تنقید کی سزا، ورون گاندھی کیخلاف کارروائی

Updated: October 08, 2021, 8:50 AM IST | Mumtaz Alam Rizvi | new Delhi

اُن کے ساتھ ساتھ والدہ مینکا گاندھی کو بھی مجلس عاملہ سے باہر کا راستہ دکھادیا گیا ، دونوں کو کانگریس کی جانب سے شمولیت کی پیشکش

BJP MP Varun Gandhi.Picture:INN
بی جے پی اراکین پارلیمنٹ ورون گاندھی تصویر آئی این این

مودی حکومت میں مسلسل نظر انداز  کئے جانے والے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی اور مینکا گاندھی کواب  بی جے پی کی مجلس عاملہ سے بھی باہر کر دیا گیا ہے ۔ حالانکہ یہ پارٹی اعلیٰ کمان کا اپنا فیصلہ ہے تاہم کہا جا رہاہے کہ دونوں لیڈران کو لکھیم پور کھیری اور کسانوں کے مسائل پر مستقل آواز بلند کرنے کے سبب یہ سزا ملی ہے ۔ دوسری جانب بی جے پی کی نئی ٹیم میں مغربی بنگال سے مشہور اداکار متھن چکرورتی اور کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے مرکزی وزیر جیوترآدتیہ سندھیا کو جگہ دی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کی مجلس عاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی ، لال کرشن اڈوانی ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ، مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ ، وزیر داخلہ امیت شاہ ، مرکزی وزیر پیوش گوئل سمیت ۸۰؍ لیڈران کو جگہ دی گئی ہے ۔ 
   و رون گاندھی اور مینکا گاندھی سے پہلے ہی مودی حکومت نے فاصلہ بنا لیا تھا ۔ پہلے دورحکومت میں مینکا گاندھی کومودی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا لیکن ورون گاندھی کو دور رکھا گیا تھا ۔دوسرے دور حکومت میں مینکا گاندھی کو بھی مودی کابینہ سے دور کر دیا گیا ۔ مودی حکومت کے ذریعہ مستقل نظر انداز کئے جانے سے ورون گاندھی ناراض تھے تاہم وہ خاموش ہی تھے ۔گزشتہ چند مہینے سے اب وہ کھل کر آواز بلند کرنے لگے ہیں  ۔ اتر پردیش کے گنا کسانوں کے معاملہ میں انھوں نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھا تھا  جبکہ لکھیم  پور کھیری میں جب کسان ہلاک ہوئے تو ان کے لئے معاوضہ کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ایک کروڑ روپے کرنے کو کہا تھا اور یہ بھی کہا کہ اس واقعہ سے ملک کے عوام میں غم و غصہ ہے ۔
  ورون گاندھی کا لہجہ تقریباً اپوزیشن پارٹی کے لیڈران والا تھا جس کے بعد یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ اب بی جے پی کی جانب سے کاروائی ہونا طے ہے ۔ دوسری جانب کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کی ورون گاندھی سے  قربت سب کو معلوم ہے ۔دونوں آپس میں ملاقات بھی کرتے رہتے ہیں ۔ عام انتخابات کے دوران ورون گاندھی کبھی بھی راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے خلاف پرچار کرنے نہیں گئے اور اسی طرح پرینکا گاندھی نے بھی کبھی ورون گاندھی اور مینکا گاندھی کے خلاف پرچار  نہیں کیا  ۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ بھی قیاس آرائی شروع ہو گئی ہے کہ بہت ممکن ہے ورون گاندھی جلد ہی کانگریس میں شامل ہو جائیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK