Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی کی پریس کانفرنس، ایتھنال ملا ایندھن، بے روزگاری اور عوامی مسائل پر توجہ

Updated: August 05, 2026, 3:59 PM IST | Aurangabad

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے بدھ کو کہا کہ ان کی تنظیم فی الحال ایک پریشر گروپ (دباؤ ڈالنے والے عوامی گروپ) کے طور پر کام کرے گی۔ دپکے نے واضح کیا کہ فی الحال تنظیم انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

Abhijeet Dipke answering questions from reporters. Photo: INN
ابھیجیت دپکے نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے بدھ کو کہا کہ ان کی تنظیم فی الحال ایک پریشر گروپ (دباؤ ڈالنے والے عوامی گروپ) کے طور پر کام کرے گی، کیونکہ موجودہ حالات میں ہندوستان کو اسی نوعیت کی تحریک کی ضرورت ہے۔ مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر (اورنگ آباد)میں سی جے پی کی کور کمیٹی کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دپکے نے کہا کہ اجلاس میں میڈیا اور عدلیہ جیسے اداروں پر عوام کے کم ہوتے اعتماد پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایتھنال ملا ہوا ایندھن (E20)، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’فی الحال سی جے پی ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کرے گی، کیونکہ آج ہندوستان کو اسی کی ضرورت ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یوپی مدرسہ بورڈ ایکٹ میں ترمیم پر کابینہ کی مہر، ’کامل‘ اور ’فاضل‘ کی اسناد پر خطرے کی تلوار

دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے تقریباً۱۰۰؍افراد کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ تک مارچ کیا اور ای ۲۰؍پٹرول کی مخالفت میں ایک عرضداشت پیش کی۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ میں ایتھنال ملا ہوا ایندھن فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان نے امریکہ سے ایتھنال خریدنے پر رضامندی ظاہر کرکے ٹرمپ کے سامنے ’جھکاؤ‘اختیار کیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ای ۲۰؍پٹرول پر مسلسل زور دینے کے پیچھے ’پوشیدہ ایجنڈا‘ کارفرما ہے۔ سی جے پی کے چیف ترجمان سورَو داس نے کہا کہ سماجی کارکن سونم وانگچک آئندہ بھی تنظیم کے سرپرست (مینٹور) رہیں گے اور اہم معاملات میں ان سے مشورہ لیا جاتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’سونیترا پوار کب تک گونگی گڑیا بنی رہیں گی؟‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ تنظیم حالیہ نیٹ (NEET) پرچہ لیک اور دیگر امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کرے گی۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں حکومت کے نمائندوں سے بات چیت جاری ہے۔ داس نے کہا کہ ملک بھر میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے مظاہرین کو قانونی اور طبی امداد فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات کئےجا رہے ہیں۔ سی جے پی کی قیادت کے مطابق اجلاس میں حالیہ احتجاجی تحریک کا جائزہ، تنظیم کو نچلی سطح تک وسعت دینے اور مستقبل کے لائحۂ عمل کو حتمی شکل دینے پر غور کیا جائے گا۔ دپکے نے کہا، ’’نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کو ملک بھر سے بھرپور حمایت ملی۔ اس کے بعد ہماری ذمہ داری اور عوام کی توقعات دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس اجلاس میں تنظیم کی توسیع اور مستقبل کے ابتدائی روڈ میپ پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ‘‘سی جے پی کی کور کمیٹی کا اجلاس بعد ازاں شروع ہوگیا، جو جمعرات تک جاری رہے گا۔ دپکے نے کہا، ’’کل اجلاس کے فیصلوں سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ ‘‘اجلاس میں دپکے اور سورَو داس کے علاوہ آشوتوش رانکا، رتنا سنگھ اور دیگر نمائندے بھی شریک ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نتن گڈکری کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس کارکنان کا احتجاج

جھارکھنڈ جا کر طلبہ کی حمایت کریں گے
دپکے نے اعلان کیا کہ وہ جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کیلئے وہاں جائیں گے۔ رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں ۲۹؍ جولائی سے بڑی تعداد میں امیدوار غیر معینہ مدت کے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) اور دیگر بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات ریاست سے باہر کے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں پر مشتمل آزاد کمیٹی سے کرائی جائیں۔ اس حوالے سے دپکے نے کہا، ’’ہم ضرور جھارکھنڈ جائیں گے، طلبہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ان کے ہر جائز مطالبے کی حمایت کریں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۱۹؍ سے اب تک ۳۶؍ ممالک سے ۲۷۴؍ مفرور مجرموں کی وطن واپسی: مرکز

انتخابی سیاست میں فوری طور پر آنے کا کوئی ارادہ نہیں 
سی جے پی کی قیادت نے واضح کیا کہ فی الحال تنظیم انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتی بلکہ اس کی اولین ترجیح ایک مضبوط عوامی اور نچلی سطح کی تحریک کو فروغ دینا ہے۔ دپکے نے کہا، ’’اس اجلاس کا مقصد کاکروچ جنتا پارٹی کا ایجنڈا مرتب کرنا اور اس سماجی تحریک کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ تنظیم جین زی (Gen Z) سے بھی مشاورت کرے گی تاکہ نوجوانوں کی ترجیحات اور مسائل کو تحریک کا حصہ بنایا جا سکے۔ 
دپکے نے کہا، ’’ہمارے تمام کور ممبران، ترجمان اور وہ افراد جو احتجاجی تحریک کے انتظامات میں شامل تھے، اجلاس میں شریک ہوں گے۔ فی الحال ہمارا سیاسی جماعت بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اعضا عطیہ کرنے کے معاملے میں جنوبی ہند کی ریاستیں سب سے آگے، تمل ناڈو سر فہرست

یاد رہے کہ دپکے جون میں امریکہ سے ہندوستان واپس آئے تھے تاکہ نیٹ-یو جی (NEET-UG) پرچہ لیک کے خلاف تحریک کی قیادت کر سکیں۔ اس احتجاج میں ملک بھر سے نوجوان دہلی پہنچے اور امتحانی نظام میں اصلاحات اور اُس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ تحریک ملک بھر میں جین زی نوجوانوں میں مقبول ہوئی، جس کے بعد گزشتہ ہفتے دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سی جے پی کی احتجاجی مہم ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گئی، تاہم، کئی مقامات پر مظاہرے پُرتشدد ہوگئے۔ پولیس نے دہلی، ممبئی، کولکاتا اور بہار سمیت مختلف علاقوں میں طلبہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد مقدمات درج کئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK