حج ہاؤس کوچنگ سینٹر سے طلبہ کو نکالنے کیخلاف پیر کو احتجاج

Updated: January 23, 2022, 9:54 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

ممبئی،تھانے اور پوری ریاست میں’ سکل مسلم یووک گروپ‘ کی جانب سےتمام ضلع کلکٹرز اور تحصیلداروں کو میمورنڈم دیا جائیگا

Students can be seen preparing for the IAS exam at Hajj House. (File photo)
حج ہاؤس میں آئی اے ایس امتحان کی تیاری کرتےہوئے طلبہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔(فائل فوٹو)

حج ہاؤس کوچنگ سینٹر میں زیر تعلیم طلبہ کو نکالنے کے خلاف کل پیر کو سکل مسلم یووک گروپ کی جانب سے احتجاج کرتے ہوئے ممبئی ، تھانے اور دیگر ضلع کلکٹروں کے ساتھ تحصیلداروں کو میمورنڈم دیا جائے گا۔ان افسران کے توسط سے حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ سہولتوں میں اضافہ کرے نہ کہ جو سہولتیں دی گئی ہیں وہ بھی ختم کی جائیں، جیسا کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے نئے سی ای او اپنے فیصلے سےکررہے ہیں ۔اس کے علاوہ پہلے کی طرح تمام ۲۱۰؍طلبہ کو حج ہاؤس کوچنگ  میں پڑھنے کا موقع دیا جائے تاکہ مسلم بچے اعلیٰ اور مقابلہ جاتی امتحانات میں نمایاں کارنامہ انجام دے سکیں۔ اس کے علاوہ ریاست کے دیگر حج ہاؤسیز میں بھی اس طرح کا سینٹر شروع کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
 سکل مسلم یووک گروپ کے فعال رکن فہیم شبیر احمد شیخ ، جنہوں نے اپنے گروپ کے تمام ساتھیوں کو متوجہ کرتے ہوئے اس تعلق سے پیغام دیا ہے اور پیر کو تیار رہنے کو کہا ہے،  نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ریاست کے دیگر حج ہاؤسیز میں بھی کوچنگ سینٹر شروع کرنے کا ہم سب کا مطالبہ ہے اس کے بجائے مرکزی حج ہاؤس سے ہی طلبہ کو نکالا جارہا ہے ، ان کی تعلیم مکمل کئے بغیر ہی نکل جانے کا حکم دیا جارہا ہے بلکہ کئی طلبہ کو نکال دیا گیا ہے جبکہ معلوم ہوا ہے کہ ۲۱۰؍طلبہ کے لئے تمام سہولتیں فراہم کروائی گئی ہیں اور وہ بآسانی قیام و طعام کے ساتھ اعلیٰ امتحان کی تیاری کرسکتے ہیں اس کے باوجود سی ای او کی جانب سے اس طرح کا رویہ نامعلوم کیوں اور کس بنیاد پراپنایا گیا ہے؟ اسی کے خلاف احتجاج درج کرانے اور طلبہ کو مزید موقع ملے ، اس لئے کورونا کی ہدایات کا خیال کرتے ہوئے احتجاج کرنے کے ساتھ  میمورنڈم دیا جائے گا۔
 انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے اس لئے ریاست گیر سطح پر یہ طے کیا گیا ہے۔ ویسے بھی حج ہاؤس میں قائم یہ کوچنگ سینٹر حکومت کی اعانت کے بغیر خالص حاجیوں کی کمائی سے چلایا جاتا ہے۔ اس لئے سی ای او یعقوب شیخا اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور تمام طلبہ کو امتحان کی تیاری کا موقع دیں تاکہ وہ اپنی صلاحیت اور محنت کے ذریعے نمایاں کامیابی حاصل کرسکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK