Updated: October 25, 2026, 5:29 PM IST
| Mumbai
جمعیۃ علماء کے دفتر میں میٹنگ کی گئی ۔کہاکہ یو سی سی کے ذریعے نکاح ،طلاق ، وصیت اور وراثت جیسے شرعی امور میں صریح مداخلت کا راستہ کھولا گیا ہے
جمعیۃ علماء کے دفتر میں منعقدہ میٹنگ کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
شدید مخالفت اور سخت اعتراضات کے باوجود یکساں سول کوڈ (یو سی سی ) کے نفاذ کی جانب ریاستی حکومت نے قدم بڑھایا ہے اور اس تعلق سے اعتراضات اور مشورے آن لائن مانگے گئے ہیں۔ اعتراضات اور مشورے کس ڈھنگ سے دیئے جائیں ،اس تعلق سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے دفتر میں سنیچر کو ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔میٹنگ میںیہ طے پایا کہ حکومت کی جانب سے طلب کئے گئے اعتراضات اور مشوروں پر ہر طرح سے غور کرنے کے بعد قانونی پہلوؤں کو دھیان میں رکھتے ہوئے جوابات مرتب کئے جائیں۔اس تعلق سےجمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ’’جمعیۃ علماء مہاراشٹر یہ سمجھتی ہے کہ ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے جس میں بے شمار مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں، ہندوستان کے دستور میں تمام مذاہب کو برقرار رہنے، ان کے مطابق عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ایسے میں یکساں سول کوڈ اس مذہبی آزادی کو متاثر کئے بغیر تشکیل نہیں دیا جا سکتا ہے، اس لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر ضروری سمجھتی ہے۔‘‘
مولانا نے یہ بھی کہا کہ’’ حکومت مہاراشٹر نے جو سوالنامہ مرتب کیا ہے، اس کی متعدد دفعات مسلم پرسنل لاء سے متصادم ہیں۔ نکاح ،طلاق ، وصیت اور وراثت جیسے شرعی امور میں صریح مداخلت کا راستہ کھولا گیا ہے، اس لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس تجویز کو یکسر مسترد کرتی ہے۔‘‘مولانا نے مزید کہا کہ حکومت مہاراشٹر کے سوالنامے میں لیو اِن ریلیشن شپ کو قانونی جواز مہیا کرنے پر کافی زور صرف کیا گیا ہے، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کا یہ ماننا ہے کہ یہ عمل اگر قانونی جواز کا حامل ہوجاتا ہے تو اس سے ملک کے تمام مذاہب کی ناقدری ہوگی اور فحاشی و جنسی انارکی پر کوئی قدغن باقی نہیں رہے گی، یہ مذاہب کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی ثقافت کے بھی خلاف ہے، اس لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس مجوزہ قانون کی پرزور مخالفت کرتی ہے۔‘‘میٹنگ میںنائب صدر جمعیۃعلماء مہاراشٹر مولانا محمد عارف عمری،مفتی محمد یوسف قاسمی، مولانا اشتیاق احمد قاسمی، مفتی حفیظ اللہ قاسمی اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم وغیرہ نے شرکت کی۔
دیگر تنظیموں کی میٹنگ اورلائحۂ عمل کی تیاری
یو سی سی کے خلاف جہاں جماعتِ اسلامی کی جانب سے ڈرافٹ کمیٹی کی چیئرپرسن رنجنا دیسائی سے ملاقات کی تیاری کی گئی ہےاور مختلف نکات کو نشان زد کرتے ہوئےڈرافٹ تیار کیا گیا ہے وہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے میٹنگ تیاری کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ رضااکیڈمی کی جانب سےبھی ایک دو دن میںمیٹنگ بلا کر باہم صلاح ومشورہ کرنے کے منظم انداز میں اعتراضات اورمشورہ دینےپر عمل کیا جائے گا۔