پارٹی لیڈران حسن رؤف، بیرسٹر گوہر اورعلی ظفر کا قومی اسمبلی میں۱۸۰؍ سیٹیں جیتنے کا دعویٰ،جمعرات تک وزیراعظم کے نام کا بھی اعلان کرنے کا فیصلہ۔
EPAPER
Updated: February 14, 2024, 12:02 PM IST | Agency | Islamabad
پارٹی لیڈران حسن رؤف، بیرسٹر گوہر اورعلی ظفر کا قومی اسمبلی میں۱۸۰؍ سیٹیں جیتنے کا دعویٰ،جمعرات تک وزیراعظم کے نام کا بھی اعلان کرنے کا فیصلہ۔
:پاکستان میں عام انتخابات کے نتائج کے ۴؍ دن بعد حکومت کی تشکیل کا منظر نامہ صاف نہیں ہوپا رہا ہے، ایسے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مرکز اور پنجاب میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی پاکستان کے ساتھ اتحاد ہو گا۔ منگل کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان رؤف حسن نے دعویٰ کیا کہ قومی اسمبلی میں ہماری۱۸۰؍ نشستیں ہیں ۔ پی ٹی آئی ترجمان نے بتایا کہ عمران خان نے مسلم (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی سے کسی صورت رابطہ کرنے سے منع کیا ہے جبکہ دیگر پارٹیوں سے بات چیت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان نے مختلف جماعتوں کے ساتھ رابطہ کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔
ہمارے امیدواروں کوکروڑوں کی پیشکش کی جارہی ہے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈر بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی پورے ملک سے۱۸۰؍ نشستیں جیت گئی۔ جمعرات تک وزیر اعظم کے نام کا اعلان کریں گے ۔ اسلام آباد میں پارٹی کے دیگر لیڈروں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی تینوں سیٹیں ہم جیت چکے ہیں، بلوچستان میں ہم۴؍ سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب سے۱۱۵؍، سندھ سے۱۶؍ اور خیبرپختونخوا سے۴۲؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ بیرسٹرگوہر نےکہاکہ ہمارے امیدواروں کو۱۰؍ سے۲۵؍ کروڑ کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت مضبوط ہوگی، کمزور نہیں ۔ عوام کے ووٹوں کااحترام کیاجاناچاہئے ۔ ہم ووٹوں کی مکمل شماری کے بعد نتائج تسلیم کریں گے۔ ‘‘پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا ہےکہ آئندہ کے سیاسی فیصلوں کے تعلق سے ان کی عمران خان سےبات چیت ہوئی ہے، عوام نے ہمیں بڑا مینڈیٹ دیا ہے اور ہمیں اس مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہئے۔ ‘‘
واضح رہےکہ الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق پاکستانی قومی اسمبلی کی۱۰۱؍ نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے جن میں سے۹۰؍ سے زائد کو تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔ قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کیلئے جنرل نشستوں پر کامیاب ۱۳۴؍ ا راکین کی حمایت درکار ہے۔ ۲۶۶؍ میں سے۲۶۵؍ نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے جبکہ الیکشن کمیشن نے ۲۶۴؍ نشستوں کے عبوری نتائج کا اعلان کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے۷۵؍، پیپلز پارٹی۵۴؍، متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)۱۷؍، جمعیت علماء اسلام ۴؍، مسلم لیگ (ق)۳؍، استحکامِ پاکستان پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے ۲-۲؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین، مسلم لیگ ضیا، پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو ایک ایک نشست پر کامیابی ملی ہے۔
آزاد اراکین اکثریت ثابت کردیں، ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ آزاد اراکین اکثریت ثابت کردیں تو ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےشہباز شریف نے کہا کہ ۸؍ فروری کا مرحلہ طے ہوچکا ہے، عام انتخابات سے پہلے مختلف خدشات تھے، انتخابات سے پہلے کہا جارہا تھا کہ موسم کی سختی ہے، امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے، دہشت گردی ہے اس لیے ا نتخابات نہیں ہوسکتے ۔ مگر چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے بعد خدشات دفن ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن پر دھا ندلی سمیت طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ دھاندلی کے الزامات کی حقیقت جاننے کا کیا پیمانہ ہوناچاہئے؟
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو (ن) لیگ کے بڑے رہنما کیسے ہار گئے؟ دھاندلی کاالزام لگایا جارہا ہے اگر ایسی بات ہوتی تو سعدرفیق ہارتے نہیں، خواجہ سعدرفیق نے کھلے دل سے اپنی شکست کو تسلیم کیا ہے، رانا ثناء اللہ ہمارے سینئر ساتھی ہیں وہ بھی ہار گئے، ہمارے امیدوار ہارے ہیں اس کے باوجود دھاندلی ہوئی؟ ہمارے امیدوار بھی عدالتوں میں گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں آزاد امیدوار جیتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے وہاں بھی دھاندلی ہوئی ہے؟ یہ لوگ سندھ اور بلوچستان میں کیوں نہ جیت سکے؟ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف دھاندلی کا شور ہے تو دوسری طرف آزاد امیدوار بڑی تعداد میں جیت رہے ہیں، لیول پلیئنگ فیلڈ، دھاندلی سمیت طرح طرح کے الزامات لگائے گئے، کون سا ایسا الیکشن ہے جس میں دھاندلی کے الزامات نہیں لگے ہیں ؟
ہمیں رنجشوں کو محبتوں میں بدلنا ہے
صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ آئین کا تقاضا ہے جس کی تعداد زیادہ ہے وہ حکومت بنائے، اگر آزاد امیدوار حکومت بنا سکتے ہیں تو شوق سے بنائیں، آزاد امیدوار حکومت نہیں بناسکتے تو ہاؤس میں دیگر جماعتیں مشاورت سے فیصلہ کریں گی، آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانا سب کا حق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے، ہمیں رنجشوں کو محبتوں میں بدلنا ہے، دل کی بات ہی ہے کہ مجھے صرف ملک کی خوشحالی درکار ہے، وسیع تر قومی مفاد میں سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ شہباز شریف نے بتایا کہ ہم نے بطور اپوزیشن۴؍سال اس قوم کی خدمت کی اور قوم کے مفاد میں اہم بل ہم نے منظور کروائے ۔