Inquilab Logo Happiest Places to Work

سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے میں بڑے پیمانے پر مسافروں کیخلاف کارروائی

Updated: June 11, 2026, 8:04 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

۶۰؍ دن میں ایک ارب روپے سے زائد جرمانہ وصول کیاگیا، سینٹرل ریلوے میں روزانہ۲۴۰؍ سے زائد معاملات میں ایک لاکھ روپے سے زیادہ جرمانہ وصول کیا گیا۔

A Scene Of Ticket Checking In Western Railways.Photo:INN
ویسٹرن ریلوے میں ٹکٹ کی جانچ کاایک منظر۔ تصویر:آئی این این
 سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے میں بڑے پیمانے پر بلاٹکٹ مسافروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان سے کروڑوں روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ 
سینٹرل ریلوے کے ممبئی ڈویژن کا وسیع مضافاتی ریلوے نیٹ ورک ہے۔ سی ایس ایم ٹی سے کرجت، کھپولی، کسارا جو پنویل، اُرن، ماہم اور تھانے سے واشی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس نیٹ ورک پر روزانہ چلنے والی ایک ہزار۸۲۰؍ مضافاتی ٹرین سروسیز کے ذریعے اوسطاً۳۹؍ لاکھ مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان  میں۱۰۸؍اے سی لوکل ٹرینیں بھی شامل ہیں۔
محفوظ اور آرام دہ سفر کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سینٹرل ریلوے کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ بغیر ٹکٹ یا ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سفر کرنے والے مسافروں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ ایسے مسافروں کی وجہ سے ریلوے کو محصولات کا بڑا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ روزانہ لاکھوں مسافروں کی آمد و رفت کے پیش نظر یہ کام مزید چیلنجنگ ہو جاتا ہے۔
 
 
دوسری جانب قانون کی پابندی کرنے والے ایماندار مسافروں کے مفادات کے تحفظ کے لئےسینٹرل ریلوے وقتاً فوقتاً مختلف خصوصی ٹکٹ چیکنگ مہم چلاتی ہے جن کا مقصد بغیر ٹکٹ اور بے ضابطہ سفر کے معاملات کا سراغ لگانا اور قصوروارمسافروں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اپریل تا مئی۲۰۲۶ءکے دوران ان خصوصی مہم میںمحض ۶۱؍ دنوں کے اندر۱۴؍ ہزار۷۴۴؍معاملات پکڑے گئے جن سے ۶۲ء۰۸؍ کروڑ  روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ یہ اوسطاً روزانہ۲۴۱؍معاملات اور۱ء۰۱؍لاکھ روپے وصولی کے برابر ہے۔
 
 
اسی طرح ویسٹرن ریلوے میں ان ہی دوماہ میں زبردست چیکنگ مہم کے دوران۶؍ لاکھ۸۰؍ ہزار کیسز پکڑے گئے اور۵۰؍کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔یہ بھی یاد رہے کہ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران ریلوے اپنی مہم تیز کردیتی ہے، اسی سبب یہ بڑی کمائی اسے حاصل ہوتی ہے۔ اس میں لوکل اور طویل مسافتی ٹرینوں دونوں کے مسافر شامل ہیں۔ یہ تفصیلات ویسٹرن اور سینٹرل ریلوے کے چیف پی آر او نے بتائیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK