Inquilab Logo Happiest Places to Work

سرکاری بینکوں کا منافع۷۹ء۱؍ لاکھ کروڑ کی نئی بلندی پر

Updated: May 11, 2025, 12:12 PM IST | New Delhi

روپے کے لحاظ سے کل منافع میں ایس بی آئی کا حصہ۷۰۹۰۱؍ کروڑ روپے تھا۔ بینک آف بڑودہ۱۹۵۸۱؍ کروڑ روپے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

State Bank of India tops the list in terms of profits. Photo: INN.
اسٹیٹ بینک آف انڈیا منافع میں سرفہرست ہے۔ تصویر: آئی این این۔

این پی اے میں کمی، کاروبار میں اضافہ اور بہتر مارجن کی وجہ سے تمام ۱۲؍پبلک سیکٹر بینکوں نے گزشتہ مالی سال ۲۵۔ ۲۰۲۴ء میں ۱ء۷۹؍ لاکھ کروڑ روپے کا ریکارڈ خالص منافع کمایا ہے۔ 
یہ مالی سال ۲۴۔ ۲۰۲۳ء میں ۱ء۴۱؍ لاکھ کروڑ روپے کے ریکارڈ منافع سے۲۷؍ فیصد زیادہ ہے۔ روپے کے لحاظ سے کل منافع میں اکیلے ایس بی آئی کا حصہ۷۰۹۰۱؍ کروڑ روپے تھا۔ بینک آف بڑودہ۱۹۵۸۱؍ کروڑ روپے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ فیصدکے لحاظ سے پنجاب نیشنل بینک کا منافع سب سے زیادہ۱۰۱؍ فیصد بڑھ کر۱۶۶۳۰؍ کروڑ روپے ہو گیا۔ مرکزی بینک ۷۸؍ فیصد ترقی کے ساتھ دوسرے اور پنجاب اینڈ سندھ بینک۷۱؍ فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ یونین بینک جو تیسرے نمبر پر ہے، اس نے۱۷۹۸۷؍ کروڑ روپے کا منافع کمایا ہے۔ کینرا بینک۱۷۵۴۰؍ کروڑ روپے کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے اور پنجاب نیشنل بینک ۱۶۶۳۰؍ کروڑ روپے کے ساتھ ۵؍ویں نمبر پر ہے۔ ۶؍ بینک ایسے ہیں جنہوں نے سالانہ ۱۰؍ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا منافع کمایا ہے۔ تمام بینکوں کے منافع میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا ہے۔ 
چوتھی سہ ماہی میں منافع میں بھی اضافہ ہوا 
چوتھی سہ ماہی یعنی جنوری تا مارچ کے درمیان بینکوں کا منافع۴۸۴۵۱؍ کروڑ روپے تھا، جو ۲۴۔ ۲۰۲۳ء کی اسی سہ ماہی میں ۴۲۸۴۷؍ کروڑ روپے تھا۔ اس میں سے اکیلے ایس بی آئی کے پاس ۱۸۵۴۳؍ کروڑ روپے ہیں۔ تمام بینکوں کے منافع میں سہ ماہی کی بنیاد پر اضافہ ہوا، لیکن ایس بی آئی کے منافع میں ۱۰؍ فیصد کی کمی ہوئی۔ پنجاب اینڈ سندھ بینک۱۲۴؍ فیصد منافع کے ساتھ سب سے زیادہ کمانے والا بینک ہے۔ بینک آف انڈیا کے منافع میں ۸۲؍ فیصد، پنجاب نیشنل بینک کے ۵۲؍ فیصد، کینرا کے۲۸؍ فیصد، انڈین بینک کے۳۲؍ فیصد اور انڈین اوورسیز بینک کے منافع میں ۳۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 
حکومت کی ۴؍آر حکمت عملی کے اثرات
حکومت نے خسارے میں جانے والے ان بینکوں کو بحال کرنے کیلئے ۴؍آر حکمت عملی کا آغاز کیا۔ اس میں بینکوں کی دوبارہ سرمایہ کاری، شناخت، حل اور اصلاحات شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں بینکوں کے خراب قرض یعنی این پی اے میں کمی آئی اور اس وجہ سے قرض میں اضافہ ہوا۔ 
خالص این پی اے۰ء۷۰؍ سے کم
بینکوں کا خالص این پی اے ۰ء۷۰؍ فیصد سے کم ہے۔ صرف پنجاب اینڈ سندھ بینک کے پاس۰ء۹۶؍ فیصد ہے۔ بینک آف مہاراشٹر کا سب سے کم این پی اے۰ء۱۸؍ فیصد ہے۔ ایس بی آئی کے پاس۰ء۴۷؍ فیصد، یونین بینک کے پاس ۰ء۶۳؍ فیصد، بینک آف بڑودہ کے پاس۰ء۵۸؍ فیصد اور پی این بی کے پاس ۰ء۴۰؍ فیصد ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK