• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاری محمد یونس ۴۵؍سال سے تراویح پڑھارہے ہیں

Updated: February 25, 2026, 11:02 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مظفرنگرسے تعلق رکھنے والے قاری صاحب نے امسال ۶؍دن میںقرآن پاک مکمل کیا ہے ۔ دورانِ گفتگو انہوں نے۲؍واقعات ایسے سنائے جنہیں اخبار کا ہرقاری ضرور پڑھے ۔

Hafiz And Qari Muhammad Yunus Chaudhary.Photo:INN
حافظ وقاری محمد یونس چودھری ۔تصویر:آئی این این
قاری محمد یونس چودھری ۴۵؍ سال سےتراویح پڑھارہے ہیں۔ ۱۶؍سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد سے آج تک تراویح پڑھانے کا معمول برقرار ہے۔۶۰؍ سالہ قاری محمد یونس چودھری کواپنے گاؤں مانڈی میں، جو مظفر نگر سے ۱۲؍کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، قاعدہ حافظ عظیم اللہ نے پڑھایا اورمخارج کی ادائیگی سکھائی ۔ حفظ قاری شرف الدین تاؤلی اور حافظ عبدالستار کلہیڑی کے پاس مکمل کرنے کے بعد ۱۹۸۲ءمیں پہلی تراویح میرٹھ کے مشہور قصبہ بڑوت کے پاس سِلانا گاؤں میں پڑھائی۔ دوسری محراب دہلی میں اور تیسری پپلیڑا (غازی آباد) میں سنائی تھی۔ ۱۹۸۵ءمیں اُن کے چچا اور تجوید وقرأت کے استاد قاری محمد ولی اللہ (سابق صدر شعبہ تجوید وقرأت مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ اور مدنی دارالعلوم کے بانی) تراویح پڑھانے کے لئےانہیں ممبئی لائے۔ ممبئی میں پہلی تراویح سانتاکروز میں حاجی غلام رسول پنجاب ڈیری والے کی رہائش گاہ شفیع منزل کی مسجد میں سنائی۔ اس کے بعد سانتا کروز( مغرب) اسٹیشن والی جامع مسجد میں سنائی اور یہاں ۱۹۹۱ء تک یہ معمول رہا۔ اپنے دَور کے مشہور بزرگ اور حضرت شیخ الاسلام کے اجل خلیفہ جو مجذوب صفت بھی تھے مولانا شاہ عبداللہ (گوپال گنج بہار)بھی رمضان اسی مسجد میں گزارتے تھے اور اپنے شیخ حضرت مدنی ؒکا بڑے والہانہ انداز میں تذکرہ کیا کرتے تھے۔ 
قاری محمد یونس ۱۹۹۲ء میں واکولہ جامع مسجد میں امام مقرر ہوئے اور۲۰۱۶ء تک یہاں بھی تراویح کا اہتمام جاری رہا۔ اسی دَورمیں ڈاکٹروں نے منع کیا کہ گلے میں خراش کے سبب احتیاط رکھیں ورنہ گلے کی نس کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہےاور آواز بند ہوسکتی ہے، مگر قرآن کریم کی برکت سے تراویح پڑھانے اور قیام اللیل میںقرآن کریم پڑھانے کا معمول جاری رہا۔ امامت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ۲۰۱۶ء سے سانتاکروز میں ہی ایک شناسا خورشید بھائی کے گھر پر کبھی۶؍ روزہ، کبھی ۱۰؍روزہ اور کبھی ۱۵؍ روزہ تراویح پڑھانے کا سلسلہ جاری ہے،اس دفعہ بھی ۶؍دن میںقرآن کریم مکمل کیا ۔ ان ۴۵؍ برسوں میں انہوں نے ہمیشہ تنہا پڑھایا ۔ اس کے علاوہ طویل عرصے سے اعتکاف اور اس دوران قیام اللیل میں بھی دو قرآن کریم سنانے کا معمول ہے۔ اس طرح۵۰؍ سے زائد محرابیں ہوچکی ہیں۔ انہیں یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ اپنے شیخ حافظ طیبؒ کو واکولہ جامع مسجد میں اعتکاف کے دوران دَور سنایا۔
 
 
قرآن کریم پختہ یاد کرنے کے تعلق سے انہوں نے اپنا ایک سبق آموز واقعہ سنایا۔ پپلیڑا (غازی آباد ) میں تیسری تراویح پڑھانے کے دوران ایک نابینا قاری سامع تھے۔ انہیں قرآن کریم بہترین یاد تھا اور ان کی شہرت اس بناء پر تھی کہ وہ کوئی غلطی جانے نہیں دیتے تھے۔ اگر سنانے والا لقمہ نہ لے تو وہ نیت توڑ کر شور مچانے لگتے تھے۔ بقول قاری محمد یونس چودھری ’’ان کا اس قدر خوف تھا کہ میں تراویح میں سنانے والا پارہ تیس تیس مرتبہ پڑھتاتھا ۔ میرے بعض حفاظ ساتھی کہتے تھے کہ تم تو سونے کی حالت میں بھی پڑھتے رہتے ہو۔ اس طرح نابینا حافظ کے انداز سماعت اور کوئی غلطی نہ جانے دینے کے خوف کے سبب قرآن کریم پختہ یاد کرنے میں بڑی مدد ملی۔ ‘‘ قاری صاحب کو اس کادوسرا فائدہ یہ ہوا کہ شب و روز محض قرآن کریم کی تلاوت کی برکت کا یہ مشاہدہ رہا کہ اس دوران کھانے پینے کے تعلق سے جن چیزوں کا دل میں خیال آتا تھا ، باری تعالیٰ اپنی مہربانی سے اسے فراہم کروادیتا تھا۔
 
 
قاری محمد یونس نے اسی طرح ایک دوسرا سبق آموز واقعہ یہ سنایا کہ میرے استاذ کے استاذ قاری غریب نوازؒ جنہوں نے کھار مرکز میںتقریبا ۴۰؍سال تراویح پڑھائی، ان سے مجھے ایک نسخہ یہ ملا کہ ممبئی میں قیام سے قبل جب ہم لوگ تراویح پڑھاکر ۲۷؍ ویں روزے کو وطن جانے کیلئے دہرہ دون ایکسپریس میں سفر کرتے تھے، اس دوران حسب ِ معمول قاری غریب نوازؒ ایک منزل تلاوت کرتے تھے۔کبھی میں کہہ دیتا کہ قاری صاحب، آرام کرلیجئے، ابھی توتراویح میں قرآن کریم سنایا گیا ہے تو وہ کہتے تھے کہ قرآن پڑھنے کی چیز ہے چھوڑنے کی نہیں، پڑھیں گے تو برقرار رہے گا ورنہ دلوں سے نکل جائے گا۔اس میں ان حفاظ کے لئے خاص پیغام ہے جو محض رمضان میں بکثرت تلاوت کرتے ہوئے تراویح پڑھانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔قاری محمد یونس چودھری مولانا سید حسین احمد مدنی ؒؒکے خلیفہ اوران کے شاگرد مولانا حافظ محمدطیبؒ کے مجاز اور جمعیۃ العلماء مہاراشٹر کے نائب خازن بھی ہیں۔ بزرگوں کے واقعات اور ان سے حاصل کردہ معمول کے مطابق ان کا بھی پورے سال تلاوت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ان کے خاندان میں۱۰؍حفاظ اور ۴؍ علماء ہیں ، ان کا بیٹا بھی حافظ ہے جبکہ بیٹیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK