Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیوسینا( ادھو) کے باغیوں کے خلاف جگہ جگہ احتجاج

Updated: June 19, 2026, 4:00 PM IST | Agency | Mumbai

پربھنی میں سنجے جادھو کے پتلے کو چپلوںکا ہار پہنایا گیا تو ایوت محل میں سنجے دیشمکھ کے پتلے پر کالک پوتی گئی ، احمد نگر میں بھی مظاہرہ۔

Shiv Sena (Uddhav) Workers Burning Sanjay Deshmukh`s Effigy In Ayutthaya.Photo:INN
ایوت محل میں سنجے دیشمکھ کے پتلے کو نذر آتش کرتے ہوئے شیوسینا (ادھو) کارکنان-تصویر:آئی این این
شیوسینا( ادھو) کے ۹؍ میں سے ۶؍ اراکین پارلیمان پارٹی سے الگ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنا علاحدہ گروپ بنایا ہے اور امکان ہے کہ وہ شیوسینا (شندے) میں شامل ہو جائیں۔ ان کی اس بغاوت سے مہاراشٹر بھر میں شیوسینا (ادھو) کے کارکنان میں ناراضگی ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں ان ۶؍ اراکین پارلیمان کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ 
اطلاع کے مطابق پربھنی ضلع جہاں سے سنجے جادھو رکن پارلیمان ہیں شیوسینا (ادھو) کا قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں حال ہی میں میونسپل الیکشن میں بھی پارٹی کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جادھو کے اچانک خیمہ بدلنے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے لہٰذا پارٹی کارکنان نے انتہائی جارحانہ انداز میں ان کے خلاف احتجاج کیا۔ سون پیٹھ علاقے میں سنجے جادھوکی تصویروں پر جوتے مارے گئے اور نعرے لگائے ’’ غداروں پر لعنت ہو‘‘ ساتھ ہی ’’ ادھو ٹھاکرے آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کے نعرے بھی سنائی دیئے۔ اس کے علاوہ شہر میں واقع چھتر پتی شیواجی چوک پر دیشمکھ کے علامتی پتلے کو چپلوںکا ہار پہنایا گیا اس کے بعد پتلے کو نذر آتش کیا گیا۔  
 
 
پربھنی کے پڑوسی ضلع بیڑ میں شیوسینا(ادھو) کے کارکنان بغاوت کرنے والے تمام ۶؍ اراکین پارلیمان کے پتلے جلائے اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سبھی ادھو ٹھاکرے  کے ساتھ غداری کی ہے ساتھ ہی ووٹروںکو بھی دھوکہ دیا ہے۔ ان کی رکنیت منسوخ کی جانی چاہئے۔ان اراکین پارلیمان کے خلاف صرف مراٹھواڑہ نہیں بلکہ ودربھ میں بھی احتجاج کیا گیا۔ واشم ۔ا یوت محل حلقے سے رکن پارلیمان سنجے دیشمکھ کے خلاف یہاں جم کر نعرے لگائے اور ان کے علامتی پتلے کے منہ پر کالک پوتی گئی ساتھ اسے جوتوں سے مارا گیا۔ شیوسینا ( ادھو) کارکنان نے اس موقعے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سنجے دیشمکھ کے حلقے میں آنے پر ان کے روبرو احتجاج کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ اس موقع پر وہاں پولیس اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے جس کی وجہ سے احتجاج کے وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ 
 
 
باغیوں کی رہائش گاہ پر سخت سیکوریٹی 
اس دوران شیوسینا کارکنان کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بغاوت کرنے والے تمام ۶؍ اراکین پارلیمان کی رہائش گاہوں پر سیکوریٹی بڑھا دی ہے ۔ ساتھ ہی حکم جاری کیا گیا ہے کہ ان ۶؍ اراکین پارلیمان کے ساتھ ۲۴؍ گھنٹے پولیس اہلکاروں کی ٹیم رکھی جائے تاکہ انہیں کسی طرح کا خطرہ نہ ہوا۔ یاد رہے کہ عثمان آباد سے رکن پارلیمان اوم راجے نمبالکر کو شیوسینا ( ادھو) کارکنان نے دھمکی دی تھی کہ انہیں ضلع میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ نمبالکر کے خلاف بدھ کے روز ہی احتجاج کیا گیا تھا ۔ شیوسینا( ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے کہا ہے کہ ’ آپریشن ٹائیگر ‘ کے بعد اب مہاراشٹر کے عوام ’ آپریشن توڑو‘ ( مارو پیٹو) شروع کریں گے۔رائوت کے کہنا ہے کہ عوام کب تک برداشت کریں گے؟ اب وقت آگیا ہے کہ عوام ان غداروں کو سڑکوں پر سبق سکھائیں گے۔ اسی کے پیش نظر حکومت نے  شیوسینا( ادھو) چھوڑ کر آنے والے ۶؍ اراکین پارلیمان کو وائے سیکوریٹی فراہم کی ہے۔ مہاراشٹر سے لے کر دہلی تک ان اراکین پارلیمان کی حفاظت کی جائے گی۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK