• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختلف ممالک کی مشترکہ طور پر اسرائیل کی مذمت

Updated: February 24, 2026, 11:31 PM IST | Riyadh

سعودی عرب، فرانس ، ترکی ، برازیل اور انڈونیشیا سمیت ۲۱؍ ممالک نےمغربی کنارے میں صہیونی تسلط کے خلاف بیان جاری کیا

Israel is occupying new lands in the West Bank (file photo)
اسرائیل ، مغربی کنارے میں نئی زمینوں پر قبضہ کر رہا ہے ( فائل فوٹو)

سعودی عرب سمیت کئی اہم ممالک کے وزرائے خارجہ، نیز عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل اور اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) نے حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے کئے گئے ان فیصلوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے جن کے ذریعے مغربی کنارے پر  غیر قانونی اسرائیلی تسلط میں بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی ہے۔
 اطلاع کے مطابق سعودی عرب، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، مصر، اردن، لکسمبرگ، ناروے، ریاستِ فلسطین، پرتگال، قطر، سلووینیا، اسپین، سویڈن اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ و اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہان نے مشترکہ طور پر ان اسرائیلی فیصلوں کو مسترد کیا ہے جو مغربی کنارے پر غیر قانونی قبضے کو وسعت دیتے ہیں۔ ۱۹؍ ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی اراضی کو اسرائیل کی نام نہاد ’سرکاری اراضی‘ قرار دینے، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر میں تیزی لانے اور اسرائیلی انتظامیہ کے پنجے مضبوط کرنے جیسی تبدیلیوں کی مذمت کی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ غیر قانونی بستیاں اور ان کے استحکام کیلئے کئے گئے فیصلے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کی ۲۰۲۴ء کی مشاورتی رائے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
  ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے زمینی حقیقت بدلنے اور نا جائز الحاق کی طرف بڑھنے کا واضح راستہ ہیں، جو خطے میں امن و استحکام کی کوششوں بشمول غزہ سے متعلق ۲۰؍نکاتی منصوبے کو سبوتاژ کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل سے ان فیصلوں کی فوری واپسی اور مقبوضہ فلسطینی زمین کی قانونی و انتظامی حیثیت تبدیل کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔یہ فیصلے اسرائیلی آباد کاری کی پالیسی میں بے مثال تیزی اور ای ون منصوبے کی منظوری کے بعد سامنے آئے ہیں، جو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل پر براہ راست حملہ ہیں۔ وزرائے خارجہ نے ۱۹۶۷ء سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس کی آبادیاتی ساخت اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے الحاق کی کسی بھی شکل کی مخالفت کی۔
 مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، وزراء نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کا خاتمہ کرے اور ذمہ داروں کا احتساب کرے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور جبری بے دخلی کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق ٹھوس اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔بیان میں بیت المقدس اور اس سے ملحقہ مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا اور اس سلسلے میں ہاشمی (اردن) سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا۔ رمضان المبارک کے تناظر میں، بیت المقدس کی حیثیت کی بار بار خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی جو علاقائی استحکام کیلئے  خطرہ ہیں۔
وزراء نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اتھاریٹی کے روکے گئے ٹیکس محصولات فوری طور پر جاری کرے، جو پیرس پروٹوکول کے مطابق غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی  کیلئے ناگزیر ہیں۔ آخر میں وزراء نے عرب امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ۴؍ جون ۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر دو ریاستی حل کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں مستقل اور جامع امن کے حصول کے عزم کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK