جیل بھرو آندولن،پولیس کی جانب سےا نتہائی سخت حفاظتی انتظامات۔ایم آئی ایم اور ایس ڈی پی آئی کا سومیا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ
سابق رکن پارلیمان اور بی جےپی لیڈر کریٹ سومیا۔ تصویر: آئی این این
ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل۔۲؍ کے پاس واقع مسجد کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ نہیں آیا ہے اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )کے لیڈر اور سابق رکنِ پارلیمان کریٹ سومیا نےاس مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے فوراً منہدم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی مطالبے کیلئے انہوں نےسنیچر کی شام تقریباً ۴؍بجے اپنے چند حامیوں کے ساتھ احتجاج کیا اور ’جیل بھرو آندولن‘ کیا۔ اس احتجاج کے دوران انہوں نے مسجد کے خلاف زہر افشانی کی اور بینر لے کر نعرے بازی بھی کی۔
کریٹ سومیا اور چند حامیوں کو پولیس نے اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ بینر لے کر ایئرپورٹ کے ٹرمینل۲؍کے قریب احتجاج کر رہے تھے۔ کریٹ سومیا نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اپنے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیو بھی جاری کئے۔ ویڈیو میں وہ مسجد پر ہتھوڑا چلا کر اسے منہدم کرنے کی دھمکی بھی دیتے ہوئے سنے گئے ہیں۔
کریٹ سومیا کا دعویٰ
کریٹ سومیا نےکہا کہ یہ مسجد سرکاری زمین پر بغیر کسی اجازت کے بنائی گئی ہے اور حساس ایئرپورٹ سیکوریٹی زون ( وی آئی پی ارائیول گیٹ اور ٹیکسی اسٹینڈ کے پاس) میں ہونے کی وجہ سے یہ سیکوریٹی کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ان کا الزام تھا کہ بی ایم سی، کلکٹر اور ایم ایم آر ڈی اےنے اسے غیر قانونی مانا ہے اور اسے منہدم کرنے کا حکم بھی دیا تھا لیکن اس پر کارروائی نہیں کی گئی۔
مخالفت اور عدالتی موقف
دوسری طرف، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم )کے لیڈر وارث پٹھان اور مسجد کے ٹرسٹیوں کا کہنا ہے کہ وہاں برسوں سے نماز ادا کی جا رہی ہے اور یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیرِ التوا ہے۔ وارث پٹھان نے پولیس سے کریٹ سومیا کے خلاف ماحول خراب کرنے کی کوشش پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔اس احتجاج کے پیشِ نظر ممبئی ایئرپورٹ کے اطراف انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئےگئے ۔اسی دوران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا( ایس ڈی پی آئی) کے ممبئی کے ضلع صدر شعیب منصوری نے سہار پولیس اسٹیشن میں ایک خط دے کر مطالبہ کیا ہےکہ ممبئی ہوائی اڈے کے علاقے میں مسجد سے متعلق زیر سماعت مقدمے کے پس منظر میں بی جے پی لیڈر کریت سومیا کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہئے اور مناسب احتیاطی قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔
ایس ڈی پی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تشویشناک بات ہے کہ مساجد، تعلیمی اداروں اور قبرستانوں جیسے مذہبی اور سماجی طور پر حساس مسائل پر بار بار تنازعات پیدا کئے جارہے ہیں جبکہ ممبئی کے ہوائی اڈے کے علاقے میں مسجد کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔