• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی میں اے سی سنیما ہال اور ملٹی پلیکس پر تفریحی ٹیکس میں ۵۷۰ ؍فیصد اضافے کی تجویز

Updated: September 24, 2026, 6:02 PM IST | Mumbai

ممبئی میں فلم دیکھنے اور تفریحی پروگراموں میں شرکت کرنا آنے والے دنوں میں مہنگا ہو سکتا ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی)نے سنیما ہال، ملٹی پلیکس اور دیگر تفریحی مقامات پر عائد تفریحی ٹیکس میں نمایاں اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔

Cinema Hall.Photo:INN
سنیما ہال۔ تصویر:آئی این این

ممبئی میں فلم دیکھنے اور تفریحی پروگراموں میں شرکت کرنا آنے والے دنوں میں مہنگا ہو سکتا ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی)نے سنیما ہال، ملٹی پلیکس اور دیگر تفریحی مقامات پر عائد تفریحی ٹیکس  میں نمایاں اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ تجویز کے تحت اے سی سنیما ہال اور ملٹی پلیکس میں فی شو ٹیکس  ۶۰؍ روپے سے بڑھا کر ۴۰۰ ؍روپے  کرنے کی بات کہی گئی ہے، جو موجودہ شرح کے مقابلے میں تقریباً  ۵۷۰؍ فیصد اضافہ  ہے۔ 
بی ایم سی کی تجویز کے مطابق ایئر کنڈیشنڈ سنیما ہال اور ملٹی پلیکس میں ہر ٹکٹ پر موجودہ ۶۰ ؍روپے کا تفریحی ٹیکس بڑھا کر ۴۰۰ ؍روپے کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ تجویز منظوری کے بعد نافذ ہوتی ہے تو اس اضافی لاگت کا کچھ حصہ یا پورا بوجھ فلم بینوں تک منتقل ہونے کا امکان ہے، کیونکہ تھیٹر آپریٹرز عموماً ٹیکس کو ٹکٹ کی قیمت میں شامل کرتے ہیں۔  نان اے سی سنیما ہال کے تفریحی ٹیکس میں بھی اضافے کی تجویز ہے۔ موجودہ شرح  ۴۵ ؍روپے فی شو  سے بڑھا کر  ۲۰۰ ؍روپے  کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے یعنی تقریباً ۴۰۰؍ فیصد اضافہ ۔ اس کے نتیجے میں نان اے سی تھیٹرز میں فلم دیکھنے کی مجموعی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:تیلگوانڈسٹری میں لوگ سنیما کا جشن مناتے ہیں : راگھو جوئل

بی ایم سی کی تجویز صرف فلموں تک محدود نہیں ہے۔ ڈراموں، کنسرٹس اور دیگر پرفارمنگ آرٹس پروگراموں کے لیے تفریحی ٹیکس ۵۰ ؍روپے سے بڑھا کر ۱۰۰ ؍ روپے  کرنے کی تجویز ہے۔ دیگر تفریحی پروگراموں کے لیے ٹیکس ۳۰؍ روپے سے بڑھا کر ۷۵ ؍روپے  کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ منی تھیٹرز اور ویڈیو نمائش کے مقامات کے لیے پہلی مرتبہ  ۹۰؍ روپے فی ٹکٹ  ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ 
بی ایم سی نے علاقائی فلمی صنعت اور ثقافت کو فروغ دینے کے مقصد سے مراٹھی اور گجراتی فلموں، ڈراموں اور کنسرٹس کی نمائش کرنے والے سنیما ہالز، ملٹی پلیکس اور تھیٹرز کو ۱۰۰ ؍فیصد تفریحی ٹیکس چھوٹ  دینے کی تجویز بھی رکھی ہے۔  اہم بات یہ ہے کہ یہ اضافہ فی الحال صرف  تجویز  ہے۔ نظرثانی شدہ شرحوں کو مہاراشٹر حکومت کے شہری ترقیاتی محکمے کی منظوری اور سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے بعد ہی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ بی ایم سی حکام کے مطابق منظوری اور نوٹیفکیشن جاری ہونے تک موجودہ ٹیکس شرح ہی نافذ رہیں گی۔  
بی ایم سی انتظامیہ نے  ۲۸ء۔۲۰۲۷ءمالی سال کے لیے نئی شرحیں نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ موجودہ شرحیں۱۵۔ ۲۰۱۴ءکے نرخوں پر مبنی ہیں اور کئی برسوں سے ان میں بڑی نظرثانی نہیں ہوئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق بی ایم سی اس تفریحی ٹیکس سے تقریباً  ۳۶۰؍ کروڑ روپے سالانہ  حاصل کرتی ہے، جبکہ نئی شرحیں نافذ ہونے کی صورت میں سالانہ آمدنی تقریباً  ۵۰۰؍ سے ۵۵۰ ؍کروڑ روپے  تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:جب مجھے لگے گا کہ قومی ٹیم کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا ہوں تو اپنا کریئر ختم کر دوں گا: رونالڈو

 تفریحی ٹیکس میں مجوزہ اضافے پر بی ایم سی کی قانون کمیٹی میں بھی اعتراض سامنے آیا ہے۔ بعض اراکین  نے مجوزہ شرحوں کو بہت زیادہ قرار دیتے ہوئے انتظامیہ سے نرخوں پر دوبارہ غور کرنے کیلئے کہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تجویز کو مزید نظرثانی کے لیے واپس بھی بھیجا گیا جبکہ دوسری جانب شہری انتظامیہ کی نظرثانی شدہ شرحیں ریاستی حکومت کی منظوری کی منتظر ہیں۔  
اگر مجوزہ شرحیں منظور ہو کر نافذ ہوتی ہیں تو خاص طور پر اے سی سنیما ہال اور ملٹی پلیکس میں فلموں کے ٹکٹ مہنگے ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اصل ٹکٹ قیمت پر اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ تھیٹر آپریٹرز اضافی ٹیکس کا کتنا حصہ صارفین تک منتقل کرتے ہیں۔ فی الحال ممبئی کے فلم شائقین کے لیے اہم بات یہی ہے کہ  ۵۷۰؍ فیصد اضافے کی یہ شرح ابھی حتمی نہیں ہے  اور ریاستی منظوری کے بعد ہی اس کے نفاذ کی صورت واضح ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK