تری پورہ فسادات کیخلاف احتجاجی میٹنگ

Updated: October 31, 2021, 10:32 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

مدنپورہ میں منعقدہ سنی جمعیۃ العلماء کی میٹنگ میںعلماء نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا انتباہ دیا

Participants in a protest meeting against the Tripura riots.Picture:Inquilab
تریپورہ فسادات کے خلاف منعقدہ احتجاجی میٹنگ کے شرکاء تصویر انقلاب

تری پورہ میںمساجد کا تقدس پامال کرنے،آگ لگانے، قرآن حکیم کی بے حرمتی، مسلمانوں کے گھروں کونشانہ بنانے اوران پرزبردستی بھگوا جھنڈے لگانے، مسلم عورتو ں کی بے عزتی کرنے اورجلوس نکال کر نبی اکرمؐکی شان مبارکہ میںگستاخی کرنےکی مذموم جرأت پر مدن پورہ میںسنّی جمعیۃ العلماء کی میٹنگ میں موجود علماءنےشدید ناراضگی اوربرہمی کا اظہارکیا ۔سنیچر کو ہونے والی اس میٹنگ میں علماء نے اس سے اتفاق کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شرپسندوں کو کھل کھیلنے کی چھوٹ دے دی گئی ہے ، امن دشمن اورمسلم دشمن طاقتیں ان کی پشت پناہی بلکہ حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پولیس افسر ملزمین کےخلاف سخت کارروائی کرنے کے بجائے یہ بیان دے رہا ہے کہ اس طرح کی خبروں میں کوئی صداقت ہی نہیںہے۔
  علماء نے مطالبہ کیا کہ ایسے ملزمین کوفوراً گرفتار کیا جائے اورنبی اکرمؐ کی شان مبارکہ میںگستاخی کے مجرموں کوسخت سزا دی جائے ورنہ اس طرح کی گھٹیا اور بیہودہ حرکتوں سے لاء اینڈ آرڈر  کے مسئلے کا شدید اندیشہ ہے۔
 میٹنگ کی صدارت کرنے والے مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نے کہا کہ ’’ تری پورہ میںاتنا سب کچھ ہوگیا لیکن کارروائی کے نام پرمحض لیپا پوتی کی جارہی ہے اورامن دشمنوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی شان مبارکہ میں گستاخی کرنے والے غنڈے آزادہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ جس طرح کی رونگٹے کھڑی کردینے والی خبریں موصول ہوئی ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںہے کہ وشوہند پریشد،بجرنگ د ل اورآرایس ایس کے غنڈے کس طرح منصوبہ بند طریقے سے امن و امان کو خاک میں ملانے پر آمادہ ہیں۔‘‘
 معین میاں نے یہ بھی کہا کہ ’’ اس کے پیچھے اسمبلی الیکشن میںہندو ووٹو ںکے ارتکازکی کوشش دکھائی دیتی ہے کیونکہ بی جے پی کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ الیکشن جیتنے کیلئےنفرت کا بازارگرم کرکے اپنے سیاسی مقصد کی تکمیل کی ہے اوریہی تری پورہ میںکیا جارہا ہے۔ان وجوہات کی بناءپر وہاں کی حکومت اقتدار میںرہنے کا اپنا اخلاقی حق کھوچکی ہے ،لہٰذا تری پورہ میںصدر راج نافذ کیاجائے ۔‘‘
 رضااکیڈمی کے جنرل سکریٹری محمدسعیدنوری نے کہا کہ’’ تری پورہ میں فسادیوں نےمساجد کوآگ لگائی، قرآن کریم کی بے حرمتی کی،مسلم گھروں کونشانہ بنایا اورخواتین کی بے عزتی کی اوراس سے بڑھ کر کھلے عام پیغمبر اسلامؐ کی شان میںگستاخی کی مذموم جرأت کی لیکن حیرت ہے کہ حکومت ملزمین کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہے ۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’اس منصوبہ بند تشدد میںبی جے پی برابر کی شریک معلوم ہوتی ہے ۔اگرحکومت نے ایکشن نہ لیا تو ہم جلد ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیںگے۔‘‘
 سنّی بڑی مسجدمدن پورہ کے خطیب وامام مفتی زبیر احمد مصباحی نے کہا کہ ’’مسلمانوں کے خلاف ایسی شرانگیزی کی مثال ملنی مشکل ہے، منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا جارہا ہے اورانتظامیہ کی جانب سے کارروائی کے نام پرمحض خانہ پُری کی جارہی ہے۔‘‘ مولانا محمد عباس رضوی نے کہا کہ’’ تری پورہ کا فساد اس بات کاغماز ہےبی جے پی اوراس کی ذیلی تنظیمیںامن و امان کوغارت کرکے کسی بھی طرح اپنی سیاسی برتری چاہتی ہیں، لیکن اس طرح کے حربے زیادہ دنوں تک نہیںچلتے ۔‘‘مولانا فرید الزماںنے کہاکہ ’’خبریں پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ شرپسنداس سے بے پروا ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کرنے والا کوئی ہے ،چنانچہ وہ کھلم کھلا قانون کو ٹھینگا دکھا رہے ہیں۔ ‘‘ مولانا خلیل الرحمن نوری نےکہا کہ ’’تری پورہ میںردعمل یا فساد نہیںہوا ہے بلکہ منصوبہ بند طریقے سے امن کے دشمن مسلم بستی کونشانہ بنارہے ہیںاورحالات کی بناء پریہ کہنا زیادہ مناسبت ہوگا کہ پولیس اورانتظامیہ شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے تماشائی بناہوا ہے۔‘‘ میٹنگ میںمختلف مساجد کے ائمہ اورعلماء موجود تھے اور سب نے ہاتھ بلند کرکے شرپسندوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا اورہاتھ بلند کرتے ہوئے یہ بھی عہد کیا کہ پیغمبر محمدؐبل پاس کروانے کے لئے ہم سب اپنی کوشش جاری رکھیں گے کیونکہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے اورسب کچھ لٹا سکتا ہے لیکن آقائے دوجہاںؐکی شان مبارک میںکوئی گستاخی کا ایک لفظ بھی کہنے کی مذموم جرأت کرے تو یہ کسی قیمت گوارا نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK