Inquilab Logo Happiest Places to Work

جھارکھنڈ میں مظاہرین نے سرکار کا شکریہ ادا کیا لیکن احتجاج جاری

Updated: August 19, 2026, 1:44 PM IST | Inquilab News Network | Ranchi

مظاہرین نے اسے تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب نئے امتحانی نظام کی جنگ شروع ہوگی، بیشتر طلبہ لیڈروں کا وزیراعلیٰ کے ساتھ ہی راہل گاندھی سے بھی اظہار تشکر۔

Umm-e-Habiba, Minister Deepika Pandey, Devendra Mahto, and State Minister Irfan Ansari after calling off the strike. Picture: INN
ہڑتال ختم کرنے کے بعد ام حبیبہ، وزیردپیکا پانڈے، دیویندر مہتو اور ریاستی وزیر عرفان انصاری۔ تصویر: آئی این این
جھارکھنڈ میں مظاہرہ کرنےوالے طلبہ کو اُس وقت بڑی کامیابی ملی جب احتجاج کے۲۴؍ ویں دن سرکار نے ان کے بیشتر مطالبات تسلیم کرلئے۔ حکومت کے اس اہم فیصلے پر طلبہ نے وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کا شکریہ بھی ادا کیا لیکن اس کے ساتھ ہی احتجاج جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تین ہفتے سے زیادہ عرصے تک بھوک ہڑتال کرنے والے دیویندر ناتھ مہتو نے حکومت کے اعلان کو مظاہرین کی تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب نئے امتحانی نظام کی تشکیل کیلئے جنگ شروع ہوگی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ایک شفاف اور منصفانہ امتحانی نظام کے نفاذ کی لڑائی جاری رہے گی جو پیپر لیک، امتحان میں دھاندلی، یا لابنگ کے ذریعے مستقبل میں ملازمت کے امکانات کو ختم کردے اور ہر اہل امیدوار کو ان کی میرٹ اور منصفانہ عمل کی بنیاد پر ملازمت کی ضمانت فراہم کرے۔ طلبہ اور نوجوانوں کی یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ بھرتی کا نظام مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور بدعنوانی سے پاک نہیں ہو جاتا۔‘‘
 
 
خیال رہے کہ کل دیر شام میں وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے ’جے ایس ایس سی-سی جی ایل‘  امتحان اور ’ٹی ڈی پی ایل‘ کے ذریعہ کئے جانے والے تمام امتحانات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد طلبہ لیڈر اُم حبیبہ ، راہل کرانتی اور دیویندر ناتھ مہتو جو ۲۴؍ دنوں سے بھوک ہڑتال پر تھے، نے اپنی بھوک ہڑتال توڑ دی۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے وزراء دپیکا پانڈے سنگھ اور عرفان انصاری کی موجودگی میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کی۔ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعداُم حبیبہ نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے کئی مطالبات بھی کئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے خلاف کوئی بھی قانونی کارروائی خواہ وہ ایف آئی آر ہو یا کوئی مجوزہ کارروائی واپس لی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرامن اور جمہوری طریقے سے احتجاج کے حق کا احترام کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی ام حبیبہ نے کھل کر وزیراعلیٰ ہیمنت سورین، ان کے دیگر وزراء اور راہل گاندھی کی تعریف کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔  انہوں نے کہا کہ اس طرح کا جرأت مندانہ فیصلہ وہی سرکار لے سکتی ہے جسے اپنی عوام کا خیال ہو۔ خیال رہے کہ ریاستی حکومت کے ذریعہ یہ فیصلے کئے جانے سے قبل راہل گاندھی نے وزیراعلیٰ کے نام ایک خط لکھا تھا اور انہیں طلبہ سے براہ راست گفتگو کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
خیال رہے کہ کابینی میٹنگ کے بعد وزیراعلیٰ نے جب طلبہ کے مطالبات کو تسلیم کئے جانے کااعلان کیا تو مظاہرین میں جوش کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ خیال تھا کہ وہ احتجاج کے خاتمے کااعلان کردیں گے لیکن کہا جاتا ہے کہ ان پر اے بی وی پی اور دائیں بازو کی دیگر تنظیموں کا دباؤ ہے کہ سی بی آئی جانچ کا مطالبہ تسلیم ہونے تک وہ احتجاج جاری رکھیں۔ 
 
 
طلبہ سوال پوچھیں تو جواب ملنا چاہئے: راہل
راہل گاندھی نےجھارکھنڈ میں طلبہ اور ریاستی حکومت کے درمیان اتفاقِ رائے بننے اور طلبہ کی بھوک ہڑتال ختم ہونے پر مسرت کا اظہار کیا۔ البتہ یہ بھی کہا کہ طلبہ کے سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں۔انہوں نے منگل کو’ ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور جھارکھنڈ حکومت نے بات چیت کا راستہ چنا اور حل نکالا۔ طلبہ نے صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا اور اپنی بات منوائی۔انہوں نے کہا کہ ’’یہی درست طریقہ ہے- طلبہ سوال پوچھیں، تو جواب ملنا چاہئے۔ میں ہر طالب علم کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK