Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنٹا وائرس: ۵ ممالک میں الرٹ، ڈبلیو ایچ او کی مزید کیسز کی وارننگ؛ صورتحال قابو میں ہے:ٹرمپ کا دعویٰ

Updated: May 08, 2026, 7:06 PM IST | Geneva/Washington/Buenos Aires

ہنٹا وائرس وبا کا پتہ نیدرلینڈز کے پرچم والے کروز جہاز ’ایم وی ہونڈیئس‘ پر چلا، جس نے ارجنٹائنا سے بحرِ اوقیانوس کے راستے کیپ وردے کا سفر کیا تھا۔ اس جہاز پر ۲۳ ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۱۵۰ مسافر اور عملہ سوار تھا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہنٹا وائرس کے مزید معاملات سامنے آسکتے ہیں۔ اس درمیان متعدد ممالک کے طبی حکام نے مانیٹرنگ کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا کہ یہ وبا ہنٹا وائرس کی اینڈیز (Andes) قسم سے پھیل رہی ہے، جو ایک نایاب قسم ہے اور قریبی رابطے کے ذریعے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹیڈروس نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ”اینڈیز وائرس کے انکیوبیشن پیریڈ (علامات ظاہر ہونے کا وقت) کے پیشِ نظر، جو چھ ہفتوں تک طویل ہوسکتا ہے، مزید معاملات سامنے آنے کا امکان اب بھی موجود ہے۔“ اب تک اس وبا سے منسلک ۸ معاملات کی نشان دہی ہوچکی ہے جن میں ۳ اموات شامل ہیں۔ ۵ انفیکشنز کی لیبارٹری سے تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ تین معاملات مشتبہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ترک وطن بحران نہیں، منظم حل میں دنیا کی اجتماعی ناکامی اصل بحران ہے: غطریس

کروز شپ میں وبا کی تحقیقات

اس وبا کا پتہ نیدرلینڈز کے جھنڈے والے کروز جہاز ’ایم وی ہونڈیئس‘ پر چلا، جس نے ارجنٹائنا سے بحرِ اوقیانوس کے راستے کیپ وردے (Cabo Verde) کا سفر کیا تھا۔ اس جہاز پر ۲۳ ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۱۵۰ مسافر اور عملہ سوار تھا۔

ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ پہلے مسافر میں ۶ اپریل کو علامات ظاہر ہوئیں اور وہ ۱۱ اپریل کو جہاز پر ہی انتقال کرگیا۔ اس کی بیوی سینٹ ہیلینا میں جہاز سے اترنے کے بعد بیمار ہوئی اور اس نے۲۵ اپریل کو جوہانسبرگ میں دم توڑ دیا۔ تیسرا مسافر ۲ مئی کو ہلاک ہوا، جبکہ ایک اور متاثرہ مریض جنوبی افریقہ میں انتہائی نگہداشت میں زیرِ علاج ہے۔ تین مسافروں کو طبی امداد کیلئے نیدرلینڈز منتقل کیا گیا، جن میں ایک برطانوی مسافر، ۶۵ سالہ جرمن شہری اور عملے کا رکن ۴۱ سالہ ڈچ شہری شامل ہے۔ ان میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ 

جنوبی افریقہ، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، امریکہ اور سنگاپور کے طبی حکام بھی اس سفر سے منسلک مسافروں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے زور دیا کہ فی الحال کووڈ جیسی عالمی وبا کا کوئی اشارہ نہیں ہے، کیونکہ اینڈیز وائرس کی منتقلی عام طور پر صرف طویل قریبی رابطے کے دوران ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کیلئے آئی سی سی، اقوام متحدہ کی آزادی کے تحفظ کے اسپین کے منصوبے کو سلووینیا کی حمایت

سی ڈی سی کا ہنگامی ردِعمل

امریکی مراکز برائے انسداد و روک تھامِ امراض (سی ڈی سی) نے اس وبا کو ”لیول ۳“ کا ہنگامی ردِعمل قرار دیا ہے، جو فعالیت کے پیمانے پر سب سے نچلی سطح ہے۔ سی ڈی سی نے کہا کہ نگرانی اور روک تھام کی کوششوں میں مدد کیلئے ہنگامی آپریشن مراکز فعال کر دیئے گئے ہیں۔ امریکی حکام اس وقت جارجیا، ایریزونا، ٹیکساس اور ورجینیا سمیت مختلف ریاستوں میں کروز سے واپس لوٹنے کئی مسافروں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ہنٹا وائرس سے جڑی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے لنکن میموریل کے قریب نامہ نگاروں کو بتایا کہ ”ہمیں امید ہے کہ صورتحال کافی حد تک قابو میں ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل غزہ جنگ میں شریک فوجیوں کی دماغی صحت سے متعلق ڈیٹا چھپا رہا ہے: ہاریٹز

ارجنٹائنا میں ہنٹا وائرس کے ریکارڈ معاملات سامنے آئے

دریں اثنا، ارجنٹائنا حالیہ برسوں میں ہنٹا وائرس کے بدترین قہر کا سامنا کر رہا ہے۔ لاطینی امریکی ملک میں ۲۶-۲۰۲۵ء کے دوران ۱۰۱ تصدیق شدہ معاملات درج کئے گئے ہیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ۵۷ معاملات سامنے آئے تھے۔ ارجنٹائنی حکام نے اس اضافے کی وجہ خشک سالی، شدید بارشوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور چوہوں کے مسکن کے ساتھ انسانی تعامل میں اضافے کو قرار دیا ہے۔

اس وبا نے ارجنٹائنا اور ڈبلیو ایچ او کے درمیان کشیدگی کو بھی جنم دیا ہے۔ بیونس آئرس نے عالمی تنظیم پر کروز شپ سے منسلک انفیکشنز کو ”سیاسی رنگ“ دینے کا الزام لگایا ہے۔ یہ کشیدگی ارجنٹائنا کی جانب سے رواں سال کے شروع میں ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK