Updated: July 14, 2026, 8:14 PM IST
| New Delhi
پنجابی گلوکارہ سنندا شرما نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے ایک مسلمان دوست نے انہیں قرآن مجید کی سورۂ النور (آیت ۲۶) کا مفہوم سمجھایا، جس نے رشتوں اور شخصیت کے بارے میں ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ سنندا کے مطابق اس آیت کا مفہوم صرف اچھے اور برے لوگوں کی تقسیم نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان عموماً اپنی فطرت، جذباتی خصوصیات اور رویوں سے ملتے جلتے افراد کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ صارفین نے اس بیان کو بین المذاہب احترام، خود احتسابی اور ذاتی اصلاح قرار دیا۔
سنندا شرما پوڈ کاسٹ کے دوران۔ تصویر: آئی این این
پنجابی موسیقی کی معروف گلوکارہ سنندا شرما کا ایک حالیہ انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے ایک مسلمان دوست سے ہونے والی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن مجید کی سورۂ النور کی آیت ۲۶؍ نے محبت، رشتوں اور انسانی شخصیت کے بارے میں ان کی سوچ کو ایک نئی سمت دی۔ سنندا شرما نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کے ایک قریبی مسلمان دوست نے انہیں قرآن کی اس تعلیم سے روشناس کرایا جس میں نیک مردوں اور نیک عورتوں کے باہمی تعلق کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے اس پیغام کو صرف ظاہری یا اخلاقی معیار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسانی نفسیات اور تعلقات کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ ۲۰۲۶ء: ہندوستان کے پانچوں طلبہ نے گولڈ میڈل جیت لئے
مذکورہ آیت کا ترجمہ: ’’ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پلید مرد پلید عورتوں کے لئے ہیں، اور (اسی طرح) پاک و طیب عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پاک و طیب مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں (سو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزگی و طہارت کو دیکھ کر خود سوچ لیتے کہ اللہ نے ان کے لئے زوجہ بھی کس قدر پاکیزہ و طیب بنائی ہوگی)، یہ (پاکیزہ لوگ) ان (تہمتوں) سے کلیتًا بری ہیں جو یہ (بدزبان) لوگ کہہ رہے ہیں، ان کے لئے (تو) بخشائش اور عزت و بزرگی والی عطا (مقدر ہو چکی) ہے (تم ان کی شان میں زبان درازی کر کے کیوں اپنا منہ کالا اور اپنی آخرت تباہ و برباد کرتے ہو)۔‘‘
سنندا نے کہا کہ ’’میرے دوست نے مجھے قرآن مجید سے ایک خوبصورت بات بتائی کہ اچھے لوگ اچھے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں۔‘‘ سنندا کے مطابق اس بات نے انہیں یہ احساس دلایا کہ انسان عموماً ایسے لوگوں کو اپنی زندگی میں جگہ دیتا ہے جو اس کی اپنی فطرت، جذباتی کیفیت اور رویوں سے کسی نہ کسی درجے میں مشابہت رکھتے ہوں۔ گلوکارہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ ’’کمزوریوں‘‘ کا ذکر کرتی ہیں تو اس سے ان کی مراد کسی شخص کا اخلاقی معیار یا کردار نہیں بلکہ وہ جذباتی اور برتاؤ کی خصوصیات ہیں جو انسانی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان کے بقول اگر کسی انسان میں بے وفائی، عدم اعتماد یا کسی اور قسم کی شخصی کمزوری موجود ہو تو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ اسی نوعیت کی خصوصیات رکھنے والے افراد کی طرف متوجہ ہو۔ سنندا شرما نے اس خیال کو خود احتسابی اور ذاتی اصلاح سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کامیاب اور متوازن تعلق کی بنیاد پہلے اپنی ذات کو بہتر بنانے میں ہے۔ ان کے مطابق زندگی میں آنے والی ناکامیاں، دل شکستگی اور مشکلات انسان کو زیادہ پختہ اور بہتر شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اور یہی سفر بالآخر اسے صحیح ساتھی تک پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان ہائی کورٹ: ہند پاک سرحد پر واقع مساجد، درگاہوں کا انہدام جائز
ان کے اس بیان کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ متعدد افراد نے بین المذاہب احترام، قرآن کی تعلیمات کے حوالے سے کھلے ذہن اور ذاتی اصلاح کے پیغام کو قابلِ تعریف قرار دیا، جبکہ کئی صارفین نے کہا کہ سنندا شرما نے اس موضوع کو مذہبی اختلاف سے بالاتر ہو کر انسانی نفسیات اور تعلقات کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ واضح رہے کہ سنندا شرما پنجابی موسیقی کی مقبول گلوکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں اور ’’جانی تیرا ناں‘‘، ’’دوجی وار پیار‘‘، ’’مورنی‘‘ اور ’’پاگل نہیں ہونا‘‘ جیسے گیتوں کی بدولت وسیع شہرت حاصل کر چکی ہیں۔ حالیہ پوڈکاسٹ میں دیا گیا ان کا یہ بیان اب سوشل میڈیا پر بین المذاہب ہم آہنگی، خود احتسابی اور مثبت انسانی اقدار کے حوالے سے جاری گفتگو کا اہم موضوع بن گیا ہے۔