Inquilab Logo Happiest Places to Work

حجاج کو دی گئی اسمارٹ واچ کے تعلق سے مرکزی حج کمیٹی کا عدم اطمینان بخش جواب

Updated: August 05, 2026, 1:30 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

آرٹی آئی رضاکار نے ۵؍ سوالات پوچھے۔ اطمینان نہ ہونےپراپیل کی تیاری ۔ حیرت انگیزطور پریہ بھی کہا گیا کہ حجاج کی جانب سے خاص شکایات موصول نہیں ہوئیں۔

Pilgrims worried about charging their smartwatches. (File photo)
اسمارٹ واچ کی چارجنگ کیلئے پریشان حجاج۔( فائل فوٹو)

حج۲۰۲۶ءمیں حجاج کو مہیا کردہ اسمارٹ واچ کے تعلق سے حج کمیٹی آف انڈیا کا آر ٹی آئی میں غیر اطمینان بخش جواب موصول ہوا ہے ۔ آر ٹی آئی رضاکار منصور عمر درویش نے اس تعلق سے ۵؍ سوالات پوچھے تھے۔ 

 ۵؍ سوالات کیا تھے؟ 

(۱)حجاج کودی گئی اسمارٹ واچ کی مکمل تفصیل فراہم کرائی جائے (۲) حج ۲۰۲۶ء میں اسمارٹ واچ حاصل کرنے والے حجاج کی کل تعداد کتنی تھی (۳) حج کمیٹی کی جانب سےمیسرز سیکیو انویشن پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کو ایک گھڑی کی قیمت ۵۱۰۰؍ روپے سے زائد ادا کی گئی ۔گھڑی کی وارنٹی، گارنٹی اوراس سے متعلق دیگرشرائط سے آگاہ کرایا جائے (۴) ناقص گھڑیوں کے تعلق سے حجاج کی کتنی شکایات موصول ہوئیں اور اگر حجاج نے متبادل فراہم کرنے کامطالبہ کیا تو کیا انہیں دوسری گھڑی مہیاکرائی گئی تھی(۵) اسمارٹ واچ کی خریداری سے حج کمیٹی آف انڈیا کو کل کتنا منافع ہوا ؟

یہ بھی پڑھئے: رکمنی بائی سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر کی سنگین غفلت

حج کمیٹی آف انڈیا کا جواب 

(۱) حج کے مقامات پرٹریکنگ ، صحت کی نگرانی اورہنگامی الرٹس، اسمارٹ واچ کی دیگر خصوصیات ذیل میںدرج کی جارہی ہیں(۲)جی پی ایس؍مقام کی نگرانی، ایس ایم ایس ؍ایمرجنسی الرٹس، پیجنگ سسٹم  اور بنیادی صحت کی نگرانی کا نظام ۔۱۲۳۶۴؍ حجاج کو گھڑیاں دی گئیں (۳) یہ خدمات حجاج کی حفاظت ، رہنمائی اورہنگامی حالات میں بہتررد عمل کویقینی بنانے کے لئے فراہم کی گئیں(۴) وارنٹی کی تفصیل اورمتعلقہ دیگر شرائط وضوابط متعلقہ ٹینڈر دستاویزات میں دستیاب ہیں جوحج کمیٹی آف انڈیا کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اسمارٹ واچ کے تعلق سے کچھ خاص شکایات موصول نہیں ہوئیں(۵) حجاج سے لی جانے والی رقم حج کمیٹی آف انڈیا کی ایکٹ ۲۰۰۲کی دفعہ ۱۰؍ کے تحت محض لاگت کے بقدر ہی رقم لی جاتی ہے۔ مزید اپیل ۳۰؍ دن کے اندر کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پروجیکٹس کےسبب منتقل ہوئےووٹر اپنےاصل مقام پر ایس آئی آر کا فارم پُرکرسکتےہیں

مزیداپیل کے ذریعے حقیقت جاننے کی کوشش 

جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آرٹی آئی رضاکار منصور عمر درویش کا کہنا ہے کہ وہ گھڑی جو کھلونا ثابت ہوئی، حجاج کے کام نہیں آئی، چارجنگ کاسنگین مسئلہ تھا،بیٹری بہت جلد ختم ہوجاتی تھی ، اس کے باوجود مجموعی طور پر۶۰؍ کروڑ روپے سے زائد حجاج کے کیوں ضائع کئے گئے؟ اس لئے آئندہ ایساکوئی بھی فیصلے کرنے یا حجاج پر تھوپنے سے قبل اس کی افادیت پر غور کیا جائے۔‘‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ یہ گھڑی بازار میں ۱۵۰۰؍ روپے سے بھی کم قیمت میں ملتی ہے، خود میںنے اپنے نواسوں کےلئے خریدی ہے مگر حج کمیٹی نے ۵۱۰۰؍ روپے سے زائد چارج کئے۔ اس طرح آخر کسے فائدہ پہنچایا گیا اورکیوں اسمارٹ واچ کا پورا معاملہ خفیہ رکھا گیا؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK