عدالت کے فیصلے کے بعد کارپوریشن دفتر کے سامنے ہونے والا احتجاج ملتوی، پمپری چنچوڑ میں پتھر بازی کے الزام میں گرفتار کئے گئے نوجوانوں کی رہائی کیلئے کوششیں۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 10:19 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
عدالت کے فیصلے کے بعد کارپوریشن دفتر کے سامنے ہونے والا احتجاج ملتوی، پمپری چنچوڑ میں پتھر بازی کے الزام میں گرفتار کئے گئے نوجوانوں کی رہائی کیلئے کوششیں۔
پونے کے پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن کی حدود میں کدل واڑی اور چکھلی علاقے میں شہری ترقیاتی محکمے کی جانب سے انہدامی کارروائی پر شنوائی کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کے دو ججوں کی بینچ نے اسٹے دیدیا اور کارروائی پر روک لگادی ہے۔ عدالت نے موجودہ صورتحال من و عن برقرار رکھنے اور اس کی اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے مقامی مسلمان اور برادران وطن اطمینان محسوس کررہے ہیں۔
کارپوریشن کے سامنے احتجاج ملتوی
مساجد کے انہدام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے جمعہ کے دن کارپوریشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا مگر اسٹے ملنے کے بعد وقتی طور پر اسے ملتوی کردیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں پولیس کمشنر وجے کمار سوریہ ونشی نے شہر کے ذمہ دار اشخاص اور مسلم نمائندوں کے ہمراہ اپنے دفتر میں جمعرات کو میٹنگ کی اور احوال معلوم کئے۔ پولیس کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لئے اور پیشگی اطلاع کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس لئے اب جبکہ کارروائی پر عدالت نے روک لگادی ہے تو احتجاج مت کیجئے۔ پولیس کمشنر کے ہمراہ ہونے والی میٹنگ میں اس اہم میٹنگ میں ڈی سی پی سندیپ اٹھاؤلے، اے سی پی سچن اہیرے، چنچوڑ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر اوہاڑ اور نگڑی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر پاٹل کے علاوہ علما کونسل کے صدر مولانا تنویر احمد، این سی پی کے اقلیتی شعبہ کے صدر حاجی محمد یوسف قریشی، حاجی نیاز احمد صدیقی، اکبر ملا، مشیر حاجی غلام رسول سید، کیرالا سنگھرش سمیتی کے صدر کبیر احمد، لوک شاہی یوا فاؤنڈیشن کے ذمہ دار شہاب الدین شیخ اور کانگریس کے مقامی صدر نریندر بنسوڑے وغیرہ موجود تھے۔ میٹنگ میں قانون کی پاسداری کرنے، افواہوں سے گریز کرنے اور امن وامان کے استحکام کے تئیں کوشاں رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسمارٹ واچ کی قیمت اور مجموعی رقم بتانے میں حج کمیٹی کی آناکانی
نوجوانوں کی گرفتاری کے سبب دہشت
البتہ دوسری جانب ۴؍ دن قبل مذکورہ علاقوں میں رات کے وقت ۵؍ مساجد کی شہادت کے وقت کچھ نوجوانوں پر پتھر بازی کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس جرم میں اب تک پولیس نے ۳۶؍ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جن میں ۳؍ نابالغ بھی شامل ہیں جبکہ تین غیر مسلم ہیں۔ پولیس کی جانب سے مزید نوجوانوں کی تلاش کی جارہی ہے۔ پولیس کی اس کارروائی سے مقامی مسلمانوں میں زبردست خوف و اضطراب کی کیفیت ہے۔ پولیس اکثر رات کے وقت ملزمین کو تلاش کرتی ہے، اس لئے اور بھی دہشت ہے۔ اس تعلق سے ڈاکٹر سعید احسن قادری نے نمائندہ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے گرفتار کئے گئے نوجوانوں کے ناموں کی فہرست (انقلاب کے پاس وہ موجود ہے) مہیا کروائی اور یہ بھی بتایا کہ ان نوجوانوں کو مقامی عدالت نے یروڈہ جیل بھیج دیا ہے۔ ڈاکٹر سعید کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ضمن میں ذمہ دار اشخاص دیگر نوجوانوں کو گرفتار کئے جانے سے بچانے اور جیل بھیجے گئے نوجوانوں کی ضمانت کیلئے کوشاں ہیں اور وکلاء سے صلاح ومشورہ بھی جاری ہے۔
آج پولیس کمشنر کے ساتھ میٹنگ
نوجوانوں کی گرفتاری پر آج ایک وفد پولیس کمشنر سے ملاقات کرے گا۔ مسلم جماعت پمپری شہر کی جانب سے شہاب الدین ایم شیخ نے ایک پمفلٹ شائع کرتے ہوئے اس میں توڑی گئیں مساجد اور مزار کی تصاویر نمایاں کرتے ہوئے عوام الناس کو متوجہ کیا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اور خاص طور پر اس میں نوجوانوں اور شہریوں کی گرفتاری کے خلاف انصاف کا مطالبہ کرنے کیلئے ایک وفد پولیس کمشنر سے دوپہر ۱۲؍ بجے ان کے دفتر میں ملاقات کرے گا۔ اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں اور میونسپل کارپوریشن کے عملہ پر ہونے والے حملے کی ہم سب سخت مذمت کرتے ہیں۔ تمام ذمہ دار شہریوں سے تعاون کی اپیل ہے۔ یاد رہے کہ پونے میں مجموع طور پر ۱۸؍ مساجد کو شہید کرنے کا آرڈر جاری کیا تھا۔ ساتھ ہی دیگر عبادتگاہوں کو بھی گرایا جانا تھا۔