Inquilab Logo Happiest Places to Work

جادوپور یونیورسٹی: بُک اسٹال کی کتابوں کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دے کر جلانے کی دھمکی

Updated: July 31, 2026, 5:03 PM IST | Kolkata

کولکاتا میں جادوپور یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ۴؍ کے سامنے واقع آزاد اشاعتی ادارے کاؤنٹر ایرا (Counter Era) نے دعویٰ کیا ہے کہ چند افراد نے اس کے کتابی اسٹال پر آ کر بعض کتابوں کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیا، اسٹال توڑنے اور آگ لگانے کی دھمکیاں دیں۔ واقعے کے بعد جامعہ کے اساتذہ، طلبہ اور جادوپور یونیورسٹی پریس نے اظہارِ یکجہتی کیا، جبکہ بی جے پی نے کہا ہے کہ اگر واقعہ پیش آیا ہے تو پولیس میں شکایت درج کرائی جائے۔

Entrance gate of Jadavpur University. Photo: INN
جادوپور یونیورسٹی کا داخلی دروازہ۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں جادوپور یونیورسٹی کے قریب واقع ایک آزاد اشاعتی ادارے کاؤنٹر ایرا نے الزام لگایا ہے کہ چند افراد نے اس کے کتابی اسٹال پر پہنچ کر بعض کتابوں کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیا اور اسٹال کو آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کی دھمکیاں دیں۔ یہ واقعہ ۲۲؍ جولائی کو پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بعد تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اشاعتی ادارے کے مطابق چھ سے سات افراد دوپہر کے وقت اسٹال پر آئے، کتابوں کا جائزہ لیا اور بعض عنوانات پر اعتراض کرتے ہوئے عملے کو دھمکیاں دیں۔ اسٹال پر موجود الوک ہلدر نے بتایا کہ یہ افراد تقریباً پندرہ منٹ تک شور مچاتے رہے اور کتابوں کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے اسٹال نذرِ آتش کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ نے تعددِ ازدواج پر پابندی کی درخواست پر مرکز سے جواب مانگا

الوک ہلدر کا کہنا تھا کہ اسٹال پر سوامی وویکانند، رابندر ناتھ ٹیگور، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، این آر سی (NRC)، ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) اور دیگر معاصر سماجی و سیاسی موضوعات پر مبنی کتابیں اور رسائل دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق انہیں سمجھ نہیں آیا کہ ان موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کو ’’ملک دشمن‘‘ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ دراصل لوگوں کے مطالعے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔ کاؤنٹر ایرا کی سربراہ بونیہوتری ہزارہ نے کہا کہ ان کا ادارہ متبادل خیالات اور آزاد علمی مباحث کو فروغ دینے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے طلبہ، ناشروں اور جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف متحد ہو کر اظہارِ یکجہتی کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: پارلیمنٹ میں انسدادِ پیپر لیک ترمیمی بل منظور

واقعے کے بعد جادوپور یونیورسٹی پریس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے مبینہ دھمکیوں کی مذمت کی اور کہا کہ کتابیں شائع کرنے اور فروخت کرنے کا حق آزادیٔ اظہار سے جڑا ہوا ہے، جس کا ہر قیمت پر تحفظ ہونا چاہیے۔ یونیورسٹی پریس نے کاؤنٹر ایرا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ جامعہ کے فلم اسٹڈیز شعبے کے پروفیسر مانس گھوش نے بھی اسٹال کا دورہ کیا اور کہا کہ اختلافی آراء کو دبانے کی کوشش جمہوری معاشرے کے لیے تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق کتابوں اور خیالات سے اختلاف کا جواب دھمکی یا تشدد نہیں ہونا چاہیے بلکہ مکالمے کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سابق بس ڈرائیور کے پاس سے ۲۸؍ کروڑ نقد برآمد

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان دیب جیت سرکار نے کہا کہ پارٹی کو اس مبینہ واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اشاعتی ادارے کو کوئی شکایت ہے تو اسے پولیس میں رپورٹ درج کرانی چاہیے، قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK