نئی دہلی میں وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع تقریباً ۱۲۰؍ سالہ قدیم ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کے نوٹس پر تنازع پیدا ہوگیا ہے، جس پر محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت کے اقدام کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے منافی قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 9:31 PM IST | Jammu
نئی دہلی میں وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع تقریباً ۱۲۰؍ سالہ قدیم ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کے نوٹس پر تنازع پیدا ہوگیا ہے، جس پر محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت کے اقدام کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے منافی قرار دیا ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کو نئی دہلی میں وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ۱۲۰؍ سالہ قدیم ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کئے جانے پر مرکزی حکومت کی شدید مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ حکومت ہندوستانی مسلم برادری کے مذہبی جذبات کی کوئی پروا نہیں کر رہی ہے۔ یہ تنازع مسجد کی انتظامیہ کو انخلاء کا نوٹس تھمائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کے پانی اور بجلی کے کنکشن بھی منقطع کر دئیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مظفر نگر تھپڑ معاملہ: مسلم طالب علم کیلئے یوپی حکومت سے ۳۸ء۱؍ لاکھ روپے منظور
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ مفتی نے اسلامی ممالک کی مساجد کی حکومتی تعریف اور ملک کے دارالحکومت میں واقع ایک تاریخی مسجد کے ساتھ کئے جانے والے سلوک کے درمیان موجود تضاد پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے لکھا، ’’مسلم ممالک میں مساجد کا دورہ کرنا، ان کی عظمت و شان و شوکت کی تعریف کرنا اور اسلامی جذبات و ورثے کیلئے احترام کا مظاہرہ کرنا، لیکن اپنے ہی ملک میں وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ۱۲۰؍ سالہ تاریخی مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس دے کر اس کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دینا۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’بیرونِ ملک مساجد کی تحسین اور خود ہندوستان کی مسلم برادری کے مذہبی جذبات کی یوں کھلم کھلا بے حرمتی کے درمیان یہ واضح تضاد انتہائی حیران کن اور سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘
حکام کے مطابق مسجد انتظامیہ کو ۱۹؍ اکتوبر کے قریب انخلاء کا نوٹس موصول ہوا تھا اور انہیں احاطہ خالی کرنے کیلئے چھ دن کا وقت دیا گیا تھا۔ نوٹس میں زمین کی شناخت لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل ڈی او) کی ملکیت کے طور پر کی گئی ہے، جو مرکزی حکومت کے تحت کام کرتا ہے۔ اس میں جائیداد پر بغیر کسی اجازت کے قبضے اور تعميرات کے خلاف خبردار بھی کیا گیا ہے۔ ایل ڈی او کا مؤقف ہے کہ یہ مسجد سرکاری زمین پر قائم ہے اور یہ غیر قانونی قبضہ کے زمرے میں آتی ہے۔ انخلاء کا نوٹس زمین کی ملکیت اور استعمال سے متعلق محکمہ کی اسی پالیسی کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: مدارس میں جمعہ کی چھٹی ختم، وزیر اعلیٰ دھامی کا یکساں تعلیمی نظام پر زور
مسجد کی تقریباً ۱۲۰؍ سال پرانی تاریخ اس تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے، جس پر محبوبہ مفتی نے اسے ایک تاریخی ورثہ قرار دیا ہے جس کے وجود کو اب شدید خطرات لاحق ہیں۔مسجد میں پانی اور بجلی کی فراہمی کا منقطع کیا جانا اس کارروائی کے حوالے سے تشویش کو مزید بڑھا رہا ہے۔ محبوبہ مفتی کی تنقید کا بنیادی محور حکومت کے اس دُہرے رویے پر تھا جس میں ایک طرف بیرونِ ملک اسلامی ورثے کا احترام ظاہر کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس طرح کے نوٹس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا کتنا احترام کرتی ہے۔
یہ تنازع مذہبی عمارتوں کے تحفظ، سرکاری زمینوں اور انخلاء کے اقدامات کا سامنا کرنے والے مذہبی اداروں کے حقوق کے حوالے سے جاری وسیع تر بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ ایک طرف جہاں ایل ڈی او کا مؤقف ہے کہ مسجد بغیر اجازت سرکاری زمین پر قائم ہے، وہیں دوسری طرف محبوبہ مفتی نے مسلم برادری پر اس کے اثرات اور اس تاریخی ڈھانچے کے تحفظ پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔