• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوجی سی گائیڈ لائنس کیخلاف ملک بھر میں احتجاج

Updated: January 27, 2026, 11:19 PM IST | New Delhi

اعلیٰ ذات کے طبقات ان رہنما خطوط سے ناراض ہیں،آواز نہ اٹھانے پر ’ سوَرن‘ اراکین پارلیمان پر بھی برہم، چوڑیاں بھیجیں، سپریم کورٹ  میں  پٹیشن

Students belonging to Hindu upper castes protesting against UGC guidelines
ہندو اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنےوالے طلبہ یو جی سی کی گائیڈ لائنس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

کالجوں اور اعلیٰ  تعلیم کے اداروں میں  ذات کی بنیاد پر طلبہ  کے ساتھ امتیازی کو روکنے کیلئے   جاری کی گئی یورنیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ذریعہ جاری کی گئی  گائیڈ لائنس  کے خلاف   اعلیٰ ذات کے  ہندو صف آرا ء ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو براہ راست نشانہ بناتے  ہوئے  ہونےو الے احتجاج نے شدت اختیار کرلی ہے۔ منگل کو اعلیٰ ذات اور عام زمرے کے طلبہ نے  یوجی سی  کے ہیڈ کوارٹرس کے باہر مظاہرہ کیا   جبکہ یوپی  سے تعلق رکھنےوالے ’سوَرن ‘(اعلیٰ ذات کے)  اراکین پارلیمان کی اس معاملے میں  خاموشی پر بطور احتجاج انہیں چوڑیاں بھیجی گئیں۔ لکھنؤ، رائے بریلی، بنارس، میرٹھ، پریاگ راج اور سیتا پور  میں اعلیٰ ذات اور عام زمرے کے ہندو طلبہ نے  پرزور احتجاج کیا جبکہ کچھ علاقوں میں باقاعدہ حلف لیاگیا کہ جب تک ان ضوابط کو واپس نہیں لیا جاتا،  اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنےوالے افراد بی جےپی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ 
نئے ضوابط  کے خلاف احتجاج کیوں؟
    ’’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق ضوابط-۲۰۲۶ء‘‘ کا نوٹیفکیشن یو جی سی  نے ۱۳؍ جنوری کوجاری کیاتھا۔ان کے  تحت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کو روکنے کیلئے خصوصی کمیٹیاں، ہیلپ لائن اور مانیٹرنگ ٹیمیں قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ ٹیمیں خاص طور پر ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طلبہ کی شکایات کا ازالہ کریں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنانے کیلئے  ہیں تاہم  جنرل کیٹیگری اور اعلیٰ ذات  کے ہندو انہیں  اپنے  خلاف  قرار د رہے ہیں۔ ان کو اندیشہ ہے کہ چونکہ مذکورہ کمیٹیوں  میں درج فہرست ذات و قبائل اور او بی سی  کی نمائندگی زیادہ ہوگی اس لئے یہ کمیٹیاں کیمپس میں  ان کے ساتھ امتیاز کا ذریعہ بنیں گی۔ مظاہرین  کے مطابق نئے ضوابط کے تحت  ’’سوَرْن طلبہ‘‘ کو نئے ضابطوں کے تحت ’فطری مجرم‘ بنا دیا گیا ہے۔ 
یوجی سی کے ہیڈ کوارٹرز پر احتجاج
  منگل کو  دہلی کے مختلف کالجوں  کے عام زمرہ اور اعلیٰ ذات کے طلبہ  نے یوجی سی ہیڈ کوارٹرز کے  باہر احتجاج کیا۔ حالانکہ احتجاج کو روکنےکیلئے یہاں  بڑے پیمانے پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات  ہے، پھر بھی ۱۰۰؍ سے زائد طلبہ نے مظاہروں میں حصہ لیااور یو جی سی  کے سامنے مطالبات کی فہرست پیش کی جس میں  ضوابط کو پوری طرح واپس لینے کا مطالبہ اہم ہے۔    یوجی سی حکا م کے ساتھ مطالبہ کرنےوالے طلبہ نے مذکورہ کمیٹی میں ’سورن ‘اراکین کی شمولیت کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔اس بیچ  ان کا دعویٰ  ہے کہ یو جی سی حکام نے ۱۵؍ دنوں میں یعنی  ۲؍ فروری تک حل نکالنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔  
جگہ جگہ احتجاج، اتر پردیش مرکز بنا
  بنارس میں ضلع ہیڈ کواٹرس کے باہر احتجاج کیاگیا جبکہ امیٹھی میں بی جےپی کے خلاف  مظاہرہ میں یکم فروری کو ’بھارت بند‘ کا نعرہ دیاگیا۔ سنبھل میں کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ اسوسی ایشن  نے  سیاہ فیتے باندھ کر احتجاجی ریلی نکالی اور کلکٹر سے ملاقات کرکے وزیراعظم کیلئے میمورنڈم سونپا۔ اُدھر لکھنؤ یونیورسٹی میں ’’کالا قانون واپس لو‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ 
   بی جےپی کارکن بھی سڑکوں پراترے 
 رائے بریلی میں بی جےپی  کے کسان لیڈر رمیش بہادر سنگھ اور  نام نہاد گئو رکشا دل کے صدر مہندر پانڈے   نے  پارلیمنٹ کے ان اراکین کو چوڑیاں روانہ کیں جن کا تعلق اعلیٰ ذاتوں سے ہے۔ان کی برہمی اس بات پر ہے کہ مذکورہ اراکین نے مبینہ طور پر ’سورن‘ کو نشانہ بنانے والے ان  ضابطوں کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ الہ آباد میں بی جےپی کے زمینی سطح کے کارکن ترنگا  لے کر اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کیلئے سڑکوں  پر اتر گئے۔ اس موقع پر بی جے پی یوا مورچہ کے سابق صدر شیوم مشرا نے دھواں دھار تقریر بھی کی۔ اُدھر ایودھیا میں جگت گرو پرم ہنس آچاریہ نے  حکومت  سے ضوابط کو واپس لینے یا خود کشی کا حق دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ باقی صفحہ ۴؍ پر

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK