم کو منظم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فی الحال ان دونوں کے کھیلنے کے سوال کا حتمی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔ بی سی سی آئی صدر نے دونوں کھلاڑیوں کی شمولیت کی ضمانت نہیں دی، بلکہ انتخاب کے اصول واضح کیے ہیں۔ عالمی کپ کے لیے حتمی ٹیم کا فیصلہ سلیکٹرز اور کوچنگ اسٹاف کریں گے، جو کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی، فٹنس اور ٹیم کے امتزاج کو مدنظر رکھیں گے۔ وراٹ کوہلی اور روہت شرما کا تجربہ ہندوستانی ٹیم کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے، لیکن ۲۰۲۷ء کے عالمی کپ میں ان کی شرکت کا فیصلہ آنے والے وقت میں ان کی کارکردگی اور ٹیم انتظامیہ کی حکمت عملی کے مطابق ہوگا۔