• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیانیش کمار کوفوراً عہدہ سے ہٹانے اور انتخابات دوبارہ بیلٹ پیپر سے کروانے کا مطالبہ

Updated: September 24, 2026, 11:08 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

الیکشن کمیشن کی بدنظمیوں کے متعلق انڈین ایکسپریس کی رپورٹ پر ریاستی اپوزیشن اتحاد کا بھی سخت ردعمل۔ ادھو ٹھاکرے اورورشا گائیکواڑنے پریس کانفرنس کی، سپریہ سُلے و دیگر نے بھی سخت سوالات قائم کئے۔

Uddhav Thackeray displaying the aforementioned news clipping during a press conference. Photo: Shadab Khan, Inquilab.
ادھو ٹھاکرے پریس کانفرنس کے دوران مذکورہ خبر کا تراشہ دکھاتے ہوئے۔ تصویر: شاداب خان،انقلاب

الیکشن کمیشن کی بدنظمی اور اختلافات کے حوالے سے  ’انڈین ایکسپریس‘ کی چشم کشا تفصیلی رپورٹ شائع ہونے کے بعد دلی سے لے کر گلی تک سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔شیوسینا( یوبی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بدھ کوباندرہ میں واقع رہائش گاہ ماتوشری میں ایک اہم پریس کانفرنس بلائی ۔ جس میں ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’کئی برسوں سے ہم یہ کہہ رہے تھے کہ ملک میں ایک گروہ سرگرم ہے جو پارٹیوں کو تقسیم کرنے ، جمہوریت کا قتل کرنے کا کام کر رہا ہے، اس گروہ کا اہم سرغنہ گیانیش کمار ہے یہ انڈین ایکسپریس نیوز پیپر کی رپورٹ میں واضح ہوا ہے اورالیکشن کمیشن آف انڈیا کے  ۳؍چیف الیکشن کمشنروں میں سے  ۲؍نے تیسرے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف شکایت کی ہے ۔ لہٰذاگیانیش کمار کو جیل میں ڈال کر وہ کس کے ماتحت کام کر رہے تھے اس کا خلاصہ ہونا چاہئے۔‘‘ 

ادھو ٹھاکرے نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گیانیش کمار کو فوراً چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹا دیناچاہئے ، انہیں جیل بھیجنا چاہئے اور ان کی نگرانی میں جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں، ا ن سبھی مہاراشٹر ،بنگال  اور تمل ناڈو کے الیکشن دوبارہ  اور بیلٹ پیپر پر منعقد کئے جائیں۔‘‘  ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے  سپریم کورٹ کو بھی گیانیش کمار کی من مانی کا ’سُو موٹو‘(ازخود نوٹس) لینا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:بہار میں کمسن بچی کی عصمت سے کھلواڑ پر سخت برہمی کااظہار

ادھو ٹھاکرے کی پریس کانفرنس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں کا الزام:ادھو ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج اور نام نکالنے کا من مانی طریقے سے کاروبار چل رہا ہےتھا۔ مغربی بنگال میں ۹۰؍ لاکھ ووٹروں کے نام انتخابی لسٹ سے  نکال دیئے گئے تھے تمل ناڈو میں ۷۰؍ لاکھ نکالے گئے ، مہاراشٹر میں ۴۵؍ لاکھ نام ووٹر لسٹ شامل کئے گئے اور ان ہی میں سے ۴۰؍ لاکھ ناموںپر اعتراض ظاہر کیاجارہا ہے۔ 

 مہاوکا س اگھاڑی نے مورچہ نکال کر دہرے ناموں کے دستاویز الیکشن کو دیئے تھے ، اس کا کیا ہوا؟

 ریاست میںایس آئی آر کے دوران لاکھوں حقیقی ووٹروں کے نام بلاوجہ خارج یا تبدیل کئےجا رہے ہیں، جبکہ مشکوک اندراجات کی صحیح معلومات فراہم نہیں کی جا رہی۔

 الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل پر سوالات: انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہونے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات اور شکایتوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ کمیشن حکمراں اتحاد (مہایوتی) کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔

 مشکوک ووٹروں کے اعداد و شمار پر وضاحت کا مطالبہ:  اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے۳؍ کروڑ ۲۸؍ لاکھ ناموں کو خارج کرنے اور مبینہ۷۵؍ لاکھ جعلی ووٹروں کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن تمام حذف شدہ اور ترمیم شدہ ناموں کی فہرست بوتھ وار اور حلقہ وار عوام کے سامنے رکھے۔

 جمہوریت اور ووٹ کے حق کی حفاظت: ادھو ٹھاکرے نے خبردار کیا کہ اگر ووٹر لسٹوں کی غلطیوں کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا اور دعوے و اعتراضات کے لئے وقت کی مدت میں توسیع نہ کی گئی، تو ان کی پارٹی الیکشن کمیشن کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرے گی اور قانونی چارہ جوئی بھی کرے گی۔

دریں اثناء شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے بھی گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔راؤت نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا،’’گیانیش کمار جیل جائیں گے! انہیں جیل جانا ہی ہوگا! ان کے آقا ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں گے!‘‘

یہ بھی پڑھئے: میرا بھائندر: رکن اسمبلی کی سالگرہ پر لگائے گئے غیر قانونی بینر پر کارروائی

’’ووٹ چوری کے جو الزامات لگائے گئے تھے ان پر مہرلگ گئی‘‘

  رکن پارلیمان اور ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی فوری برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوںنے کہا کہ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کے الزامات عائد کئے تھے اس پر ’انڈین ایکسپریس‘ کی خصوصی رپورٹ نے مہر لگا دی ہے۔ جس کے مطابق کمیشن کے اندر ہی دو الیکشن کمشنرز نے ووٹر لسٹوں کے اختیارات کےسینٹرلائزیشن اور نئے ناموں کے اندراج کیلئے فارم۶؍ میں کی گئی تبدیلیوں پر ۱۴؍سنگین اعتراضات درج کرائے تھے۔ ورشا گائیکواڑ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر آئینی قدروں کو پامال کرنے اور حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام لگایا اور یہ سوالات قائم کئے:(۱) دو الیکشن کمشنرز کے۱۴؍ اعتراضات پر کیا کارروائی ہوئی؟(۲)ای سی آئی نیٹ سسٹم کے ذریعے اختیارات کو ایک جگہ کیوں مرکوز کیا گیا؟(۳) فارم۶؍ میں کی گئی تبدیلیوں کی قانونی بنیاد کیا ہے؟(۴)  ووٹر لسٹ کے ڈیٹا کی حفاظت اور آزادانہ آڈٹ کا کیا انتظام ہے؟انہوں نے کہا اگر الیکشن کمیشن نے ان سوالات کے شفاف جوابات نہ دیے، تو ملک میں انتخابات محض ایک ڈراما بن کر رہ جائیں گے۔

’’بے ضابطگی اور اختلافات ،جمہوریت کیلئے خطرناک ہیں‘‘

( این سی پی (شرد)کی رکنِ  پارلیمنٹ سپریہ سلے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ سُلے نے کہا کہ انہیں اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار کے طرزِ عمل اور فیصلوں نے الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے پر داغ لگایا ہے۔الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات اور دو دیگر الیکشن کمشنرز کے تحفظات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سُپریہ سُلے نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو فوری طور پرکل جماعتی میٹنگ بلانی چاہیے اور اس معاملے پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔سُلے نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی اپ ڈیٹنگ اور ایس آئی آر کے عمل میں جس طرح کے اندرونی اختلافات اور بے ضابطگیاں سامنے آرہی ہیں، وہ جمہوریت کیلئے انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ پورا نظام ہی تباہ ہو جائے گا، تو اس ملک میں عام شہری کس پر بھروسہ کرے گا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK