ممبرا میں کئی بی ایل اوز کو ذمہ داری کہیں اور کی دی گئی ہے اور وہ حاضری کہیں اور لگا رہے ہیں، بعض نے اپنے فون بند کر رکھے ہیں اور بوتھ پر بھی موجود نہیں ہیں
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 11:01 PM IST | Nadir | Mumbai
ممبرا میں کئی بی ایل اوز کو ذمہ داری کہیں اور کی دی گئی ہے اور وہ حاضری کہیں اور لگا رہے ہیں، بعض نے اپنے فون بند کر رکھے ہیں اور بوتھ پر بھی موجود نہیں ہیں
ایس آئی آر کے عمل سے قبل فیملی میپنگ کا کام جاری ہے لیکن ممبرا میں عوام کو اس میں دقتوںکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جن بی ایل او ز کو اس کام پر مامور کیا گیا ہے ان میں سے متعدد اپنے متعلقہ بوتھ پر موجود ہی نہیں ہیں۔ بعض کے فون بند ہیں۔
انقلاب کو متعدد فون موصول ہوئے کہ ممبرا کے عبداللہ پٹیل ہائی اسکول( پارٹ نمبر ۳۲۱؍) میں بی ایل او کی ڈیوٹی پر مامور کئے گئے شہیر شبیر وہاں موجود ہی نہیں ہیں۔ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ وہ نیشنل اسکول میں پڑھاتے ہیں، جو الماس کالونی میں ہے۔ وہیں ملیں گے۔ ان میں سے بعض نے بتایا کہ وہ فون بھی نہیں اٹھا رہے ہیں۔ انقلاب نے جب شہیر شبیر سے رابطہ کیا تو انہوں نے فوراً فون اٹھایا۔ عبداللہ پٹیل کے بوتھ پر نہ ہونے کی وجہ پوچھنے پر انہوں نے کہا ’’ہمیں ایسی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے کہ بوتھ پر جا کر ڈیوٹی دیں۔ ہم فون پر اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی میپنگ کر رہے ہیں۔‘‘ شہیر شبیر نے بتایا کہ ’’ہمارے اسکول میں امتحانات چل رہے ہیں۔ میں ماڈریٹر بھی ہوں اسلئے مجھے ۱۵۰۰؍ پرچے بھی جانچنے ہیں۔ ایسی صورت میں میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ میں عبداللہ پٹیل اسکول جائوں ۔ لہٰذا میں یہیں نیشنل اسکول میں لوگوں کو بلا کر ان کی میپنگ کا کام کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نےبتایاکہ ’’ہمارے پاس ۲۰۰۲ء اور ۲۰۲۴ء دونوں ہی کی فہرستیں موجود ہیں۔ حکام کی ہدایت کے مطابق کئی لوگوں کی میپنگ ہم نے ان کی درخواست سے پہلے ہی کر دی ہے لیکن جب لوگ یہاں آنے لگےاور ہم روبرو میپنگ کے کام میں مصروف ہو گئے تو اسے ہم نے روک دیا۔‘‘
لیکن یہ باتیں عوام کو تو معلوم نہیں ہیں؟ وہ تو عبداللہ پٹیل اسکول جا کر پریشان ہو رہے ہیںجہاں قاعدے سے آپ کو موجود ہونا چاہئے یا آپ کی غیر موجودگی میں بھی ان کا کام ہوجانا چاہئے؟ اس پر شبیر شہیر نے کہا ’’ کوئی بھی ووٹر ہم سے فون پر یا واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتا ہے۔ ہم ان کی میپنگ کرکے فوراً اس کا اسکرین شاٹ بھیج دیتے ہیں۔ نمونے کے طور پر میں آپ کو بھی کچھ اسکرین شاٹ بھیج سکتا ہوں۔‘‘
ایم ایم ویلی کی مہاڈا کالونی میںرہنے والے افضل انصاری اپنی اہلیہ کی میپنگ کیلئے کوسہ میونسپل اسکول گئے تھے۔ ان کے بی ایل او عارف حبیب بابانی ہیں لیکن وہ اپنے بوتھ پر موجود نہیں تھے۔ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ وہ شعیب اسکول (کاکا نگر) میں بیٹھتے ہیں لیکن جب افضل انصاری نے انہیں فون لگایا تو فون بند آ رہا تھا۔ افضل انصاری کا کہنا ہے کہ متعدد افراد نے انہیں بتایا کہ بی ایل او عارف حبیب نے اپنا غلط نمبر دیا ہے۔ انقلاب نے جب عارف حبیب کے نمبر ۸۱۰۸۶۶۷۷۱۱؍ پر فون کیا تو وہ مسلسل بند بتا رہا تھا۔ یعنی عارف حبیب نہ اپنے بوتھ پر ڈیوٹی دے رہے ہیں نہ ہی ان کا دیا ہوا فون نمبر لگ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ان کے حلقے کے عوام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک اور بی ایل او ہیں اتل پاٹل جن کی ڈیوٹی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق ممبرا کے مائونٹ میری اسکول میں ہے۔ وہ بھی اپنی جگہ پر موجود نہیں ہیں۔ فلاح گارڈن کے مکین عامر خان جب اپنی میپنگ کیلئے مائونٹ میری اسکول پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ اتل پاٹل تھانے میں رہتے ہیں۔ البتہ جب انہیں فون لگایا گیا تو انہوں نے عامر خان کی تفصیل منگوا لی اور کہا کہ میپنگ کرکے بھیج دیں گے۔ انقلاب نے جب اتل پاٹل سے بات کی تو انہوں نے کہا ’’میں وہاں ڈیوٹی نہیں دے رہاہوں لیکن فون کے ذریعے لوگوں کی میپنگ کا کام کر رہا ہوں۔ آج بھی میں نے ۲۵؍ سے ۳۰؍ لوگوں کی میپنگ کی ہے۔ ‘‘ ان کا کہنا ہے’’ فون کے ذریعے آسانی سے کام ہوتا ہے۔ کیونکہ ساری معلومات اس وقت فون ہی کے ذریعے نکالی جاتی ہے ۔ اسے اگر وہ مجھے فارورڈ کردیتے ہیں تو میں فوراً ان کا کام کر دیتا ہوں کیونکہ میرے پاس دونوں فہرست موجود ہے۔ ۲۰۰۲ء کی بھی اور ۲۰۲۴ء کی بھی۔‘‘ اتل پاٹل نے بھی یہ بات کہی کہ ’’ مجھے کسی نے یہ ہدایت نہیں دی کہ مجھے مائونٹ میری اسکول جا کر بیٹھنا ہوگا۔ ورنہ میںجاتا۔ حالانکہ گھر پر بیٹھ کر میں اس سے زیادہ کام کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا’’ اگر کوئی مجھے صرف اپنا یو آر بی نمبر یا ووٹر آئی ڈی بھی بھیج دیتا ہے تو میں اس کا نام سرچ کرکے اس کی میپنگ کر دیتا ہوں۔ ‘‘ کہا جا رہا ہے کہ متعدد بی ایل اوز ہیں جنہوں نے اپنا فون بند رکھا ہے۔ان کا فون نہ لگنے کی وجہ سے عوام تشویش میں ہیں کہ میپنگ کا کام کیسے کروائیں۔