Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ای‘ رِکشا اور ’ای‘ بائیک کیلئے پرمٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ

Updated: March 15, 2026, 12:19 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

اب تک الیکٹرک رکشا کو مسافروں کی نقل و حمل کیلئے علیحدہ پرمٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

Transport Minister Pratap Sarnaik. Photo: INN
وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک ۔ تصویر: آئی این این

ریاست میں رِکشا اور ٹیکسیوں کیلئے نئے پرمٹ جاری کرنے کا عمل گزشتہ ۲؍دنوں سے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ان حالات میں ٹرانسپورٹ کے وزیر پرتاپ سرنائک نے بتایا کہ مسافروں کو الیکٹرک (ای) رکشا اور ای بائک کیلئےموٹر وہیکل ڈپارٹمنٹ میں رجسٹریشن اور لائسنس حاصل کرنے کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے کہا کہ اب تک الیکٹرک رکشا (ای رکشا) کو مسافروں کی نقل و حمل کیلئے علیحدہ پرمٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم،ای-گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے نوٹیفکیشن نمبرکے تحت مسافروں کی نقل و حمل میں یکساں قوانین کو لاگو کرنے کیلئے ای -رکشا اور ای-بائیک کیلئے پرمٹ کے عمل کو لازمی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی روایتی رکشوں، ٹیکسیوں اور الیکٹرک رکشوں سمیت تمام قسم کی گاڑیوں پر یکساں قوانین لاگو رہیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: بی ایم سی میٹھی ندی کی صفائی کا ذمہ ناتجربہ کار ٹھیکیداروں کو دینے کیلئے تیار

انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے مقصد مسافروں کی نقل و حمل کے نظام میں شفافیت کو بڑھانا اور بے قاعدگیوں سے بچنا ہے۔

دریں اثنا، پرمٹ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کی طرف سے ’’سنگل ونڈو اسکیم‘‘ شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس اسکیم کے تحت درخواست کی منظوری، دستاویزات کی تصدیق اور منظوری کے عمل کو ایک ہی جگہ پر آسان طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ تاہم، کسی بھی قسم کی بددیانتی یا بے ضابطگیوں سے بچنے کے لیے مسافروں کو لے جانے والی ہر قسم کی گاڑیوں کیلئے پرمٹ حاصل کرنا لازمی رہے گا۔ پرتاپ سرنائک نے زور دے کر کہا کہ نئے قواعد کے مطابق الیکٹرک رکشا اور ای بائیک کیلئے بھی پرمٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔انہوںنے اپنے یقین کا اظہار کیا کہ اس فیصلے سے مسافروں کی نقل و حمل کے نظام میں مزید نظم و ضبط آئے گا، قواعد کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے گا اور مستقبل میں مسافروں کو محفوظ اور کنٹرول شدہ خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK